قندیل ، نامکمل تحقیقات ، کھلنڈرا مفتی اور کرایے کا قاتل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"2016 بھی آخری سانسوں کی جانب بڑھ رہا ہے، اس سال بھی اچھی خبریں کم ہی رہیں بری خبروں کا ذکر کروں تو ایک ایسی خبر جسے کور کرتے ہوئے مجھے ایسا ضرور محسوس ہوا کہ شاید میں جذباتی ہو رہی ہوں۔ وجہ میرا اپنا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ خیر خبر بھی کم بڑی نہ تھی۔ 16 جولائی کی صبح دفتر میں موجود تھی کہ موبائل پر ایک ییغام موصول ہوا، قندیل بلوچ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ خبر کی نزاکت سمجھتے ہیڈ آفس میں اطلاع دی اور خود قندیل بلوچ کی رہائش گاہ پر روانہ ہو گئی۔ پولیس نے گھر کو سیل کر رکھا تھا اور کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ایک پولیس آفیسر قندیل کے گھر سے باہر آئے اور اس قتل کو ابتدائی تفتیش میں غیرت کا قتل قرار دیا۔ چند گھنٹوں بعد قندیل کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لئے اسپتال روانہ کر دیا گیا اور اس کے والدین کو ایف آئی آر کے لئے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ قندیل قتل کی ایف آئی آر، انتہائی عجلت میں درج ہوئی۔ والد مدعی، اور قندیل کے دونوں بھائی وسیم مرکزی ملزم نامزد تھا جب کہ دوسرا بھائی حساس ادارے کا ملازم اسلم شاہین بھی نامزد ملزم، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں قتل کی تحقیقات کے دوران موقع پر موجود ان افراد کو تب تک حراست میں رکھا جاتا ہے جب تک تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں لیکن یہاں ایسا کچھ نہ ہوا۔

میں نے قندیل کو پہلی بار، براہ راست جب دیکھا تو وہ سفید چادر میں لپٹی تھی وہیں سے اندازہ لگایا کہ قندیل کمزور خاتون نہ تھی اسے قتل کرنا زیادہ آسان نہ تھا۔ دن سے رات ہوئی، تو قندیل کے بھائی وسیم نے پولیس کو دریائے چناب کے قریب بلا کر گرفتاری پیش کر دی، لیکن پولیس نے از خود گرفتاری کو اپنی کارکردگی میں ہی شمار کیا۔ اگلے روز اتوار تھا، وسیم کو اسپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کئے جانا تھا میں بھی وہاں پنہچ گئی، عدالت میں وسیم نے وہی بیان دیا جو عموماً غیرت پر قتل کئے جانے والے ملزم کا ہوتا ہے۔ کوئی شرمندگی نہیں، اس نے یہ قتل تنہا کیا اور نشہ آور ایک گولی دودھ میں ملا کر سب گھر والوں کو دودھ پلا کر سلا دیا۔ کمرہ عدالت میں، وسیم کی جسمانی ساخت کو دیکھ کر یہ سوچ رہی تھی کہ یہ قتل اس اکیلے شخص کے بس سے باہر ہے۔ عدالت سے باہر آتے ہوئے وسیم سے سوال کر ڈالا کہ \"\"تمھارے ساتھ اور بھی کوئی ضرور تھا وہ کون تھا، اس نے پھر وہی جواب دیا، میں اکیلا تھا۔ اسی روز قندیل کی آبائی علاقہ شاہ صدر الدین میں تدفین بھی کر دی گئی۔ سہ پہر میں ہونے والے نماز جنازہ کی دو صفوں میں شریک ہونے والے لوگ یقیناً بہت بہادر تھے۔ معمول کی کوریج سے فارغ ہوئی تو اگلی صبح قندیل بلوچ کے سیل شدہ گھر پنہچی، گھر کی بیٹھک کا دروازہ کھلا تھا اور ایک پولیس کانسٹیبل ڈیوٹی پر تھا۔ اس سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ قندیل کے والدین بھی گھر میں موجود ہیں۔ یہ جان کر مجھے حیرت ضرور ہوئی، اتنی جلدی وہ یہاں واپس، لیکن میڈیا کیمرے کے ساتھ اندر نہیں جا سکتا۔ میں نے قندیل کے والدین سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو پولیس سے اجازت مل گئی۔ گھر میں داخل ہوئی تو مفلسی، بے بسی اور خون آلود روئی اس کمرے کے باہر تھی جہاں قندیل کی میت رکھی تھی۔ سیڑھیوں میں کانچ کی ٹوٹی چوڑیوں کے ٹکڑے مجھے اوپر جانے کا راستہ بتا رہے تھے۔ بالائی کمرے میں پنہچی تو بستر کی چادر پر پڑی سلوٹوں پر مزاحمت دکھ رہی تھی اور قریب کالے رنگ کا بے ترتیب جوتا پڑا تھا۔ قندیل کی والدہ سے سوال کیا، یہ جوتا کس کا ہے ؟ جواب آیا قندیل کا ہے، وہ اسی بستر پر سوتی تھی۔ قندیل کی والدہ کی آنکھوں میں بیٹی کے قتل کا دکھ دور تک دکھائی نہ دیا البتہ معذور والد اس یاد میں آنسوؤں سے رو رہا تھا کہ قندیل اس کی مصنوعی ٹانگ لگوانے ملتان آئی ہوئی تھی۔ میں نے قندیل کی والدہ سے پوچھا آپ کی بیٹی کا قاتل کون ہے، جواب میں اس نے کہا \” مفتی عبدالقوی \” اس کے ساتھ ویڈیو سامنے آنے کے بعد وسیم نے قندیل کو قتل کرنے کا پلان کیا تھا۔

