کیاوزیر اعظم کا پاکپتن سے ”روحانی رومانس“ ضلع کے مسائل حل کر پائے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2018 کے الیکشن سے چند ماہ قبل موجودہ وزیر اعظم عمران خان سے اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں سر راہ ایک ملاقات ہوئی۔ میرے پاکپتن سے تعلق کی بنا پر بہت خوش ہوئے اور بتایا کہ وہ اسی دن پاکپتن روانہ ہو رہے تھے اور نماز تہجد اور نماز فجر دربار حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے احاطے کی مسجد میں ادا کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ وزیر اعظم کی باتوں سے چھلکتا تھا کہ وہ پاکپتن سے بڑی عقیدت اور نیاز مندی رکھتے ہیں اور ایک موہوم سی امید بندھی کہ پاکپتن سے ان کے ”روحانی رومانس“ کی بدولت اقتدار میں آنے کے بعد یقینی طور پر اس شہر ناپرساں کے دیر طلب مسائل ضرور حل ہوں گے، یوں دل سے دعا نکلی کہ اللہ انھیں آئندہ الیکشن میں کامیاب و کامران کرے۔

تاہم انھیں اقتدار میں آئے ہوئے اڑھائی سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن ضلع پاکپتن کے باسیوں کے دو دیرینہ مطالبات جن میں ایک سرکاری یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ اور دوسرا منچن آباد اور پاکپتن کو ملانے والی رابطہ سڑک کی تعمیر ہے کے حوالے سے کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ یوں تو ضلع پاکپتن کے بے شمار مسائل ہیں لیکن ان دو بنیادی مسائل کو حل کروا کر پاکستان تحریک انصاف آئندہ الیکشن میں اپنی کامیابی کو قطعی طور پر یقینی بنا سکتی ہے۔

تاریخی، روحانی اور زرعی پس منظر کے تناظر میں یہ شہر خصوصی طور پر حکومتی توجہ کا منتظر و مستحق ہے۔ چشتی سلسلہ کے مشہور بزرگ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرنے اس شہر کو ایک پہچان عطا کی ہے اور وہی اس شہر کی دنیا بھر میں وجہ شہرت ہیں۔ یہ ایک انتہائی قدیم شہر ہے جو پچیس ہزار سال کی تاریخ رکھتا ہے اور اس کا پرانا نام اجودھن تھا، جس کا تذکرہ قدیم ہندو مذہبی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو سکندر اعظم یونانی سمیت برصغیر میں آنے والے کم و بیش ہر فاتح کی گزر گاہ یا پڑاؤ کا مقام رہا ہے۔

پاکپتن کے ہی ایک نواحی قصبے ملکہ ہانس میں سکندر اعظم ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوا، سو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف اولین مزاحمت کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پنجابی زبان کی مشہور اور شاہکار ادبی کاوش ہیر وارث شاہ کی تخلیق و تدوین بھی ملکہ ہانس میں ہی ہوئی تھی۔ بابا فرید الدین گنج شکر بذات خود پنجابی زبان کے ایک مایہ ناز شاعر تھے جن کا کلام آج بھی زبان زد عام ہے اور ان کا شعری دیوان بھی موجود ہے۔

جبکہ ایک آٹھ سو سال قدیم پڑنامی مندر بھی ملکہ ہانس میں واقع ہے۔ مغلیہ دور میں اسے جھروکوں کا شہر کہا جا تا تھا۔ پاکپتن کے متعدد دیہات بھی انتہائی قدیم اور تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔ انھی دیہاتوں میں سے ایک چک بیدی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آٹھ سو سال پرانا گاؤں ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ اگر اس ضلع کے تاریخی مقامات کی بحالی کے لئے کام کرے تو یہاں ٹورازم خاص طور پر مذہبی سیاحت کو بہت فروغ دیا جاسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دریائے ستلج کے قرب و جوار میں واقع پاکپتن نیلی بار کا ایک اہم ضلع ہے جو زرعی پیداوار میں بھی ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ پاکپتن کی سول سوسائٹی کی تشویش بالکل بجا ہے کہ اٹھارہ لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والے اس ضلع میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے تاحال ایک بھی سرکاری یونیورسٹی موجود نہیں ہے جو سرا سر زیادتی ہے جبکہ پاکپتن کے اطراف میں صرف ایک نجی یونیورسٹی کا کیمپس ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ایچ ای سی کے ساتھ تنازعات میں الجھی ہوئی تھی۔

یہ بہت قابل ستائش بات ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے اپنے صوبہ پنجاب کے ضلع فرید کوٹ میں حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کے نام پر 1998 میں بابا فرید یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز قائم کی لیکن مقام افسوس ہے کہ جس دھرتی پر انھوں نے اپنی معرفت کی کرنیں بکھیریں اور جہاں وہ مدفون ہیں وہاں ان کے نام سے ایک بھی یونیورسٹی نہ بن سکی یہاں تک کہ ان کے نیاز مند اور سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے نام سے بھی ننکانہ صاحب میں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

