بدلتی دنیا کی دو مقبول کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت کے ہاتھوں میں زندگی کی ڈوریں تھمانے، ہواؤں کے رخ پر بہنے اور اس بہتے پانی کا حصہ بننے سے شاید وقتی طور پر آسودگی کے چند ناپائیدار لمحات میسر آ جائیں مگر مستقل کامیابی کے لیے چند دوسری حکمتیں اور تدبیریں کام آتی ہیں۔ ہمیشگی کا احساس ایک دلفریب نغمہ ہے جس کو سننے کو ہر کان بیتاب ہے مگر ہمیشگی کے حصول کے راستے پر چلنا، فی زمانہ پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ عارضی نفع اور دنیاوی آرام کی تلاش کا ایک نہ ختم ہونے والا بھیانک اور دلفریب سفر، موجودہ انسان کو ذلتوں کے عمیق اندھیروں میں دھکیل رہا ہے۔

مگر عجیب بات یہ ہے کہ حضرت انسان اپنی چند روزہ زندگی کے لمحات کو پر مسرت بنانے کے چکر میں نقصان کا یہ سودا بصد شوق خریدنے کو تیار بیٹھا ہے۔ چیختی، چنگاڑتی اور شور مچاتی بے ہنگم اور لامتناہی خواہشات کے سر سبز باغ، لالچ کے غلاف میں لپٹے فقط ایک فریب ہے۔ یہ نظر کا فریب بھی ہو سکتا ہے اور عقل کا بھی۔ بلکہ نہیں شاید شعور کا اندھا پن یا آپ اس کو سیرت کا اندھا پن کہہ لیں یا شایدکھوکھلے ذہن اور کھوکھلے کردار کا لیبل بہتر رہے گا۔

کیا عجب تماشا ہے؟ مگریہ سچ ہے کہ یہ سب نام اور راستے ناکامی کے ہیں۔ جب کسی کو ایک پل کی بھی خبر نہیں تو سو برس کا سامان اکٹھا کرنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔ ایک شخص حضرت امام زین العابدینؒ کے پاس آیا اور زندگی کی کیفیت پر شکایت کرنے لگا۔

آپ ؒ نے فرمایا ”بے چارہ فرزند آدم! ؑروزانہ تین طرح کی مصیبتوں میں گرفتار رہتا ہے مگر وہ ان سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتا۔ اگر سبق حاصل کرتا تو اس کی دنیا اور اس کی مشکلات آسان ہو جاتیں۔پہلی مصیبت یہ ہے کہ وہ اپنے مال کم ہونے پر غمگین ضرور ہوتا ہے جو ممکن ہے کسی روز دوبارہ واپس مل جائے۔ مگر ہر گزرنے والا دن، جو اس کی زندگی کو کم کر رہا ہے۔ افسوس! اس پر توجہ نہیں دیتا۔ دوسری مصیبت یہ ہے کہ اس کو اپنی روزی کا حساب دینا ہو گا۔ اگر حلال ہے تو بچ جائے گا ورنہ حرام کی سزا پائے گا۔ تیسری مصیبت سب سے بڑی اور مشکل ہے کہ ہر دن ختم ہو نے کے ساتھ، وہ ایک قدم آخرت کے نزدیک چلا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا دنیا کا سفر ختم ہو رہا ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ بہشت کی طرف جا رہا ہے یا جہنم کی طرف“ ۔ حدیث پاک ﷺ میں ارشاد ہے ”صدقہ کر کے اپنے اور اپنے رب کے درمیان تعلق پیدا کروگے تو تمہیں رزق دیا جائے گا، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہارے نقصان کی تلافی بھی کی جائے گی“ ۔

یہ سب حقیقت ایک طرف، مگر دنیا اپنی رنگینیوں کے جلوے بکھیرتی ہوئی اس بچارے فرزند آدم! کو اپنی جانب متوجہ کیے ہوئے ہے۔ دنیا دار لوگ اپنے کاروبار زندگی میں مصروف ہیں اور وقت کے جبر کے ہاتھوں، مہرے بنے وہ صرف اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ موجودہ وقت میں کھیلی جانے والی مقامی سیاسی شطرنج کے کھیل میں ”شہنشاہ معظم“ اور ”سب پر بھاری“ کی عزیز اور قیمتی جانوں پر کبھی پیادہ قربان ہوتا ہے تو کبھی گھوڑے کی باری آ جاتی ہے۔

