دلہن کا دھوکا اور واپسی کا سفر


سجیت نے ایک سرد صبح کو سویرے دروازے پر دستک دی۔ جا کر دیکھا تو اس نے کہا: ”معاف کیجیے، میں آپ کو اس وقت تکلیف دینے آیا ہوں۔“

میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا : ”خیریت تو ہے ناں۔“
” خیریت ہوتی تو آپ کو کیوں بے وقت جگاتا۔ ایک مسئلہ ہے۔ آپ جلدی باہر آ جائیں؟“
” ہوا کیا ہے۔ ؟“ میں نے پوچھا۔

” آپ جلدی آئیں۔ آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ آپ نیچے یونین آفس میں آ جائیں باقی لوگ بھی وہاں آ رہے ہیں۔“ سجیت جلدی جلدی کہہ کر چلا گیا۔

میں اس کے جانے کے بعد ان سب باتوں پر سوچتا ہوا باتھ روم میں چلا گیا۔

سجیت ہماری سوسائٹی کا چوکیدار تھا۔ اس کے والدین بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ سب بہنوں کی برادری والوں کے توسط سے شادیاں ہو گئیں۔ لیکن اس کی اپنی شادی نہ ہو سکی۔ موٹا، درمیانہ قد، توند نکلی ہوئی تھی۔ گٹکا چبانے سے اس کے دانت کہیں سے بھی سفید نظر نہیں آتے تھے، عمر چالیس کا آکڑا پار کر چکی تھی مگر بقول اس کے وہ ابھی تک کنوارا تھا۔ سوسائٹی میں اسے سب سجاد کے نام سے جانتے تھے۔ جس نے حال ہی مذہب تبدیل کیا تھا اور اسلامی نام سجاد رکھا تھا۔

سجیت نے مجھے بتایا تھا کہ ”اس نے دھرم نہیں بدلا بلکہ وہ سجیت ہی ہے لیکن پورا محلہ اسے سجاد کے نام سے جانتا تھا۔ وہ سجیت تھا یا سجاد مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن جو اس پر گزری میں اس کے لیے دکھی تھا۔

میں تیار ہو کر یونین آفس پہنچا۔ مجھ سے پہلے وہاں پر یونین کے صدر، جنرل سکریٹری، سوسائٹی کے مولوی سمیت دس لوگ موجود تھے۔ میں چپ چاپ ایک طرف بیٹھ گیا اور ان کی گفتگو سننے لگا۔ لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔

مجھے دیکھ کر یونین کے صدر سفیر صاحب نے سب سے مخاطب ہو کر کہا:

”سب لوگ آ چکے ہیں۔ ہم اب اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔“ وہ بغیر رکے کہتے گئے ”آپ سب کو اس لئے یہاں بلایا ہے کہ ہمارے چوکیدار سجاد کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ اس کا جس سے نکاح ہوا تھا وہ سب فراڈ تھا۔ سجاد کی جس سے شادی ہوئی تھی وہ خاتون اسے چھوڑ کر بھاگ گئی ہے۔ ہم سب ان کے گھر چلتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں کیا“

سجاد کا گزشتہ شام ہی نکاح ہوا تھا۔ پوری سوسائٹی نے اسے مبارک باد دی تھی۔ نکاح پر جانے سے پہلے وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔ بالوں میں خضاب، بدن پر چائنا بوسکی کا سوٹ اور اس پر ٹی روز کی تیز خوشبو۔ سوسائٹی کے گیٹ پر رکھی کرسی پر بیٹھے سجاد کے مہندی لگے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں عام سی سگریٹ کی جگہ گولڈ لیف کی سگریٹ تھی۔ بائیں ہاتھ میں پیکٹ کے ساتھ لائٹر بھی تھا اور ہر کش کے ساتھ چٹکی بھی بجائی جا رہی تھی۔ جو چہرہ خوشی سے نہال تھا اب وہاں افسردگی ہی افسردگی تھی۔

دلہن کے گھر جانے سے پہلے میں نے کہا: ”پہلے بتائیں تو ہوا کیا ہے۔ آدھی بات سنی ہے۔ آپ لوگ نکاح کے لئے گئے تھے اور دلہن لے کر آ گئے تھے۔ یہاں تک مجھے معلوم ہے اس کے بعد کیا ہوا۔ بات خراب کہاں ہوئی؟“

میری بات پر سجاد کہنے لگا: ”ہم نکاح کر کے گھر پہنچے اور سب مہمان چلے گئے تو دلہن نے مجھے کہا کہ اس کے پاس کپڑے نہیں ہیں۔ نئے کپڑے اس کی بہن کے گھر پر رکھے ہیں اور وہ بہن کے گھر جانے کی ضد کرنے لگی۔“ وہ کچھ دیر چپ ہو گیا۔ ہم سب اس کو دیکھنے لگے۔ میں نے کہا : ”اس کے بعد کیا ہوا۔ تم گئے تھے کیا؟“