کون سے کمرے میں قندیل قتل ہوئی، والدہ نے کہا ہم سب کو وسیم نے دودھ پلایا، ہم چھت پر سو گئے تھے، ہمیں نہیں پتہ۔ میت نیچے والے کمرے میں تھی، تو سیڑھیوں میں چوڑیاں کس کی ٹوٹی ہوئیں ہیں میرے اس سوال پر قندیل کی والدہ کچھ گھبرا گئی تھیں۔ گھبراہٹ میں جواب دیا، قندیل کے قتل کی تفتیش کے دوران پولیس نے مجھ سے کہا تھا کہ اپنی چوڑیاں اتارو، تب ٹوٹیں تھیں لیکن یہ بات سوچنے کی تھی اگر \"\"   واقعی ایسا ہوا تھا تو چوڑیاں سیڑھیوں، صحن میں بکھری ہوئی کیوں تھیں، پولیس نے والدہ کی چوڑیاں کیوں اتروائیں۔ ہو سکتا ہے قندیل کو بالائی کمرے میں قتل کر کے نیچے کمرے میں لایا گیا اور اس میں بیٹے کی مدد کرتے ہوئے والدہ کی چوڑیاں ٹوٹ گئیں۔ قندیل کی والدہ سے میں نے آخری سوال کیا۔ اپنی بیٹی کے قتل پر آپ پولیس سے کیا امید رکھتی ہیں جس پر وہ بولیں قندیل کراچی میں رہتی تھی وہاں اس کا سامان ہے اور میرے خیال سے گاڑی بھی، ہمیں وہ دلوائی جائے۔ جس کمرے میں اس کی میت تھی وہاں بھی کچھ غیر ملکی کرنسی اور اس کے پرس میں سونے کی بالیاں موجود ہیں وہ بھی دی جائیں۔ ہم اس لئے یہاں بیٹھے ہیں کہیں پولیس یہ سب اپنے ساتھ نہ لے جائے۔ انصاف کی یا تو انہیں امید نہیں، یا وہ چاہتی نہیں تھیں۔ کچھ قیمتی اشیاء تھیں جو واپس لینے کی وہ خواہش مند تھیں تاہم والد کی جانب سے ایسا کوئی جملہ سامنے نہ آیا جس سے بے حسی کا اندازہ ہو۔ میں نے مزید جاننے کے لئے قندیل کے ایک پڑوسی سے رابطہ کیا تو ایک اور انکشاف ہوا کہ جس رات قندیل قتل ہوئی ایک داڑھی والا شخص بار بار گلی میں چکر کاٹ رہا تھا اس دوران اس نے قندیل کے گھر کی گلی میں، کھلنے والی کھڑکی میں بھی کئی بار جھانکنا اور پھر کچھ دیر بعد گھر میں داخل ہو گیا۔ وہ شخص حق نواز تھا جس نے قندیل کو قتل کرنے میں وسیم کی مدد کی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی یہ ثابت ہوا تھا کہ ایک شخص نے \"\"قندیل کی ٹانگیں پکڑیں اور ایک نے گلا دبایا، پھر اس قتل کے چار سے پانچ روز بعد ہی حق نواز نے خود گرفتاری بھی دی۔ پولی گرافک ٹیسٹ رپورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ چند روز بعد میرا قندیل کے آبائی شہر ڈیرہ غازی خان کے قصبہ شاہ صدر دین جانا ہوا۔ ایک مقامی شخص کو ساتھ لیا اور قبر پر پنہچے تو اچانک ایک شخص قندیل کی قبر پر پنہچ گیا۔ ہاتھوں میں پکڑی ٹوکری میں گلاب کی خشک پتیاں تھیں جو قبر پر نچھاور کیں، قبر کو سیلوٹ کیا اور پاکستانی جھنڈا قبر پر لگا کر رخصت ہو گیا۔ ایسا لگا جیسے قبر پر آنے جانے والے افراد پر نگاہ رکھنے کے لئے یہ شخص ہر بار ایسا ہی کچھ کرتا ہوگا۔ ویسے بھی قندیل کو اچھے لفظوں میں یاد کرنے والے لوگ اتنے کم ہیں تو سیلوٹ، وہ بھی اس معاشرے میں جسے بری عورت کہہ کر قتل کیا گیا ہو۔