لائن میں کھڑے سارے درباری اور نورتن دھڑکتے دلوں کے ساتھ، اس قاتلانہ کھیل میں اپنی اپنی باری کے منتظر ہیں۔ کب کس کا وار چل جائے اور کون کس کی زد میں آ جائے، کسی کو کچھ خبر نہیں۔ چونکہ اس کھیل کے دو اہم کھلاڑیوں، ”جہاں پناہ اور مرد حر“ کی زندگیاں سب سے پیاری ہیں ، اس لیے کھیل طوالت کی طرف جا رہا ہے۔ سوچ سمجھ کر چالیں کھیلی جا رہی ہیں زاد راہ وافر اور وسائل لا محدود نیز پیادوں، جیالوں اور جان نثاروں کی بھی کمی نہیں مگر حالات جس نہج پر چل پڑے ہیں وہاں ”ظل الٰہی اور مرد حر“ کے لیے اب مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔

پاکستان میں سیاسی کشمکش اور جوڑ توڑ کی رسہ کشی ہمیں کوفہ کے دربار اور کربلا کے میدان کا نقشہ بنی نظر آتی ہے کہ جہاں قلیل تعداد بھی اکثریتی تعداد پر حاوی ہو جاتی ہے اور دوسری طرف یہ قلیل گروہ اپنی سیرت اور بلند کردار کی بدولت رہتی دنیا تک اپنا نام رقم کروا دیتا ہے۔ یزیدی قوتیں لوٹ مار اور چور بازاری میں اولیت والی، تعداد اور وسائل میں فوقیت والی، مگر دراصل نصرت الٰہی سے محروم ہیں۔ جبکہ قافلہ حسینیت اگرچہ مشکلات میں گھرا ہوا ہے، تعداد میں بھی کم ہے، مال کی قلت ہے مگر مشیت الٰہی سے ہم آہنگ ہونے کا سفر جاری رکھے ہے اور بے شک اصل کامیابی کا سفر رضائے الٰہی کی جستجو میں ہی ہے۔

دوسری طرف بین الاقوامی سیاسی شطرنج کی بازی سجی ہوئی ہے اور ترجیحات کے بدلنے کا موسم آ گیا ہے۔ نئے نقشوں، نئے راستوں اور نئے رفیقوں کی بات شروع ہو چکی ہے۔ حال ہی میں نئے امریکی صدر جان بائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے اور اب ساری دنیا کی نظریں واشنگٹن کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ ہمیں بھی اب اپنی سوچ بدلنا ہو گی چنانچہ اب اپنا گھر پہلے، اپنے لوگ پہلے، اپنا فائدہ پہلے ہو گا۔ لوگ عملیت سیکھ گئے ہیں وہ حقیقت، وقوع پذیر باتوں اور واقعات پر یقین رکھتے ہیں، اب جذباتی باتیں نہیں چلیں گی۔

لیلیٰ مجنوں کے قصے ہوئے پرانے اور نیزوں بھالوں کی جنگ، تاریخ کے صفحوں میں کہیں گم ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ ہمیشہ وقت کے تقاضے ہی تعلقات اور گرم جوشی کا باعث ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا مستقل دوست اور نہ مستقل دشمن ہوتا ہے۔ سمجھ جاؤ، سمجھنے والو۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ فیصلہ کر لو اور جھاڑ پونچھ کر آزادی حاصل کر لو۔ دولت کوئی اپنے ساتھ لے کر نہیں جاتا اور نہ وقت کسی کا انتظار کرتا ہے۔ “a stitch in time saves nine”۔ ایسا نہ ہو کہ وقت کی لگام ہاتھ سے نکل جائے اور پھر ہاتھ ملتے رہ جاؤ۔ جغرافیائی حیثیت اور معیشت، بس یہ دو ترجیحات ہی آج کے دور کی دو مقبول کہانیاں ہیں۔ اب تو خاموش زبانوں پر بھی یہ کہانیاں ہی بولتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •