آؤ کافر کافر، گستاخ گستاخ کھیلیں


گزشتہ چند برسوں سے شہر کا موسم اور آب و ہوا نہایت تیزی سے بدل رہے تھے۔ لیکن شاید شہر کی فضا سے زیادہ یہاں کے مکین نئے رجحانات کو تیزی سے قبول کر رہے تھے۔ اب یہ بھی پتا نہیں کہ یہ قبولیت جبری تھی یا فطری۔ اس شہر خموشاں کے بیچوں و بیچ کا ایک چوراہا سورج ڈھلتے ہی آباد ہو جاتا۔ ہر کسی نے اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق کوئی نہ کوئی مصروفیت ڈھونڈ رکھی تھی۔

’یار عاقل! کدھر رہ گیا تھا؟ دیکھ محفوظ اور میں کب سے لڈو کا میدان سجائے تم دونوں کی راہ تک رہے ہیں۔ اور اب یہ امیر عباس کہاں رہ گیا ہے؟ وہ تیرے ساتھ نہیں آیا؟‘ مفکر علی جو بے صبری سے کھیل کے بقیہ کھلاڑیوں کا منتظر تھا، عاقل حسن کو دیکھتے ہی پکار اٹھا۔

’امیر عباس کے تو امیرانہ ہی رنگ ہیں۔ گلی تک تو ساتھ ساتھ ہی تھے۔ مگر موڑ مڑتے ہی اس کو ٹھیکیدار نظر آ گیا۔ بس پھر آگے تجھے پتا ہی ہے۔‘ عاقل حسن چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ سجائے اپنی مخصوص نشست پر بیٹھتے ہوئے جواب دے چکا تو مدمقابل بیٹھا محفوظ حسین بھی نامکمل بات کو مکمل کرنے کے لیے گویا ہوا۔

’وہ تو ہمیں معلوم ہی ہے۔ وہی امیر عباس کے منت ترلے اور وہی معمول کے مطابق ٹھیکیدار کے جھوٹے وعدے۔‘
ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ چوراہے کی دوسری طرف سے امیر عباس بھی وارد ہو گیا۔

’ہاں بھئی امیر عباس سنا۔ کیا پیش رفت ہوئی؟‘ امیر عباس کے بیٹھتے ہی محفوظ حسین نے طنزیہ انداز میں سوال داغا تو غصے میں بھنا ہوا امیر عباس بھی پھٹ پڑا۔

’کچھ نہ پوچھ یار۔ آج تو میں نے خوب سنائی ہیں اس بے حس کو۔ ساری دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ سال ہونے کو آ گیا ہے کم بخت مارے سے پیسے نہیں بن رہے۔ اپنے بیوی بچوں کی عیاشی کے لیے تو ہمہ وقت پیسے کی ریل پیل رہتی ہے، بس ہم غریبوں کو ان کی جائز مزدوری دیتے موت پڑتی ہے ان کمینوں کو۔‘ اب کے کچھ لمحے سب خاموش ہوئے تو امیر عباس خود ہی غصے کو تھوکتے ہوئے کھیل کی طرف متوجہ ہوا۔ ’چل اب اس بات کو جانے بھی دو سب۔ اچھا بھلا دماغ کے سستانے کو یہ دو گھڑی وقت ملتا ہے، اسے تو نہ ضائع کریں۔ چل بھئی مفکر گوٹیاں رکھ۔ اور سب کو ان کے گھر بتا۔‘

’سب سے پہلے تو آتے ہیں اپنے عاقل بھائی۔ یہ ذرا علیحدگی پسند واقع ہوئے ہیں اور لال لال لہرانے والوں کے حامی ہیں، لہٰذا انہیں سرخ رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھائی محفوظ کی رگوں میں وطن کی محبت معمول سے کچھ زیادہ ہی انگڑائیاں لیتی ہے تو انہیں سبز رنگ دیا جائے۔ اب چونکہ ہمارے امیر عباس بھائی قحط زدہ پیلاہٹ سے بھرپور چہرہ لیے ہمارے ہم سفر بن ہی گئے ہیں تو زرد رنگ انہی کے لیے مناسب ہے۔ باقی رہا میں تو میرا دماغ ساتویں آسمان سے نیچے کب آیا ہے؟ پس مجھے نیلا رنگ ہی ملنا چاہیے۔‘ ماحول کو خوشگوار کرنے کے لیے مفکر علی نے گفتگو میں ذرا مزاح بھر کر ایک تائیدی نگاہ سب کے چہرے پر ڈالی تو عاقل حسن کو لقمہ دینا پڑا۔

’باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن کہیں ایسا نہ ہو یہ نیلا رنگ تجھے ساتویں آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے کی بجائے نیلگوں سمندر کی تہوں میں ڈبو دے۔‘