جہاں پنجاب کے کم و بیش ہر ضلع میں یونیورسٹیاں قائم کی جا چکی ہیں وہاں پاکپتن کو اس سے محروم رکھنا سراسر زیادتی ہے۔ وزیر اعظم سے گزارش ہے کہ اگر انھیں واقعی پاکپتن کی دھرتی سے کوئی پیار ہے یا اس دھرتی کا کوئی لحاظ ہے تو پہلی فرصت میں پاکپتن تشریف لا کر یہاں بابا فرید کے نام پر ایک مکمل اور علیحدہ یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کریں اور اس کی بروقت تکمیل کے لئے فنڈز مختص کروائیں۔ یہاں کی اکثر آبادی غریب ہے اور عام لوگ اپنے بچوں خاص طور پر بچیوں کو ضلع سے باہر تعلیم دلانے سے قاصر ہیں۔

پاکپتن میں یونیورسٹی کا قیام نہ صرف یہاں عام لوگوں کے بچوں کو زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے مواقع دلانے میں بلکہ اس ضلع میں روایتی جاگیردارانہ نظام، فرسودہ سوچ، جہالت اور تنگ نظری پر مبنی سماجی رویوں کو تبدیل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ میری ایک اور تجویز بھی ہے کہ اس مجوزہ یونیورسٹی میں زراعت، پنجابی، آرکیالوجی، سوشیالوجی اور نفسیات کے شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر قائم کیا جائے تاکہ اس پسماندہ ضلع میں سماجی انقلاب لایا جاسکے جس کی بے حد ضرورت ہے۔

اسی طرح پاکپتن اور منچن آباد روڈ کی تعمیر بھی مقامی آبادی کا دیرینہ مطالبہ ہے جس پر کسی دور میں بھی کان نہیں دھرے گئے اور روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کی آمد و رفت اس روڈ کی عدم تکمیل کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ اس روڈ کی تعمیر عرصہ دراز سے التوا کا شکار ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی شدید کوفت میں مبتلا ہے۔ پندرہ یا بیس کلومیٹر لمبی یہ سڑک دونوں شہروں کے باسیوں اور مقامی کسانوں کے لئے راحت کا باعث بنے گی۔

اسی طرح پاکپتن کی دیگر بین الاضلاعی رابطہ سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور حکام بالا کی توجہ چاہتی ہیں۔ ضلع کے واحد ڈی ایچ کیو ہسپتال کو بھی بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح مقامی سطح پر روزگار کے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کبھی ایک کارخانہ روڈ ہوا کرتا تھا جس پر متعدد فیکٹریاں، کارخانے اور ملز واقع تھیں جو رفتہ رفتہ بند ہو چکی ہیں جبکہ ایک شوگر مل بھی چند سال قبل ختم ہو چکی ہے۔

کچھ عرصے سے ضلع میں جرائم کی شرح بھی بڑھ چکی ہے۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ یہاں کے روایتی سیاسی خانوادوں نے اقتدار کے ایوانوں میں اہم عہدوں پر براجمان ہونے کے باوجود بھی اہالیان پاکپتن کو ہر دور میں نہایت مایوس کیا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کے حصار سے کبھی باہر نہیں نکلے۔ تاہم یہ اکیسویں صدی ہے اور ہم انفارمیشن ایج میں جی رہے ہیں جہاں روایتی اور غیر روایتی میڈیا خاص کر سوشل میڈیا کی بدولت اطلاعات تک رسائی آسان ہو چکی ہے۔

چنانچہ آج کے دور میں عوام کو زیادہ دیر تک بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی لئے اب پاکپتن میں بھی سیاسی اور سماجی میدانوں میں نئے چہرے سامنے آرہے ہیں جس سے عوامی مسائل کے حل کی کچھ امید پیدا ہو رہی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ انھیں میں سے دو نوجوان چودھری محمد نعیم اور چودھری سلیم احمد ہیں جو پاکپتن کے سفید پوش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بیرون ملک اپنی محنت، لگن، مشقت اور نیک نیتی کے بل بوتے پر بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

دونوں نوجوان باہر رہتے ہوئے بھی اپنی بساط سے بڑھ کر سماجی بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں اور علاقے کی ترقی کے لئے بہت مثبت اور پراگریسو سوچ رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف علاقے کے غریب خاندانوں کی مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں بلکہ انھوں نے ضلع پاکپتن کے سینکڑوں لوگوں کو پاکستان اور بیرون ممالک ملازمتوں اور خود روزگار کے مواقع دے کر غربت کی دلدل سے نکالا ہے۔ جب کبھی بھی ان سے بات چیت کا موقع ملتا ہے عمدہ خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کی بھلائی کے لئے خوبصورت آئیڈیاز پر گفتگو کرتے ہیں۔

وہ اپنی مٹی کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن کاروباری مصروفیات، دوہری شہریت کے مسائل اور پاکستان میں عملی سیاست کے حوالے سے پائی جانے والی بے پناہ پیچیدگیوں کی وجہ سے سردست کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ کاش کہ ایسے شاندار لوگ پاکستان کی عملی سیاست کا حصہ بن سکیں تو حقیقی تبدیلی کا سفر آسان ہو جائے۔ بہر کیف وزیر اعظم پاکستان سے حسن ظن رکھتے ہوئے اہالیان پاکپتن امید رکھتے ہیں کہ پاکپتن سے ان کا رومانس صرف روحانیت کے تعلق تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ اس شہر کے باسیوں کے لئے یونیورسٹی کے قیام، پاکپتن – منچن آباد روڈ کی تعمیر اور ضلع کے دیگر مسائل کو بھی اپنی تبدیلی کی ترجیحات میں شامل کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •