جنوبی پنجاب: تیڈے شاکر کیجھائیں وعدے ہن
ایک خبر کے مطابق پنجاب کی صوبائی کابینہ نے مظفر گڑھ کے قصبہ چوک سرور شہید (چوک منڈا) کو تحصیل کا درجہ دینے کی منظوری دے دی۔ پچھلے دنوں یہ خبر نظر سے گزری تو خوشی سے بڑھ کر حیرت ہوئی کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ کھیل ایک تسلسل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ 2018 میں اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں جب مسلم لیگ اپنی ساکھ بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی تو اس وقت وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے پنجاب میں جو چار نئی تحصیلیں بنانے کا اعلان کیا ان میں ضلع وہاڑی سے گگو منڈی، ضلع بہاولنگر سے ڈاھراں، ضلع گجرات سے جلال پور جٹاں کے ساتھ ساتھ ضلع مظفر گڑھ سے چوک سرور شہید تحصیل بھی شامل تھی کیونکہ جنوبی پنجاب کے لیے ہونے والا ہر اعلان محض اعلان ہی ہوتا تو اس لیے بات اعلان سے آگے نہ بڑھ سکی۔
پھر گزشتہ سال فروری میں وزیراعظم عمران خان احساس پروگرام کے افتتاح کے سلسلے میں لیہ تشریف لائے تو اس وقت انھوں نے لیہ میں کھڑے ہو کر چوک سرور شہید کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کیا ، حالانکہ لیہ کے لوگ چوک اعظم کو تحصیل بنائے جانے کی خوشخبری سننے کی امید لگائے بیٹھے تھے کیونکہ چوک اعظم لیہ کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے جس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے مگر تحصیل چوبارہ کا حصہ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو اپنے تحصیل آفس سے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے چوبارہ جانا پڑتا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ سے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے لیہ آنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے چوک اعظم کے عوام کو دوہری اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، وہ لیہ اور چوبارہ کے درمیان معلق رہتے ہیں۔
خیر پھر انہی دنوں وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار مظفر گڑھ دورے پر آئے تو انھوں نے بھی چوک سرور شہید کو تحصیل بنانے کا اعلان کیا۔ یہ تمام تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے جنوبی پنجاب صوبہ ہو یا جنوبی پنجاب کے اضلاع، تحصیلیں اور ڈویژن بنانے کا معاملہ بلاتفریق ہر حکومت بھر پور طریقے سے اعلان تو کرتی ہے مگر پھر کچھ نہیں کرتی۔
100 دنوں میں صوبہ بنانے سے لے کر صوبائی سب سیکرٹریٹ کے ٹرک کی بتی تک اور پھر آدھا تیتر آدھا بٹیر سیکرٹریٹ سے لے کر چھا جانے والی مکمل خاموشی تک جنوبی پنجاب کی کہانی ہم اتنی بار دہرا چکے ہیں کہ اب ہمیں بھی شرم محسوس ہوتی ہے مگر حیرت ہے حکمرانوں کو کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا ۔
سچ تو یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے بلکہ ہر دور میں ہر حکومت اس طرح کی جھوٹی کہانیاں سنا کر وسیب کے عوام کو لوریاں دیتی رہی ہے ۔ چوک سرور شہید تحصیل بنانے کے اعلانات کی طرح کچھ عرصہ قبل تھل ڈویژن بنانے کا بھی بڑا رولا ڈالا گیا۔ مسلم لیگ کے دور میں کہا گیا کہ تھل ڈویژن کا ورکنگ پلان مکمل ہو چکا ہے، بس اعلان ہونا باقی ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی آتے ہی تھل ڈویژن کے خواب دکھانا شروع کر دیے مگر پھر جنوبی پنجاب صوبے کی طرح تھل ڈویژن بھی حکمرانوں کی عدم دلچسپی کی نظر ہو گیا کیونکہ جب مقامی سیاستدان اپنے وسیب کے لیے سنجیدہ نہیں تو پھر کسی بھی حکومت کو اس سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔
وسیب میں نئے اضلاع اور تحصیلیں بنانا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور عوام کا دیرینہ مطالبہ بھی کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں کوٹ ادو اور تونسہ شریف کو ضلع اور لیہ کو ڈویژن بنانے سے لوگوں کے مسائل اور مشکلات کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ لیہ کے جنوب اور مغرب میں ملحقہ تحصیلیں کوٹ ادو اور تونسہ شریف کے عوام ایک طویل عرصے سے دونوں کو ضلع بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور زمینی حقائق بھی یہی ہیں کہ کوٹ ادو، دائرہ دین پناہ، چوک سرور شہید اور سناواں کو ملا کر ضلع بنایا جائے اور تونسہ شریف کو ڈی جی خان کی شمالی یونین کونسل، تونسہ بیراج، وہوا، ریتڑا اور ٹرائیبل ایریا کو ملا کر ضلع بنایا جائے اور پھر مجوزہ ضلع تونسہ شریف، کوٹ ادو، بھکر اور لیہ کو ملا کر تھل ڈویژن بنایا جائے جس کا ہیڈ کوارٹر لیہ کو ہونا چاہیے۔
اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ لیہ اور تونسہ کے درمیان دریائے سندھ پر پل کی تعمیر کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور دونوں جانب اب روڈز کی تعمیر کا کام ہونا باقی ہے جس کی تکمیل کے بعد لیہ اور تونسہ کے درمیان صرف 30 سے 40 منٹ کی مسافت رہ جائے گی۔ اسی طرح لیہ اور کوٹ ادو کے درمیان بھی ایک گھنٹے کی مسافت ہے اور اتنی ہی دوری پر بھکر واقع ہے۔
یہ تمام علاقے قدرتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یقیناً اگر لیہ کو ڈویژن بنا دیا جائے تو اس سے لوگوں کے بہت سے مسائل اور مشکلات کم ہو جائیں گی مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران بھی اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح عوام کی مشکلات کم کرنے میں سنجیدہ نہیں جس کا اندازہ سیکرٹریٹ سے لگایا جا سکتا ہے جو ایک مکمل اور با اختیار صوبے سے سکڑتا سکڑتا سیکرٹریٹ تک آن پہنچا ہے مگر اس میں بھی جان نہیں ایک بے جان پُتلی کی طرح ہے جس کی ڈوریاں لاہور سے ہلائی جاتی ہیں۔
حیرت تو اس بات پر ہے کہ وزیراعظم آج بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کو دانستہ نظر انداز کیا گیا ، جنوبی پنجاب کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے یہ خطہ محرومیوں کا شکار ہے ، بالکل ایسے ہی انھوں نے اپنی انتخابی مہم اور صوبہ محاذ کے ساتھ معاہدے کے وقت بھی یہ بات واضح طور پر کہی تھی کہ وہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے اور 100 دنوں میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائیں گے مگر اب سو دنوں کے ہزار دن ہونے کو آئے ہیں مگر ابھی تک حکمرانوں کے وعدے پورے ہونے کو نہیں آئے۔ نہیں معلوم کے تحریک انصاف کے پانچ سال وسیب کو یقین دہانیوں پر گزارنے پڑیں گے یا یقینی طور پر صوبے کی منزل مل پائے گی ۔ حکمرانوں کی اڑھائی سال کی کارکرگی دیکھ کر تو بات وعدوں کے گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ بقول شاکر شجاع آبادی
تیڈے شاکر کیجھائیں وعدے ہن
ساڈی زندگی گئی تیڈی کل نہ آئی