” ہاں۔ وہ بار بار چلنے کے لئے کہتی رہی اور میں اس کی باتوں میں آ گیا۔ ہم رکشہ میں اس کی بہن کے گھر گئے، جہاں وہ مجھے ایک کمرے بٹھا کر دوسرے کمرے میں گئی۔ کافی دیر تک وہ نہ آئی تو میں دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ وہاں جا کر کیا دیکھتا ہوں کہ کمرہ خالی پڑا ہے۔ نہ دلہن تھی وہاں اور نہ ہی اس کی بہن۔ میں نے گھر سے باہر نکل کر ادھر ادھر پوچھا مگر کچھ پتہ نہ چل سکا۔ میں تھک ہار کر واپس اپنے گھر آ گیا۔ آج سب کو صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔“ سجاد نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:

” دلہن بھی گئی، پیسے بھی گئے۔ نکاح کے عوض ستر ہزار روپے دیے تھے۔ موبائل فون اور سونے کی انگوٹھی بھی وہ لے گئی۔ وہ دھوکے باز تھی، میں پہچان نہیں پایا۔ ہم میں سے کوئی بھی ان کو پہچان نہیں پایا۔“ سجاد اپنی روداد سنا کر چپ ہو گیا۔

وہاں موجود تمام افراد نے دلہن اور اس کے خاندان کو برا بھلا کہا اور سجاد کو حوصلہ دیا کہ پریشان نہ ہو۔ ہم سب چلتے ہیں اور ان کو سمجھاتے ہیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ”

پان والے بمن میاں جو محلے میں شریر کے طور پر مشہور ہیں، کہنے لگے : ”یار رات کو ہی جانا کیوں ضروری تھا۔ کم سے صبح تک تو رکتی۔ شب عروسی تو گزارتی!“

سب نے بمن میاں کی بات پر بہت ہنسی روکنے کی کوشش کی مگر روک نہ پائے۔ سب ہنسے تو سجاد بھی بول پڑا : ”ہاں ناں۔ رات تو گزارتی اگلے دن میں خود چھوڑ آتا۔ میرے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ظالم نے۔“

سفیر صاحب نے کہا اب چلیں، دو کاروں میں ہم دس لوگ سوار ہو کر ایک گھنٹے کا سفر کرنے کے بعد دلہن کے گھر پہنچے۔ مگر وہاں دروازے پر تالا پڑا ہوا تھا۔ محلے والوں نے کہا کہ: ”مکان کل سے بند ہے۔“

سفیر صاحب نے کہا کہ: ”ان کے نمبر پر اب ذرا کال کر کے دیکھیں۔ کیا پتہ آن ہو۔“
مولوی صاحب نے نمبر ملایا۔ کال لگی تو انہوں نے سب کو چپ ہونے کا کہا۔

” جی میں مولوی سرفراز بات کر رہا ہوں۔ کل ہم نکاح کے لئے آئے تھے۔ سجاد کا نکاح میں نے پڑھایا تھا۔ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا ہے۔ یہ تو سراسر دھوکا ہے۔“

” ہم نے کوئی دھوکا نہیں کیا۔ دھوکا تم نے کیا ہے۔ آواز آئی۔ مولوی سرفراز نے اسپیکر آن کیا ہوا تھا اور ہم سب سن سکتے تھے۔ آواز نسوانی تھی۔ خاتون غصے میں بولے جا رہی تھی:

”مکان سجاد کا اپنا نہیں تھا، کرائے کا تھا۔ گھر میں نہ کرسی، نہ ٹی وی۔ اور تو اور کپڑے کا ایک جوڑا تک نہیں تھا۔ ایسے گھر میں ہم نے اپنی بیٹی نہیں بیاہی تھی۔ اچھا ہوا ہماری بیٹی کو اس بات کا جلدی پتہ لگ گیا ورنہ ہم تو کہیں کے نہ رہتے۔“ یہ کہہ کر لائن کاٹ دی گئی۔

باری باری سب نے اس نمبر پر کال کی، مگر نمبر بند پایا۔

ایک پڑوسی نے مکان کے باہر مجمع دیکھا تو آ کر پوچھ لیا۔ ہم نے ساری رام کہانی سنا دی۔ جس پر اس نے کہا:

” آپ سے پہلے بھی یہاں دو بار ایسی کہانیاں سن چکا ہوں۔ ان لوگوں نے ان کے ساتھ بھی دھوکا کیا تھا۔ ایک تو پولیس تک گیا تھا مگر یہ با اثر لوگ ہیں۔ پولیس بھی ان کو کچھ نہ کر سکی۔ محلے دار کی باتیں سن کر سب مایوس ہو گئے اور واپس لوٹ آئے۔

سوسائٹی میں پہنچے تو سجاد اپنا بوریا بستر باندھنے لگا۔ پوچھنے پر اس نے کہا کہ: ”چوکیدار کی نوکری چھوڑ رہا ہوں اور واپس گاؤں جاؤں گا۔

گاؤں روانہ ہونے سے پہلے الوداع کہنے گھر پر آیا۔ کہنے لگا:

”شہر میں آ کر سب کچھ چلا گیا۔ اب یہاں نہیں رہوں گا۔ کچھ بھی تھا مگر اتنی ذلت تو نہیں اٹھائی تھی۔ محلے میں کس منہ سے رہوں گا۔ اب سب کچھ پہلے کی طرح ہو گا“ یہ کہہ کر سجاد نے اپنا واپسی کا سفر شروع کر دیا۔

Facebook Comments HS