قندیل کی نماز جنازہ کی ادائیگی اہل سنت جبکہ تدفین اہل تشیع قبرستان میں کی گئی، تھانہ شاہ صدر الدین گئی، وہاں بھی قندیل کے بھائی وسیم کا سابقہ ریکارڈ مل گیا جو اپریل 2016ء کا تھا۔ ایف آئی آر کا مرکزی ملزم وسیم ماہڑا بلوچ تھا جس نے اپنے دو دوستوں کے ساتھ مل کر ایک 16 سالہ لڑکے کے ساتھ بدفعلی کی تھی۔ متاثرہ لڑکے سے ملی تو اس نے بھی اپنے ملزم کا نام قندیل بلوچ کا بھائی وسیم بتایا۔ وسیم اسی کیس پر گرفتاری کے خوف سے قندیل کے ملتان والے کرایے کے گھر میں اکثر پناہ لیتا تھا۔ علاقہ کے لوگوں سے بات چیت ہوئی تو فوزیہ عظیم کو \"\"کوئی نہ جانتا تھا تاہم اب قندیل بلوچ کو سب پہچان گئے تھے۔ ہر زبان پر یہ جملہ ضرور تھا۔ کون سی غیرت، غیرت تھی تو بہن کو گھر بٹھا دیتے اور عزت سے اسے کھلاتے، قتل تو ناجائز ہے۔ یہ اس قصبے کی ان پڑھ اور بلوچ عوام کے تاثرات تھے۔ قاتل تو وہی بھائی ہے اس کا جس کو پہلے اس نے موبائل کی دوکان بنا کر دی اور پھر پیسے جمع کر کے وسیم کے لئے سعودی عرب کا ویزا منگوایا تھا۔ گھر کچا تھا لیکن چار دیواری پکی بھی قندیل نے ہی کروا رکھی تھی۔ قندیل کے خاندان والے بھی خود کو ماہڑا بلوچ کہتے ہیں۔

قندیل کی بہن نے اس کے بچپن کی یادیں تازہ کر دیں۔ بتانے لگی اسے افسر بننا تھا، ہم کھیتوں میں کام کرنے جایا کرتی تھیں لیکن وہ کہتی تھی یہ کام میرا نہیں۔ پھر کم عمری میں شادی ہوئی، بیٹا ہوا، اس دوران وہ ہمیں اکثر بتاتی تھی کہ شوہر تشدد کرتا ہے۔ ہم نے جھوٹ سمجھا، کفن پہنانے سے پہلے نہلایا تو دیکھا جسم پر واقعی بجلی کے کرنٹ کے نشانات تھے۔ ہوائی جہاز کے سفر کرتی تھی اب۔ اکثر کہتی تھی ایک سال بعد اپنا گھر خرید کر سب چھوڑ دوں گی۔ عید پر سب بھابھیوں اور بہنوں کو 20، 20 ہزار عیدی دی۔

شاہ صدر الدین سے ہی معلوم ہوا، جس ٹیکسی کار میں وسیم اور حق نواز قندیل کو قتل کرنے گئے تھے وہ کار مفتی عبدالقوی کے ننھیالی \"\"رشتہ دار باسط کی ہے اور وہی اس کار کا ڈرائیور بھی تھا۔ شاہ صدر الدین میں مفتی عبدالقوی کے بہت سے پیروکار ہیں اور جس قریشی خاندان سے ان کا تعلق ہے وہ وہیں آباد ہے۔ ان کا اثر و رسوخ آج بھی شاہ صدر الدین میں قائم ہے۔ باسط نے بھی کار سمیت پولیس کو خود گرفتاری دی تھی۔ یہ کیس ہائی پروفائل اہمیت تو اختیار کر گیا۔ کئی تفتیشی افسر تبدیل ہوئے لیکن اب تک پولیس کی تحقیقات نامکمل ہیں اور رہے گی بھی۔ عدالت میں اکثر اوقات اس کیس کی پیشی ہو جاتی ہے۔ وسیم اور حق نواز جیل میں ہیں جب کہ کار ڈرائیور باسط ضمانت پر رہا ہے۔ والدین نے قتل کے روز ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے بڑے بیٹے اسلم شاہین کا نام لکھوایا تو تیسرے روز خود ہی مکر گئے کہ یہ قتل اس کی ایما پر نہیں ہوا ہم نے جذباتی ہو کر اسے نامزد کر دیا۔ پولیس نے کسی کو بھی گرفتارکرنے کی زحمت خود نہ کی، ملزم خود کو پیش کر کے گرفتاریاں دیتے رہے۔ ایک تفتیش ہی ان کے ذمہ تھی وہ بھی ادھوری رہی۔ مفتی عبدالقوی کو کئی بار انکوائری کے لئے پولیس اسٹیشن بلانے کا ارادہ کیا گیا لیکن پھر سی پی او صاحب خود ان کے آستانے پر حاضر ہو جاتے۔ ایسے میں ان کا موبائل ڈیٹا کلئیر ہی قرار دیا جانا تھا۔ مفتی صاحب باسط کو رشتہ دار ماننے سے بھی انکاری ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اس کیس میں اگر انصاف ہوا تو ان کے ساتھ ہی ہو گا۔

اس کیس میں جو لوگ اتنی سی دل چسپی بھی رکھتے ہیں کہ کم سے کم ملزم کو سزا ہو تو شاید انہیں مایوسی ہی ہو گی۔ بہت کم عرصہ میں والد ہی قاتل کو بالآخر معاف کر دے گا کیونکہ اگر قندیل کی محبت میں جذباتی ہو کر وہ اسلم شاہین کو نامزد کر سکتا ہے اور ہوش آنے پر نام خارج کرنے کی درخواست پولیس کو دے سکتا ہے تو وسیم کی محبت کے جذبات بھی بطور والد بھڑک سکتے ہیں۔ ایف آئی آر میں ترمیم کے بعد یہ دفعہ تو شامل کی گئی تھی کہ مدعی کے پاس نامزد ملزموں کو معاف کرنے کا اختیار نہیں، لیکن پاکستان میں ابھی یہ قوانین اتنے موثر نہیں ہو سکے کہ ان کا اطلاق بھی ہو جائے۔ رہی بات قاتل کی، وہ یہ جانتا تھا کہ قندیل کیا کام کرتی ہے اور اس کی ساری آمدنی اپنے بہن، بھائیوں، والدین پر ہی کسی نہ کسی طرح خرچ ہوتی تھی۔ سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز اور ایک پیج بھی موجود تھا۔

مفتی عبدالقوی کی ویڈیو پر غصہ آنا اور قتل کا ارادہ کرنا حقیقت سے ذرا دور ہے۔ تاہم رویت ہلال کمیٹی کی ممبر شپ منسوخ ہونے سمیت بہت سے عوامل ایسے ضرور ہیں جن سے کھلنڈرے مفتی صاحب کی ساکھ کو نقصان ضرور پنہچا۔ یا تو وہ واقعی اس قتل میں ملوث ہیں یا پھر کوئی بہت بڑا دشمن مفتی صاحب نے پال رکھا ہے جس نے پہلے قندیل کو ان کے خلاف استعمال کیا، ان کی رویت ہلال کمیٹی سے رکنیت منسوخ کروائی اور پھر قندیل کے بھائی کو ہی کرایے کا قاتل بنا کر اتنی رقم دے دی کہ وہ اپنی اس بہن کا قاتل بن گیا جو گھر والوں کی پالن ہار تھی۔ قاتل بھی وہ چنا جس کی ہدف تک رسائی بے حد آسان تھی اور اسے اس روز ملتان تک لانے والا بھی مفتی صاحب کا ہی رشتہ دار۔ سخت گیر بھائی نے اس روز دودھ بھی اپنے ہاتھ سے بنا ڈالا، ورنہ جس علاقہ سے ان کا تعلق ہے وہاں کے مرد گھر والوں کے لئے دودھ بنانا تو درکنار اپنا حقہ بھی گھر کی خواتین سے بنواتے ہیں۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ قندیل کی والدہ نے ہی نشہ آور دودھ بنانے میں بیٹے کا ہاتھ بٹایا ہو، لیکن ایک نیند کی گولی اور اتنا نشہ، کہ قتل ہوتا رہے اور اولاد کی چیخوں کی آواز 3، ساڑھے 3 مرلے کے مکان میں ماں، باپ کے کانوں میں نہ پنہچے۔ قتل کے بعد فرار ہوتے ہوئے بھی وسیم نے قندیل کے موبائل اور پیسوں کو نہ چھوڑا اور موبائل فروخت کرنےکی کوشش بھی کی۔ قتل کے اس واقعہ پر بہت سوں نے پہلا شبہ مفتی عبدالقوی پر ہی ظاہر کیا، اب پس پردہ قاتل جو بھی ہے، اتنا قائم ضرور ہے کہ تفتیش مکمل نہیں ہونے دیتا اور وہ زیادہ دیر کرایے کے قاتل کو جیل کی سلاخوں میں بند رہنے بھی نہیں دے گا۔\"\"

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میمونہ سعید

میمونہ سعید جیو نیوز سے وابستہ ہیں۔ وہ ملتان میں صحافت کے فرائص سرانجام دیتی ہیں ۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف اوکلوہوما کی فیلو بھی رہ چکی ہیں ۔

maimoona-saeed has 9 posts and counting.See all posts by maimoona-saeed

Leave a Reply