ڈاکٹر ظفرمرزا،مینواور گیزروالی بلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ دودِنوں پر محیط زندگی کے لمحات کی کہانی ہے۔ہر لمحہ ایک تجربہ ہوتا ہے اور ہر تجربہ ادراک کا دروازہ کھولتاہے۔ڈاکٹر ظفر مرزانے TDEAکے ساتھ مل کربھوربن کے ٹھنڈے مقام پر ایک بڑے ہوٹل میں پانچ دِن کی محفل سجائی۔یہ محفل پوری کی پوری آگاہی پر مبنی تھی،ہرسیشن میں ملک کا اہم معالج بیماریوں سے متعلق آگاہی دیتا۔اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ جرنلسٹوں کو درست رپورٹنگ کی بابت بھی بتایا جاتا۔کسی بھی چینل یا اخبارکے رپورٹر اور مقامی نمائندہ کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر کو سامنے لانے کا پہلا ذریعہ یہی لوگ بنتے ہیں۔اگر کسی جگہ کوئی واقعہ رُونما ہوجاتا ہے تو اپنے اخبار اور چینل کے لیے وہاں کا نمائندہ ،اُس واقعہ پر مبنی رپورٹنگ کرکے ادارے کو بھیجتا ہے ،وہ خبر نشر اور شائع کی جاتی ہے۔اب یہ اُس نمائندہ اور رپورٹر پر ہے کہ اُس خبر کا زاویہ کیا بناتا ہے؟وہ اُس واقعہ کو سنسنی خیز بنا کر ،یا اُس کو اپنے تعصب ،مرضی کے مطابق ڈھال کر یا پھر پیشہ وارانہ صداقت کے طورپر پیش کرے،یہ اُس کی صوابدید پر ہوتا ہے۔

وہ نمائندہ اور رپورٹر واقعہ کے رُونما ہونے پر جو خبر دے گا،وہی خبر شروع سے آخر تک گردش کرتی رہے گی۔اگر اُس نے خبر سچ اور حقیقت پر مبنی نہیں بنائی تو اِس کے سماجی سطح پر بہت نقصانات ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں شعبہ صحافت کا بھی امیج داغدار ہوتا ہے ،اس لیے مقامی نمائندوں اور رپورٹرز کی تربیت ازحد ضروری ہے ،مگر ہمارے ہاں اس پہلو پر توجہ کم دی جاتی ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا جو کہ ڈبلیو ایچ او میں اہم ذمہ داریاں چھوڑ کر پاکستان آئے اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے صحت قرار پائے ،مگر یہاں کی اندرونی سازشیں اور نظام کی خرابیوں کی بِنا پر اپنی خدمات جاری نہ رکھ سکے تو بعض صحافیوں اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کی جانب سے اِن پر الزامات لگائے گئے ،ایک بڑا الزام یہ تھا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کروڑوں روپے کماکر ملک چھوڑ چکے ہیں۔

مگر یہ ملک چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھے کہ اِنھوں نے کروڑوں نہیں کمائے ،یہ تو عزت کمانے اور خدمات دینے کے لیے یہاں آئے تھے۔اب اگر کسی صحافی اور اپوزیشن رہنمانے اِن سے ملنا ہوتو ٹیکسلاکے کسی گائوں سے اِن کا پتا پوچھ سکتا ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے تہیہ کررکھا ہے کہ ملک میں نئے آئیڈیاز پر کام کرتے رہیں گے اور آگاہی کی مہم کو فروغ دیتے رہیں گے ۔مذکورہ سیمینار اس سلسلے کی ایک کڑی تھا،جس میں ملک بھر سے اہم ڈاکٹرزاور ہیلتھ کے ماہرین نے شرکت کی ،علاوہ ازیں ملک کے چاروں صوبوں سے ہیلتھ رپورٹرز کو خصوصی طورپر مدعوکیا گیا ۔

مجھے اس اہم ایونٹ کے دودِن کے سیشنز میں شرکت کا موقع ملا۔بھوربن ،وہ علاقہ ہے ،جہاں کے گھنے درختوں کے بیچوں بیچ میرے پائوں کے نشانات ،یادوں کی صور ت ثبت ہیں۔مَیں نے دوہزار چھے سے آٹھ تک یہاں کے ایک کالج میں مزدوری کی تھی ،مزدوری کے وقفہ کے دوران ،میرا زیادہ وقت پیڑوں کے ساتھ گزرتا۔جھیکا گلی سے کشمیر پوائنٹ تک،جھیکا گلی سے بھوربن تک اور جھیکا گلی سے لوئرٹوپہ تک پیدل چلنا ایک مشغلہ تھا۔سردیوں کے دِنوں میں یہاں کوئی بشر دکھائی نہ دیتا تھا۔

