بلوچ لاشوں سے خوف کی کہانی نئی نہیں
چند دن پہلے کینیڈا میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والی بلوچ رہنما کریمہ بلوچ کی میت کے ساتھ پاکستان میں جو سلوک کیا گیا اس پر شدید تنقید ہوئی۔ یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا ریاست اب لاشوں سے بھی ڈرنا شروع ہو گئی ہے؟
بلوچوں کی لاشوں ساتھ مذاق کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اپنے اوپر لگنے والے بہت سے الزامات کا جواب دینے کے لئے ”افواہ اور حقیقت“ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب ان کتابوں کی فہرست میں شامل ہے جو سرکاری سطح پر پابندی کا شکار ہیں۔ اس کتاب میں بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل کے بیٹے اسد اللہ مینگل کے قتل کا تفصیلی ذکر ہے۔
وزیراعظم بھٹو اس وقت کراچی میں تھے جب وزیر اعلیٰ غلام مصطفی جتوئی نے خبر دی کہ سردار عطا اللہ مینگل کے صاحبزادے کو بلخ شیر مزاری کے گھر سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ مسٹر جتوئی نے کہا کہ عینی شاہد نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ اسد مینگل اور اس کا دوست جوں ہی مزاری صاحب کے گھر سے نکلے تو گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ جب کار کو کھولا گیا تو کار کی اگلی نشست پر خون کے دھبے تھے لیکن اسداللہ اور اس کا دوست دونوں غائب تھے۔
اگلے روز وزیراعظم کو پشاور جانا تھا۔ انہوں نے جنرل ٹکا خان سے کہا کہ وہ انہیں پشاور میں ملیں۔ وزیراعظم سے مل کر ٹکا خان نے کہا کہ ایک بہت برا واقعہ پیش آیا ہے۔ ٹکا خان نے کہا کہ بلوچستان میں موجود فوجی کمان کا کہنا تھا کہ اگر اسداللہ مینگل اور اس کے ساتھی کو تحقیقات کے لیے گرفتار کر لیا جائے تو فوج کو مطلوبہ اطلاعات مل جائیں گی، جن کی بنیاد پر جھالاوان اور ساراوان میں ہونے والی شر انگیزی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے گا۔
فوج کا خیال تھا کہ اس مقصد کے لئے دونوں کو گرفتار کرنا بے حد ضروری تھا۔ اس لیے فوج نے منصوبہ تیار کیا کہ انہیں کراچی سے زبردستی اپنی کار میں ڈال کر کوئٹہ پہنچا دیا جائے جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جائے۔ لیکن فوجی یہ نہیں سوچ سکے کہ اسد اللہ مینگل اور اس کا دوست مسلح ہوں گے۔ جب انہوں نے کار سٹارٹ کی تو ان کا اسلحہ ان کے پاس تھا۔ جونہی ایس ایس جی کی گاڑی نے ان کی کار کو اوورٹیک کیا اور اسے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔
اس کے جواب میں اور ”صرف اور صرف اپنے دفاع کی خاطر“ ایس ایس جی ٹیم نے بھی جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ان میں سے ایک موقع پر یا دونوں موقع پر یا ان میں سے ایک ٹھٹھہ جاتے ہوئے راستے میں جاں بحق ہو گئے۔ ایس ایس جی ٹیم نے ان کی لاشوں کو کوئٹہ جانے والے راستے میں کہیں رات کے اندھیرے میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔
جنرل ٹکا خان کے بقول اس واقعہ میں جنرل ضیا الحق، جنرل ارباب جہاں زیب اور جنرل اکبر ملوث تھے۔ جب بھٹو صاحب نے جنرل ٹکا سے مقتولین کی نعشیں ورثا کے حوالے کرنے کو کہا تو انہوں نے جواب دیا: ”جرنیلوں کا کہنا ہے کہ انھیں اس معاملے کی کوئی خبر نہیں“ ۔ اس سے اگلے روز ضیاء الحق نے بھٹو سے ملاقات میں ”فوج کی عزت“ رکھنے کی خاطر خاموش رہنے کی درخواست کی۔ تب معلوم ہوا کہ ایک سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹے اور اس کے دوست کی لاشیں ورثا کے حوالے کرنے کی بجائے انہیں ٹھٹھہ کے قریب کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دیا گیا۔
جب پرویز مشرف کی دھمکی ”یہ 70ء کی دہائی نہیں تمہیں اس طرح ہِٹ کیا جائے گا کہ تم کو خبر بھی نہ ہونے پائے گی“ پر عمل کرتے ہوئے بلوچستان کے معروف سیاستدان اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا تو ان کی میت ساتھ بھی ایسا ہی سلوک روا رکھا گیا۔ تابوت لیے ہیلی کاپٹر ڈیرہ بگٹی پہنچا تو تابوت سیل بند تھا۔ چہرے والی جگہ شیشہ بھی نہیں لگایا گیا تھا۔ کوئی نہ دیکھ سکا کہ تابوت کے اندر کس کی میت ہے۔ کئی گھنٹوں سے حراست میں لیے گئے مولوی سے نماز جنازہ پڑھائی گئی، جنازے میں چند افراد شامل تھے۔ اخبار نویس چلاتے رہے ”چہرہ دکھاؤ“ مگر وسیع تر قومی مفاد میں یہ بہتر نہ سمجھا گیا۔ دوچار مزدوروں نے تابوت قبر میں اتارا۔ چاروں طرف سکیورٹی فورسز کا گھیرا تھا اور سڑکوں کو بکتر بند گاڑیوں سے بند کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح بلوچستان کے سرکردہ سیاست دان نواب خیر بخش مری کی میت کو بھی کراچی سے آبائی علاقے میں لا کر دفناتے ہوئے یہی رویہ روا رکھا گیا۔ بلوچستان میں طاقت کے استعمال نے پہلے ہی نفرت اور علیحدگی پسندی نے جنم لیا ہے۔ اب کم از کم نفرت کی اس آگ کو شہ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔


