آن۔لائن مشاعرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک چیلے نے پوچھا ”حکیم جی! اڑنا نہیں آتا مگر اڑنا بھی ہے، کیا کریں“ ۔ اس پر حکیم چغد نے اپنے کٹے ہوئے پروں کو سمیٹا اور گول گول آنکھیں کیمرے میں گھسا کر غصے سے بولے ”اسے تو بند کر نالائق، کیا آن لائن اڑے گا“

ہم نے بھی کیا بے پر کی اڑانا شروع کردی۔ بات ہو رہی تھی مشاعرے کی۔ آن لائن مشاعرے ہونا نیک فال ہے مگر ایسا بھی کیا کہ سبھی فال نکالنا شروع کردیں۔ مشاعرے تو ہونے چاہئیں مگر مشاعرے کی طرح ہونے چاہئیں۔ ورنہ کس حکیم نے کہا ہے کہ مشاعرہ ”برپا“ کرنا ہر بالغ مرد و عورت پر فرض ہے۔ انٹرنیٹ پر ادبی محفلیں تو پہلے بھی ہوتی تھیں مگر جب وبا پھیلی ہو اور عوام بھی احتیاط نہ کریں تو ماسک بیچارہ کیا کرے۔ خرابی تو غذا کو بھی زہر کر دیتی ہے، پھر بسیارخوری یا بسیار خوانی سے آن لائن بدہضمی کیوں نہ ہو اور مشاعرے آف لائن بلکہ آف ٹریک کیسے نہ ہوں۔

نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے مسائل آتے ہیں، لہٰذا مشاعرے کے معاملات بھی نئے ہوں گے مگر بنیادی اصول، تہذیب اور آداب پرانے وہی ہیں، ان کا ”میوٹ“ بٹن نہ دبائیں۔ انٹرنیٹ کو ”سائبر اسپیس“ کہتے ہیں، اب یاروں کو کون سمجھائے کہ ”اسپیس“ کی رعایت سے شعری وزن خلا جیسا ہونا ضروری نہیں۔ کم سے کم بے وزنی تو نہ ہو کہ شعر سن کر بیت الخلا بھاگنا پڑے۔ آن لائن مشاعروں نے چائے سموسے کیا ختم کیے، ظروف بھی غائب ہو گئے۔ چمچے تو ظرف میں شمار ہوتے نہیں، تو کیا کریں، کیا کم ظرفی کا احساس کم کرنے کے لیے ٹی وی کی طرح خالی کپ سجانا شروع کردیں؟

وبا سے پہلے بھی اور ہی وبا تھی۔ مشاعرے میں مہمان اپنا تعارف خود نہیں کراتا تھا، جیسے یہ بھی میزبان کی ذمہ داری ہو۔ صدارتی تقریر کے بعد کسی تقریر یا کلام کی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔ اور تو اور، بیاض میں وزن کی کمی گویا صدر کی نا اہلی کی قرارداد ہو جایا کرتی تھی۔ بھئی صدارت کا وزن سے کیا تعلق۔ صدر ہلکا پھلکا ہو سکتا ہے تو پھر وزن پورا ہونے کا تقاضا کیسا۔ مگر اب علم، صنعت اور ڈاکٹریٹوں کے امکانات کا ہنگامہ خیز دور ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بہتوں کو صدارت کا ڈگری دار کر دیا ہے۔

اس کے نتیجے میں کچھ مظلوموں کو سب کا کلام سننا پڑ جاتا ہے اور یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ یہ مشق ستم کہیں پلڑے سنبھالنا نہ سکھا دے۔ اگرچہ تلمیذالرحمٰن صفت شخصیات کو اس کی ضرورت تو نہیں ہے مگر سیکھ جانے کا خطرہ کوئی معمولی خطرہ تو نہیں، سو اس کا بھی توڑ کر لیا گیا ہے۔ جی ہاں، اوپن ہاؤس مشاعرے۔ ہر جبر سے آزاد اور امکانات سے معمور، جہاں جوگیوں کے لنگر میں بنی نوع انسان اپنا سنانے کے بعد وقت برباد کرنے کی بداخلاقی پہ مجبور نہیں۔ فقیر کی دعا سے آنا جانا لگا رہتا ہے اور ایوان صدر سے کسی بھی لمحے کشف الہی کی آخری ٹویٹ آ سکتی ہے۔ رہے نام اللہ کا۔

پہچان کا مسئلہ بہت پرانا ہے مگر اس وبائی کیفیت میں ماسک کے پیچھے صدر کی تو چھوڑیں، بندر روڈ کی بھی پہچان مشکل ہو گئی ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا کون سی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔ خود صدر کو پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے تلے دندان ساز کی کرسی دبی ہوئی ہے یا صدارت کی۔ تقریر دانتوں کی صفائی پہ کرنی ہے یا حکومت کی۔ کیڑا دانتوں سے نکالنا ہے یا صفوں سے۔

مکاشفات کے اس دور میں لوگ درویشوں کو انھیں کے مشاعروں میں صدر اور مہمان خصوصی بناتے رہیں تو معصوم کا کیا قصور۔ مجذوب گدی اور گدی کیا جانے۔ یہ ”خود صدری“ اور ”خود مہمان خصوصگی“ خودی کی معراج ہے اور ہمیں مغربی درویشوں کی ”خود تحفگی“ کی یاد دلاتی ہے جو سالگرہ یا کرسمس پہ اپنے ہی لیے تحفے خرید کر صارفیت کی منڈیر پر خواہشوں کے دیے جلاتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ”میں نے خود کو فلاں تحفہ دیا“

نئی ٹیکنالوجی عموماً نئی صلاحیتیں سامنے لاتی ہے۔ بلکہ بالکل منہ کے سامنے بھی لے آتی ہے۔ ورنہ لوگ اپنے اطراف سے بے خبر ہی رہیں۔ حال میں صرف کینیڈا میں اتنے نئے شاعر دریافت ہوئے ہیں کہ اب پرانوں کے بغیر بھی کورم پورا ہو سکتا ہے۔ کورم اور گنتی کے علاوہ اور چاہیے بھی کیا۔ اقبال تو کب سے ڈانٹ رہے تھے کہ عقلمندو! بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے۔ بس لوگ اب سمجھے۔

موجودہ وبا کے نتیجے میں کئی ویکسینیں اور ٹیکے ایجاد ہو گئے ہیں۔ جو ٹیکہ بازو پہ لگنے والا نہ ہو، وہ تو آستین کے بجائے عزت اتروا کر دم لیتا ہے۔ چین میں یہی کام جدید کووڈ ٹیسٹ سے لیا جا رہا ہے۔ خیر نئی ویکسین بہت لوگوں پہ بہت طرح آزمانا پڑتی ہے، سو اس آزمائش سے ٹیکے لگوا کر ہی گزرنا ہوگا۔ نئی ویکسین کا لوگوں تک پہنچنا بھی ایک مرحلہ ہے، اس سے کتنوں کی تو افزائش نسل ہی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ابلاغ ہوتے ہوتے جانے کیا حال ہو، شمع ہر رنگ میں جلتی ہے۔

مگر ایک اجتہاد نے تو ایجادات کا دروازہ کھول دیا ہے بلکہ توڑ دیا ہے یعنی مہمانوں کی قسمیں۔ اب تک کی دریافت میں پرانوں سمیت یہ قسمیں میسر ہیں۔ مہمان خصوصی، مہمان اعزازی، مہمان توقیری، مہمان معظم، مہمان محتشم، مہمان ذی وقار، مہمان اعزاز اور مہمان (جی، نرے مہمان) ۔ حق اللہ، عباسی اور اموی خلفا کے القاب یاد آ گئے، ان سے بھی تصرف کر سکتے ہیں۔ مہمانوں کی کچھ ممکنہ آسان اقسام ہم بتائے دیتے ہیں (جملہ حقوق غیرمحفوظ) ۔ مہمان اعلی، مہمان گرامی، مہمان کم وقار، مہمان محض، مہمان جیسے، مہمان طفیلی اور سرکاری مہمان۔ کم پڑیں تو مہمان نومولود، مہمان نامولود، چند دن کے مہمان اور بن بلائے مہمان بھی ہوسکتے ہیں۔

محدود مدت کی آفر والے بعض مشاعروں کے دعوت نامۂ احسان میں صارفین کی سہولت کے لیے مہینے کی چار پانچ تاریخیں دے دی جاتی ہیں، کہ جلدی سے ایک چن کر بتاؤ اور حاضر ہو جاؤ۔ بعض دعوت نامے اسکول پرنسپل کے حکم نامے کی سی پدرانہ شفقت سے معمور ہوتے ہیں۔ شرائط، ضوابط اور ہدایت نامۂ شاعر کے ساتھ، جیسے عرضی جمع کرانے کا اشتہار ہو۔ شفقت ایسی کہ شفقت چیمہ کی کمی محسوس نہ ہو۔

آن لائن مشاعرے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چند گھنٹے پہلے مشاعرہ ملتوی کرنا پڑ جائے تو بھی میزبان کا نقصان نہیں ہوتا۔ جب چاہیں منسوخ یا ملتوی کردیں۔ معذرت اور وضاحت کس چڑیا کا نام ہے، یہ تو چڑچڑوں کا کام ہے۔ مہمانوں کو کون سا ٹیکسی میں آنا ہوتا ہے، اور وقت کا ضیاع چہ معنی، کیا انھیں اور کوئی کام نہیں سوجھتا؟ ایسے ہی ایک سردار جی نے بیٹے سے کہا ”بیٹا تو چھت سے کود، میں پکڑ لوں گا“ جب بچہ کودا تو سردار جی ہٹ گئے اور بچے کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ تب سردار جی نے پتے کی بات کی کہ ”یاد رکھ، کبھی کسی کی بات پہ بھروسا نہیں کرتے“ ۔

خیر حاسدوں کو چھوڑیے، جاتے جاتے خوشخبری سنتے جائیے۔ کراچی میں ایک سڑک ہمارے نام سے موسوم ہو گئی ہے، اتنے مشاعروں کے بعد اتنا تو حق تھا نا۔ جی وہی، شاہراہ فیصل۔ جی جی، ہمارے ہی نام پہ ہے (ایک مدت سے)۔ تختی پڑھ لیں، ہجے کر لیں، یقین بھی آ جائے گا۔ اب مجھے کیا پتہ بندر روڈ، ناگن چورنگی اور گولیمار کن کے ناموں سے موسوم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •