ابن آدم اور طمع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورج کی چندھیا دینے والی کرنیں بدن میں آگ لگا رہی تھیں۔ چلتے چلتے سانس پھولنے لگی تو رحمان چاچا اور ننھے یاور نے کچھ دیر سستانے کا فیصلہ کیا اور پگڈنڈی کے سامنے لگے درخت کے جانب چل دیے۔ اس درخت سے بہت سی تلخ یادیں منسوب تھیں۔ جگر چھلنی کر دینے والا واقعہ ان کی آنکھوں میں کسی بلیک اینڈ وائٹ فلم کی طرح گھوم رہا تھا۔ نگاہ اٹھا کے درخت کو دیکھا جو تمکنت سے آج بھی اپنی جگہ پر ایستادہ تھا۔ پرندے آج بھی اس کے مکین تھے۔

وہ چاہ کر بھی آنکھوں سے بہتے چشمے کو روک نہ پائے۔ کچھ یادیں دھاری دار چاقو کے کناروں کی طرح ہوتی ہیں جن پہ چلتے چلتے انسان کا وجود لہولہان ہو جاتا ہے۔ کچھ واقعات اتنے یادگار ہوتے ہیں کہ انسان لاکھ کوشش کر لے ذہن سے ان کے نقوش مٹا نہیں سکتا۔ انسان کی طمع بہت سے لوگوں کے لیے باعث عبرت بن جاتی ہے اور پھر ایسی چیزوں کی طمع جو انسانی رشتوں کا تقدس ہی پامال کر دے ، انسانیت کا درس ہی بھلا دے ، دل خراش یاد بن کے سینے میں پیوست ہو جایا کرتی ہے۔ کچھ ایسی ہی یاد رحمان چاچا کے ماضی کا حصہ تھی۔

یاور نے جب رحمان چاچا کو حال سے دور کہیں ماضی کے عمیق سمندر میں غوطے کھاتا دیکھا تو گویا ہوا۔ چاچا! آپ کن سوچوں میں الجھ گئے؟

رحمان چاچا کے چہرے پہ دکھ اور تلخ یادوں کا رنگ ابھرا۔ چہرے کے تاثرات کسی دکھ بھری داستان کا پتہ دے رہے تھے۔

آہ! وہ شام۔ وہ خاردار جھاڑی کی طرح ان کے ذہن کے نہاں خانوں میں برسوں سے اگی ہوئی ہے۔ جب جب وہ ماضی کے پراسرار جنگل میں ٹہلنے کا ارادہ کرتے ہیں ، تلخ یادوں کے کانٹے ان کے پیر چھلنی کر دیتے ہیں اور وہ نم آنکھوں سے حال کی وادی میں قدم رکھتے ہیں تو چہرے کارنگ فق ہوا ہوتا ہے۔

یاور نے پریشانی کے عالم میں چاچا کو دیکھا اور پھر درخت کو۔ چاچا آپ اتنے پریشان کیوں ہیں درخت کو دیکھ کے؟

کیا کوئی بھوت پریت تھا اس درخت پر؟ یاور کی پریشانی بھوت کا سوچ کے اور بڑھ گئی۔
رحمان چاچا نے خالی نظروں سے یاور کو دیکھا اور بناوٹی مسکراہٹ سے اسے ٹالنے کی کوشش کی۔
مگر وہ یاور ہی کیا جو ہر بات جان کے نہ رہے۔

یاور اس بات پہ مصر تھا کہ اس کو پریشانی کا جواز معلوم ہو۔ چاچا نے ہار مانتے ہوئے اپنے تلخ ماضی سے پردہ ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

یاور بیٹا۔ وہ شام۔ میری زندگی کی ناقابل فراموش شام ہے۔

جب ہم سب دوست میچ کھیلنے کے بعد گھر کی طرف گامزن تھے تو میرے دوست کی زمینوں پہ جھگڑا ہو رہا تھا۔ اس درخت کے بائیں جانب کی زمینوں پہ۔ اس کے والد کے رشتہ دار کی زمینیں دائیں جانب تھیں۔ یہ درخت جس کی چھاوں میں ہم سستا رہے تھے ، یہی وجہ رنجش بنا اور رنجش اتنی بڑھ گئی کہ ساری نسل نے اس کا خمیازہ بھگتا۔ درخت کی ملکیت پہ جھگڑا ہوا۔ فریقین کی کوشش تھی کہ وہ اس درخت کو کاٹ کر لکڑی بیچیں۔ دونوں خاندانوں میں سے کوئی بھی درخت کی ملکیت سے دستبردار ہونے پہ راضی نہ تھا۔

وقتی طور پہ بزرگوں نے معاملہ رفع دفع کروا کے صلح کروا دی۔ مگر کچھ دن بعد یہ جھگڑا طول پکڑ گیا اور جھگڑے کے دوران جب زبان کی بجائے کام ہاتھا پائی سے لینے کی کوشش کی گئی تو میرا دوست اپنے کزن کی کاری ضرب کا نشانہ بنتے ہوئے عدم کو سدھار گیا ، ہوس انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے ، سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحتیں مفلوج ہو جاتی ہیں اور انسان نفس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن جاتا ہے۔ رحمان بابا کے لہجے میں دکھ اور بے بسی کی آمیزش تھی۔

میرے دوست کی موت کے بعد ایک ایسا جھگڑا شروع ہوا جس نے دونوں خاندانوں کے تمام مرد ختم کر دیے۔ دشمنی اتنی طول پکڑ گئی کہ دونوں خاندانوں نے باری باری ایک دوسرے کو ختم کر دیا۔

بیٹا! آج یہ درخت اتنے برسوں بعد بھی اپنی جگہ پر قائم ہے جب کہ اس کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والوں کی نسلیں صفحہ ہستی سے ختم ہو گئی ہیں۔ انسان کا لالچ اسے قبر تک پہنچا دیتا ہے پر وہ سمجھتا نہیں ہے۔ ان خاندانوں میں کوئی مرد نہیں بچا اور خواتین نہایت کس مپری کی زندگی گزار رہی ہیں۔

انسان جائیدادوں کے جھگڑوں میں اپنے پیاروں کو کھو دیتا ہے جبکہ یہ وقتی سامان یہیں پڑا رہ جانا ہے۔ یہ درخت آنے والی نسلوں کے لیے سبق ہے۔ اس درخت کو دیکھ کے یوں لگتا ہے جیسے یہ کہہ رہا ہو کہ اے ابن آدم! تیرا جھگڑا ، تیری طمع تجھے سپرد خاک کر گئی اور میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •