شوکت صدیقی کے ناول "خدا کی بستی” میں سماجی مسائل
سرمایہ داریت، فرد کو جہاں احساس برتری میں مبتلا کر دیتی ہے وہیں وہ دوسروں پر اس قدر حاوی ہونے کی کوشش بھی کرتی ہے کہ وہ ان کے جذبات، خواہشات اور صلاحیتوں کو چھین کر انہیں اپنا غلام بنا لے اور پھر اپنی مرضی ان پر مسلط کر دے۔
میرے خیال میں اس سے سماج میں تین طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ پہلی قسم جس میں لوگ ہمیشہ کے لیے اپنی سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیتیں کھو کر بے مقصد اور بے معنی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ دوسری قسم وہ جس میں لوگ سماج سے باغی ہو جاتے ہیں، اپنے فن پر بھروسا کرتے ہیں اور اسے ہی ترجیحی بنیادوں پر بخوبی سر انجام دیتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ صورتحال سرمایہ دارانہ سماج میں بہت کم کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
تیسری قسم وہ ہے جس میں عام افراد سماجی تفریق کی بنیاد پر مزید بے روزگاری اور غربت کی چکی میں پسے چلے جاتے ہیں اگر ان سے ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی چھین لی جائیں تو وہ معاشرے میں ایسا انتشار اور بدنظمی پیدا کرتے ہیں جس سے سماج کا ہر فرد جہاں سراسیمگی کے عالم میں آ جاتا ہے وہیں پہلے سے موجود سماجی گھٹن کے در بھی وا ہو جاتے ہیں۔ انتشار اور بدنظمی پیدا کرنے والے افراد سے میری مراد یہاں سماج کے جرائم پیشہ لوگ ہیں۔
اسی درج بالا تناظر کی اس ناول میں عکاسی کی گئی ہے۔ جب ایک عام آدمی کو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کیا جاتا ہے تب وہ ایسی ہی مجرمانہ وارداتوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔ سرمائے کی غیر مساویانہ تقسیم کی وجہ سے وہ اپنی بنیادی ضروریات کی عدم تکمیل پر ہی چوری، ڈکیتی اور ایسی دیگر فعل قبیح کو بھی سرانجام دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
شوکت صدیقی صاحب اس ناول میں ہر دو طرح سے سماجی مسائل کو زیر بحث لاتے ہیں، میرے خیال میں جہاں وہ سماج کی عکاسی سرمایہ دارانہ تناظر میں کرتے ہیں وہیں وہ سماجی بگاڑ کو نفسیاتی نقطہ نگاہ سے بھی واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم یہاں نفسیاتی حوالہ سے ان کے لکھے کی وضاحت کچھ یوں پیش کرتے ہیں، سماج اپنے اثرات جہاں ہر فرد پہ مرتب کرتا ہے وہیں ایک گھر کا ماحول بھی فرد پر بنیادی حوالوں سے اپنے اثرات قائم کرتا ہے۔
جب گھر کے کسی ایک فرد پر توجہ نہ دی جائے تو پھر یہ عدم توجہ اس کے اندر ایک ایسے خلا کو پیدا کرتی ہے کہ وہی فرد جب بڑا ہوتا ہے تو سماج میں ایسے بگاڑ پیدا کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکے۔ اس کے لیے وہ سماجی بگاڑ کا راستہ ہی منتخب کرتا ہے تاکہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ جبکہ ہمارے یہاں ایسی صورت حال پر فرد کو نفسیاتی اعتبار سے سمجھا نہیں جاتا بلکہ الٹا اسے ایک قرار واقعی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے، اور تب وہی فرد سماج کے ایسے ردعمل پر بگڑ جاتا ہے اور مزید مجرمانہ کارروائیوں میں خود کو ملوث کرتا چلا جاتا ہے اور بعد از فرد کی یہی صورت حال بڑی سطح پہ سماجی انتشار اور بدنظمی کا موجب ٹھہرتی ہے۔
جیسا کہ ناول میں راجہ، نوشا اور شامی، سماج کے وہ کردار ہیں، جن کی معصومیت کو سماج پہلے اپنے گھناوٴنے مقاصد کی خاطر استعمال میں لاتا ہے اور بعد ازاں انہیں سماج کے مجرم افراد کی فہرست میں بھی ڈال دیتا ہے، اور یہی نفسیات انہیں مزید بڑا مجرم بننے پر مجبور کرتی ہے۔ اس ناول میں ہمارے معاشرے کے حقیقی چہرہ کو جہاں اچھی طرح سے بے نقاب کیا گیا ہے وہیں سماج کے اس پہلو کو بھی سامنے لایا گیا ہے کہ اگر کوئی معصوم فرد نیک نیتی سے کسی کام کو سر انجام دینے کی کوشش کرتا ہے تو سماج کے مفاد پرست لوگ جو کہ سماج پر سرمایہ داریت کے بل بوتے پر قابض ہوتے ہیں وہ ان عام معصوم افراد کو اپنے قبیح مقاصد کی خاطر بڑی چالاکی سے گھیر کر ان کی معصومیت سے کھلیتے ہیں۔
ان تینوں دوستوں نے کئی بار اچھا اور منافع بخش کام کرنے کی کوشش کی مگر ہر دفعہ سماج کے مفاد پرست لوگ اس قدر حاوی ہو جاتے کہ انہیں مجبور اور بے بس کر دیا جاتا اور پھر انہیں اپنے گھناوٴنے مقاصد کی خاطر استعمال کرتے۔ جیسا کہ نیاز پہلے نوشا کو چوری کرنے پہ مائل کرتا ہے پھر شاہ جی، راجہ اور نوشا دونوں کو ان کی کم عمری میں اتنے بڑے جرائم میں دھکیل دیتا ہے، جس کا تصور کرنا بھی اسی قدر ہی ہولناک ہے۔
ناول میں کچھ کردار، سماجی مسائل کے حل میں ازدواجی زندگی کو پیش کرتے ہیں، اس حوالہ سے ان کا کہنا یہ ہے کہ غربت کے مارے لوگوں کے لیے پیٹ سے آگے کی دنیا نہیں ہوتی ہے، شاید اس طرح رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے ان کی زندگیوں میں کچھ آسائشات ممکن ہو جائیں۔ گو شادی کا جہاں ایک مقصد افزائش نسل سے ہے وہیں یہ انسان کی جمالیاتی تسکین کا حوالہ بھی بنتی ہے۔ اس بابت ناول میں دونوں باتوں کا شعور دیا گیا ہے کہ انسان کو اپنی چادر دیکھ کر پاوٴں پھیلانا چاہیے، مطلب افزائش نسل، فرد کی آمدن سے زیادہ نہ ہو تاکہ جاری نسل کی بہتر تربیت ممکن ہو سکے، تبھی ان کی زندگی کو ایک صحت مند وجود میسر آ سکے گا، اس کے ساتھ ہی وہ اپنی سماجی زندگی میں بھی ذہنی سکون کو ترجیحاتی بنیادوں پر برقرار رکھ سکے گا۔
اس شاندار ناول میں مصنف، محبت کی داستان کو بھی کئی زاویوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ محبت کا تعلق بھی کہیں سرمائے سے مشروط ہو چکا ہے اور محبت انہی لوگوں کا نصیب ہوتی ہے جو زر کی طاقت رکھتے ہوں۔ ایک طرف نوشا کی ماں جو اپنے شوہر سے بے حد محبت کرتی ہے، اس کے مرنے کے بعد حالات نے کچھ ایسا روپ دھارا کہ جس میں محبت تو کہیں پہلے ہی ساتھ چھوڑ چکی ہوتی ہے، وہاں ضرورت بھی محبت کا لبادہ اوڑھ کر اپنا وقت خوب بسر کرتی ہے۔
انو کی ماں کو لگا کہ نیاز خوب پیسے والا آدمی ہے، ویسے بھی فاقے چل رہے ہیں مجھے اس سے شادی کرنے میں کیا مضائقہ ہے، اس سے شادی کرنے میں جہاں ایک طرف گھر میں خوشحالی آئے گی وہیں دوسری طرف محبت کا ایک نیا سلسلہ بھی قائم ہو جائے گا جبکہ نیاز میاں کو نوشا کی ماں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا وہ در اصل اس کی بیٹی سلطانہ سے شادی کرنا چاہتا ہے، سلطانہ سے شادی کرنے کے لیے نیاز نے یہ حربہ ضروری سمجھا کہ پہلے اس کی ماں سے شادی کی جائے۔
وہ یہ سوچ کر سلطانہ کی ماں سے شادی کر لیتا ہے کہ اس کو زہر کے انجیکشن لگا کر مار دے گا، اور بعد از وہ سلطانہ سے شادی کر لے گا، سو اس نے ایسا ہی کیا، جبکہ دوسری طرف سلطانہ جو سلمان سے پیار کرتی تھی وہ بھی اس کو نہ پا سکی، کیونکہ نہ تو سلطانہ کے پاس پیسہ تھا اور نہ ہی سلمان کے پاس، چونکہ وہ دونوں غریب تھے اس لیے ان کی محبت صرف ایک دوسرے کو چاہنے کی حد تک ہی رہی۔
کبھی کبھار محبت اپنے حصول کے لیے بندے سے ایسے جرائم بھی کرواتی ہے جو بہت ہی بھیانک ہوتے ہیں۔ محبت جہاں انسان کو انسان بناتی ہے وہیں وہ انسان کے دل میں مزید نرم گوشہ بھی پیدا کر دیتی ہے اور ساتھ دوسروں کا احساس بھی اجاگر کیے دیتی ہے۔ اگر محبت کے بیچ سرمایہ داریت کود پڑے تو پھر وہ محبت اور محبت کی لطافت دونوں کو ہی چھین لیتی ہے۔ نیاز سرمائے کے زور سے اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کی خاطر دوسرے کی محبت پر حملہ ڈالتا ہے، اور اپنے خطرناک ارادے میں کامیاب ٹھہرتا ہے۔ اس ناول میں یہاں پر نیاز سرمایہ داریت کا ایک نمائندہ کردار آتا نظر ہے۔



Comments are closed.