اس بات پر جو سب کھلکھلا کر ہنسے تو کھیل بھی شروع ہو گیا۔ کھیل کے دوران عاقل حسن سب سے آگے جب کہ امیر عباس کی تمام گوٹیوں میں سے کوئی ایک بھی اپنے پیلے گھر کی حدود سے آگے نہ نکلنے پائی۔ اپنی شکست کا اندازہ ہو جانے پہ امیر عباس مایوسی بھرے لہجے میں بولا۔

’معلوم نہیں یہ غربت زندگی کے کس دوراہے تک میرے ہم قدم رہے گی۔ اب یہ ہی دیکھ لے۔ زندگی تو زندگی، مجال ہے جو کھیل میں ہی آگے بڑھنے کے لئے کھل کر دانے آئے ہوں۔‘

’اوئے امیر عباس! تیری پارٹی کا ہی قانون ہے کہ جب چھ آتا ہے تو گوٹی تیز چلتا ہے اور جب زیادہ بار چھ آتا ہے تو گوٹی اور تیز چلتا ہے۔‘ عاقل حسن کی اس بات پر سب ہی مسکرا دیے۔

’بھئی عاقل! دانے اور دن پھرتے دیر نہیں لگتی۔ ایسا نہ ہو کہ کھیل یوں پلٹا کھائے کہ تو بھی اپنے لیڈر کی طرح پکار اٹھے‘ کیوں نکالا؟ ”محفوظ حسین کے اس لفظی وار پر ایک اجتماعی قہقہہ بلند ہوا۔ قبل اس کے کہ مزید کوئی کچھ کہتا سامنے کی گلی سے امیر عباس کا بڑا بیٹا دوڑتا ہوا باپ کے پاس پہنچا اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ ہکلائے ہوئے انداز میں گویا ہوا۔

’ابا جلدی گھر آؤ۔ اماں کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ جلدی سے ماسی صفیہ کو بلا کر لاؤ۔‘

’تو واپس گھر پہنچ کر ذرا ماں کا دھیان رکھ۔ میں ابھی کے ابھی صفیہ آپا کو لے کر پہنچتا ہوں۔‘

امیر عباس نے کھیل چھوڑ کر فوراً جوتے پاؤں میں اٹکاتے ہوئے بیٹے کو ہدایت جاری کی۔ لیکن جب سامنے بیٹھے دیگر کھلاڑیوں کے ہونق چہرے ملاحظہ کیے تو مفکر علی اپنی حیرانی کو زیادہ دیر الفاظ کی صورت میں اظہار کے لیے روک نہ پایا۔

’یار امیر! مانا تیرا نام جود و سخا کا مظہر ہے مگر ایسی بھی کیا سخاوت کہ پہلے سے چھ بچوں کے ہوتے ہوئے ساتویں کی بھی گنجائش پیدا کر لی ہے۔ کل کلاں کو ان سب کا کھانا پینا، تعلیم وغیرہ کیسے۔‘

’دیکھ مفکر! اپنی یہ فکر اپنے پاس رکھ۔ وہ رب سوہنڑا جہاں چھ کے کھانے کو دے رہا ہے ، ساتویں کے لیے بھی اسباب مہیا کر دے گا۔ یہ تو شکر ہے اس ذات کا کہ کم از کم اولاد کے اس معاملے میں تو اخیتار ہم غریبوں کو دے رکھا ہے ورنہ اگر یہ حق بھی تمہارے اشرافیہ طبقے کے ہاتھ ہوتا تو اسے بھی چھیننے سے گریز نہ کرتے۔‘

مفکر علی کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی امیر عباس نے اٹھتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا۔ دو قدم آگے بڑھا کر یک دم رکا اور پیچھے مڑ کر دوبارہ طنزیہ انداز میں مخاطب ہوا۔ ’باقی تعلیم کی تم لوگ فکر نہ کرو جتنا میری حیثیت میں ہوا پڑھا لوں گا۔ تمہاری سرکار نے تو ویسے بھی دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔‘

امیر عباس تو طنز کے تیر چلا کر چلتا بنا لیکن لڈو کے اس مختصر سے چوکور میدان پر سکوت طاری ہو گیا۔ خاموشی کے اس طویل ہوتے وقفے کو محفوظ حسین کے موبائل پر بجتی گھنٹی نے توڑا۔ سکرین پر نمبر دیکھنے کے بعد محفوظ حسین اٹھ کر ذرا ایک طرف ہو گیا تو مفکر علی گویا ہوا۔

’ہاں جناب تو اس ساری صورتحال میں آپ کی عقل کیا کہتی ہے کہ اصل قصوروار کون ہے؟‘

’میں نہیں بتاؤں گا۔‘ عاقل حسن نے زبان دانتوں میں دباتے ہوئے شرارتی سا انداز اپنایا جس پر مفکر علی نے بھی مزاح میں اپنا حصہ ڈالنا مناسب جانا۔

’جناب عاقل صاحب آپ بتائیں یا نہ بتائیں لیکن یہ تو ہو گا۔‘ آخری چار الفاظ پر ذرا زور ڈالتے ہوئے ہنسا تو بے اختیار عاقل بھی مسکرا اٹھا۔ اتنی دیر میں محفوظ حسین بھی موبائل سے رابطہ منقطع ہو جانے پر واپس وارد میدان ہوا تو عاقل حسن نے سوال کیا۔

محفوظ حسین کس کا فون تھا؟

’گھر سے بیگم کا فون تھا۔ کہہ رہی تھی کہ دو روز ہو گئے ہیں، منے سے رابطہ نہ ہو پا رہا ہے۔ موبائل فون بھی بند ہے۔ لو اب اس نیک بخت کو کون سمجھائے کہ تمہارا منا اب وہ انگلی پکڑ کر چلنے والا بچہ نہیں رہا، بلکہ یونیورسٹی کا ایک بالغ نوجوان ہے۔ کہا تو ہے کہ تسلی رکھو۔ کوئی موبائل خراب ہو گیا ہو گا یا کہیں دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات گھومنے پھرنے نکلا ہو گا اور نیٹ ورک کے مسئلے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہو گا۔‘ محفوظ حسین نے صورتحال بیان کی تو عاقل حسن کی نظر مفکر علی کے چہرے پر پڑی جہاں تشویش کے آثار نمایاں دیکھ کر پوچھ لیا۔

’کیا بات ہے مفکر علی؟ تیرا چہرہ کیوں اچانک پریشان دکھ رہا ہے؟ کہیں تو بھی محفوظ حسین کی اہلیہ کی طرح۔‘

’ہاں یار بات تو تشویش کی ہے۔ کیونکہ اپنے محفوظ کے بیٹے کو میں خوب جانتا ہوں۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے کم بخت نے سچ سننے اور کہنے کا شوق پال رکھا ہے۔ ارے میاں! یونیورسٹی ہاسٹل جا کر جوان کی کوئی خیر خبر لو۔ ایسا نہ ہو تمہاری تیار فصل محکمہ زراعت والے لے اڑیں۔ اور عین ممکن ہے وہی شمالی علاقہ جات کی سیر بھی کروا رہے ہوں۔‘

مفکر علی کی اس وضاحت پر عاقل حسن نے نہ سمجھنے کے سے انداز میں محفوظ حسین کے چہرے کی طرف نگاہ کی تو وہاں بھی پریشانی کے سائے لہرانے لگے۔ مفکر کی بات کے بعد مزید دیر کیے بغیر محفوظ حسین نے بھی ’فی امان اللہ‘ کہہ کر تیزی سے گھر کی راہ لی۔

’برا مت ماننا مفکر۔ لیکن کیا تم لگی لپٹی باتوں کی بجائے آسان پیرائے میں بات نہیں کر سکتے تاکہ اگلے کے بھیجے میں آسانی سے سما سکے؟‘ عاقل حسن جو ابھی تک ناسمجھی کی سی حالت میں تھا ، محفوظ حسین کے اٹھتے ہی مفکر علی پر برس پڑا۔

’ارے اوہ میاں عاقل! کس زمانے میں زندگی کر رہے ہو؟ یہاں سیدھی سادھی بات نہ کوئی سننا چاہتا ہے اور نہ ہی کہنے کی جرات رکھتا ہے۔ بالفرض اگر کوئی یہ حماقت کر بیٹھے تو اسے بھی آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے۔ باقی تو پریشان نہ ہو تیرے جیسوں کے لیے ہی تو سرکار کا حکم ہے کہ‘ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ ”مفکر علی کے اس پرتفکر جواب پر بھی معلوم ہوتا تھا کہ بات عاقل حسن کے سر پر سے گزر گئی ہے اس لیے دھیان بٹانے کو گویا ہوا۔

’اچھا جانے دے جو بھی ہے جیسا بھی ہے۔ اب ہم دو ہی رہ گئے ہیں تو دو بندوں کا مل کر لڈو کیا ہی کھیلنا؟ تو بتا پھر اب کیا کھیل کھیلا جائے؟‘

’تو کیا خیال ہے پھر دو بندے تو چور سپاہی ہی کھیل سکتے ہیں۔ اگرچہ شہر میں یہ کھیل ناپید ہو رہا ہے لیکن دل بہلانے کو تو مناسب ہے۔‘ مفکر علی نے قدرے لاپروائی سے جواب دیا۔

’جانے دے یار مفکر علی۔ یہ کھیل تو آج کل کے بچے بھی نہیں کھیلتے۔ کوئی آج کل کا جدید سمجھ داروں والا کھیل بتا۔‘ عاقل حسن نے اکتائے ہوئے لہجے میں استعجابیہ نگاہیں سامنے کی جانب مبذول کیں تو خلا میں گھورتے ہوئے مفکر علی کی پردرد آواز آئی۔

’اس مناسبت سے تو ایک ہی کھیل جچتا ہے۔‘ پھر پرنم ہوتی آنکھوں سے عاقل حسن کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بات کو جاری رکھا۔ ’چل پھر کافر کافر گستاخ گستاخ کھیلتے ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).