مَیں اپنی یادوں کو تازہ کرنے اس ایونٹ میں شریک ہونے کی غرض سے چلا گیا،مگر اب تو سارا منظر ہی بدل چکا تھا،جھیکا گلی سے بھوربن تک سڑک دونوں اطراف سے گھنے درختوں میں گھِری ہوئی ہوتی تھی،اب جگہ جگہ کھانے پینے کی دُکانیں کھل چکی ہیں۔ سڑک بہت ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکارہے،جس کے کنارے گندگی سے اَٹے پڑے ہیں۔مَیں وہاں سے دودِن بعد ہی بھاگ آیا۔مگر ٹھہریںوہاں سے بھاگ آنے کی وجہ محض ،بھوربن کا منظر نامہ بدل جانا ہی نہیں تھا۔مجھے ہوٹل کے آرام دِہ کمرے میں رات کو نیند ہی نہیں آتی تھی۔

ساری رات کروٹ بدلتے گزرجاتی ،تھوڑی دیر کے لیے نیند آنکھوں میں اُترتی تو ڈرائونے اورٹھنڈے خواب بھی ہمراہ لیے آتی۔مَیں گھر میں چارپائی پر سوتا ہوں اور مینو (بیٹی)میرے ساتھ سوتی ہے۔مینو اور مَیں ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کر سوتے ہیں تو صبح آنکھ کھلتی ہے۔آنکھ کھلنے کے ساتھ ہی ،مَیں مینو کو دودھ بنا کر دیتا ہوں ،وہ دودھ پیتی ہے تو مَیں کچن کا بیرونی دروازہ کھولتا ہوں اور باہر لگے گیز رپر نظر ڈالتا ہوں ،دروازہ کھلنے کی آواز سے گیزر کے اُوپر بیٹھی بلی جاگ جاتی ہے اورساتھ کی دیوار پر چلی جاتی ہے ۔

دیوار کو ایک پودے نے اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے،مَیں یہ دیکھ کر واپس ہولیتا ہے ،مجھے اندازہ ہوجاتا ہے کہ گیزر آن ہے اور رات کو گیس کی بندش نہیں ہوئی ،اگر کسی روز بلی نظر نہ آئے تو مَیں سمجھ جاتا ہوں کہ گیزر بند ہوچکا ہے ،مَیں اُس کو آن کردیتا ہوں۔اِن دِنوں چونکہ شدید پالے پڑنے کے دِن ہیں تو مَیںرات کے پچھلے پہر اُٹھ کر ایک نظر گیزر پر ڈالتا ہوں کہ اِس کا چولھا بجھ تو نہیں چکا ،اگر بجھ چکا ہو تو گیزر کو آن کردیتا ہوںتاکہ بلی کو ٹھنڈ نہ لگے اور صبح سویرے نہاتے ہوئے ہمارے جسم ٹھنڈے پانی کی اذیت برداشت نہ کریں۔

مَیں جس دِن ایونٹ کو ادھورا چھوڑ کر گھر لوٹاشام اُتر چکی تھی،سب سے پہلے مینو نے استقبال کیا،مجھے بتایا گیا کہ دو دِن سے یہ ٹھیک طرح سو نہیں پا ئی ، بعدازاں گیزر پر جاکر نظر ڈالی جس کا چولھا دودِن سے بجھا پڑا تھا،میں نے گیزر آن کیا ۔رات کا کھانا کھا کر بستر پر پہنچا تو نیند آنکھوں میں اُترتی چلی گئی ۔صبح دَم بیدار ہوکر مینو کے لیے دودھ بنایا،مینو نے دودھ پینا شروع کیا تو مَیں کچن کی طرف کھینچاچلا گیا،دروازہ کھولاتو سامنے گیزر کے اُوپر بلی کو موجودپایا۔

بلی نے میری طرف دیکھا اور دیکھتی چلی گئی۔مجھے اُس کی آنکھوں سے محسوس ہوئی کہ جیسے پوچھ رہی ہو’’دودِن کہا ں تھے؟‘‘مَیں واپس پلٹا اور دوبارہ بستر پر آکر لیٹ گیا۔اُدھر بھوربن کے پیڑمجھے اپنی طرف بلا رہے تھے ،وہاں جانے کے لیے موسم کے بدلنے کا انتظار ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •