مالی اب علامہ پلس یعنی عثمان بزدار کا مجسمہ بنانا چاہتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ایچ اے کے چیئرمین یاسر گیلانی نے اقبال کے مشہور زمانہ مجسمے پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ”پیارو یہ مالیوں نے خود ہی بنایا تھا۔ یہ انہوں نے اقبال سے سچی محبت اور انہیں دلی خراج عقیدت کی کی وجہ سے بنایا۔ اتھارٹی نے اس کی اپروول نہیں دی تھی اور نہ ہی اسے بنانے کے لیے ایک بھی پیسہ دیا۔ ہم اسے دیکھ لیں گے لیکن کوئی بھی اسے مالیوں کی آنکھ سے دیکھ کر ان کی محبت اور عقیدت دیکھ سکتا ہے۔ کیوں کہ یہ مالیوں نے اپنے طور پر اپنے ذاتی پیسوں سے بنایا ہے صرف محبت میں، ہم اس پر مالیوں کے خلاف ایکشن تو نہیں لے رہے البتہ اس کو ٹھیک کریں گے اور آئندہ کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں کی بغیر اجازت ایسا کوئی کام نہ کیا جائے۔ ویسے حضرت موسیٰ اور چرواہے والا واقعہ یاد آ گیا۔“

مالیوں نے بتایا کہ ”ایک اعلیٰ افسر نے مالیوں سے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ پارک کا نام ’گلشن اقبال‘ ہے تو ادھر علامہ اقبال کا ایک مجسمہ ضرور ہونا چاہیے۔ وہ افسر ہمیں علامہ اقبال کی تصویر دکھاتا تھا اور ہم مجسمہ بناتے جاتے تھے۔ اس مجسمے کو آٹھ، نو ماہ قبل کنکریٹ، بجری، سیمنٹ، ریت اور سریے سے دن، رات ایک کر کے بڑی محنت سے بنایا گیا تھا۔ اس کام کے دوران یا بعد میں بھی کبھی کسی شخص نے بھی ہمیں نہیں کہا کہ یہ علامہ اقبال جیسا نہیں دکھتا۔“

ہم نے مالیوں کی آنکھ سے دیکھا ہے تو واقعی گیلانی صاحب کی بات درست ہے۔ علامہ اقبال کی شکل کو نہیں بلکہ مالیوں کی محبت کو دیکھنا چاہیے۔

پہلے پہل ہمیں اس بات کا یقین نہیں آیا کہ مالی بھی مجسمہ بنا سکتا ہے۔ پھر یکلخت یاد آیا کہ گلشن اقبال کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی چند بوٹے دکھائی دیے تھے جو مجسموں کی شکل میں تراشے گئے تھے۔ بخدا ان کی شکل ویسی ہی تھی جیسی اقبال کے مجسمے کی ہے۔ بس ایک فرق تھا، ان میں ہاتھ سینے کی بجائے درست جگہ سے برآمد ہو رہا تھا۔

پھر یہ خیال گزرا کہ شاید اقبال سے عقیدت رکھنے والے یہ مالی شعر و ادب کا ذوق بھی رکھتے ہوں، اور انہوں نے اقبال کے مجسمے میں اس شعر کو سمو دیا ہو جس میں ٹائپو کی وجہ سے وہ ”اپنی آستینوں“ کو ”اپنے سینوں“ سمجھ بیٹھے ہوں

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں ”اپنے سینوں“ میں

ہم نے اپنے مالی کو یہ قصہ سنایا۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر باہر چلا گیا۔ کوئی دو گھنٹے بعد وہ واپس پلٹا اور کہنے لگا کہ ”صاحب، میں نے زندگی میں اگر کوئی عظیم لیڈر دیکھا ہے تو وہ عثمان بزدار ہے۔ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ اس خواب کے مطابق عثمان بزدار نے پاکستان کی تعمیر شروع کر رکھی ہے، میں تو انہیں علامہ اقبال پلس سمجھتا ہوں۔ ویسے بھی پہلی مرتبہ ایسا غریب شخص وزیراعلیٰ بنا ہے جس کے گھر میں بجلی تک نہیں، میری بھی بجلی زیادہ بل آنے کی وجہ سے کٹ گئی ہے، مجھے وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ پھر وہ شکل سے بھی اقبال کے شاہین لگتے ہیں۔ ہم مالیوں نے چندہ جمع کر لیا ہے، اب جمعرات کے دن ہم اپنے کھرپے اور سیمنٹ سریا لے کر پنجاب اسمبلی کے باہر پہنچیں گے اور لان میں علامہ پلس عثمان بزدار کا مجسمہ بنائیں گے۔“

عثمان بزدار کے لیے مالی کی محبت اور عقیدت دیکھ کر ہماری تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ پہلے تو ہم نے سوچا کہ پنجاب اسمبلی کے باہر سرکاری باغیچہ ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مالی ایسے ہی ادھر جائے اور ایک بڑا مجسمہ بنانا شروع ہو جائے۔ لیکن پھر ہم نے غور کیا کہ کہنے کو تو گلشن اقبال بھی ایک سرکاری پارک ہے، ادھر اگر مالی خود سے بغیر کسی اجازت اور اپروول کے کوئی پراجیکٹ شروع کر سکتے ہیں تو ظاہر ہے کہ یہ کام کسی بھی پبلک پراپرٹی میں کیا جا سکتا ہے۔

ہمیں یہ منصوبہ بہت پسند آیا ہے۔ ہمیں بھی علامہ پلس عثمان بزدار بہت پسند ہیں۔ ہم نے ان کی ایک تصویر کا بندوبست کر لیا ہے اور عثمان بزدار سے اپنی محبت و عقیدت ظاہر کرنے کے لیے ہم ان مالیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور انہیں علامہ پلس کی تصویر دکھاتے جائیں گے اور وہ مجسمہ بناتے جائیں گے۔ بس چند دن کی بات ہے پھر اسمبلی کے سامنے علامہ پلس کا ویسا ہی مجسمہ دکھائی دے گا جیسا گلشن اقبال میں علامہ اقبال کا ہے۔

اس موقعے پر ہمیں موجودہ حکومت کی میرٹ پالیسی کی تعریف بھی کرنی چاہیے۔ حق یہی ہے کہ مجسمہ سازی کا کام مالیوں سے ہی لینا چاہیے کیونکہ انہوں نے تو کام نہایت عقیدت اور محبت سے کیا تھا، جو اعلیٰ افسر ان کے سر پر کھڑا ہو کر مجسمہ بنواتا رہا، غلطی تو سراسر اس کی ہے، نہ جانے کس کی تصویر کو اقبال کی تصویر سمجھ کر اس کا مجسمہ بنوا بیٹھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar