یوم یکجہتی کشمیر یا یوم نمائش؟


تین دہائیوں سے پاکستان سرکاری سطح پر ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی مناتاآ رہا ہے۔ اس دن پاکستان میں سرکاری سطح پر چھٹی ہوتی ہے۔ مہنگے ہوٹلوں میں تقریبات، ضیافتیں اور نمائشی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر اور جموں کشمیر میں یوم یکجہتی کشمیر کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اگر منانی چاہیے تو اس دن کا انتخاب کیا جانا چاہیے جس دن تحریک آزادی کشمیر کے بانی مقبول بٹ کو تہاڑ جیل ( بھارت ) میں پھانسی دی گئی اور اس کا جست خاکی آج تک پاکستان کے حوالے نہیں کیا گیا۔

مقبول بٹ کی شروع کردہ جد و جہد نے جب قومی تحریک کا روپ دھارا تو بھارت نے اسے کچلنے کی ناکام کوشش کی۔ بھارت کی یہ سازش اس وقت آسان ہو گئی جب پاکستان کے حمایت یافتہ گروپوں نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے خلاف محاذ کھول کر پاکستان کے جھنڈے لہرانے شروع کیے۔ اس سے بھارت کے اس الزام کو تقویت ملی کہ یہ کشمیریوں کی اپنی آزادی کی تحریک نہیں بلکہ پاکستان کی مداخلت ہے۔ اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ ہزاروں سیاسی قیدی کشمیر سے دور بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ خاندانی ملاقاتوں کو بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہر جمعے کو آدھا گھنٹہ کھڑا رہنے والا پاکستان عالمی سطح پر کشمیریوں کی وکالت اور سفارت کرنے کے بجائے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی مہم میں مصروف ہو گیا۔ جموں کشمیر کونسل فار ہیو من رائٹس کے سربراہ ڈاکٹر نذیر گیلانی نے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے تمام تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو تین تفصیلی رپورٹس پیش کی ہیں جنہیں پاکستان عالمی انسانی حقوق کے ادارے میں موجود ہونے کے باوجود زیر بحث نہ لا سکا۔

آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان کی سفارتکاری کا بڑا چرچا تھا۔ انہیں صدر بنانے کا واحد جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ وہ اپنے سفارتی تجربات سے تحریک کے لیے عالمی حمایت حاصل کریں گے۔ وہ اپنے اعلان کردہ مشن میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ آئے روز پاکستان اور آزاد کشمیر کے حکمران امریکہ اور یورپ کے دوروں پر رہتے ہیں مگر وہ جموں کشمیر کونسل فارہیومن رائٹس کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کی جانے والی رپورٹس کا کسی بھی فورم میں حوالہ دینے سے قاصر رہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ کشمیریوں کے مضبوط ترین عالمی کیس کو کسی بھی فورم پر موثر طریقے سے نہ اٹھایا جاسکا اور نہ ہی سیاسی جماعتیں اور آزادی پسند تنظیمیں بھارتی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کی موثر مہم چلا سکی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سمیت تمام آزادی پسند تحریکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے حمایت یافتہ گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ جس سے آزادی کی خواہش کے اصل کردار یا تو دنیا سے چلے گئے یا بھارتی مظالم کے آگے گھٹنے ٹیک کر تحریکوں سے علیحدہ ہو گئے۔

دوسری بڑی وجہ کشمیریوں کے اندر باہمت باصلاحیت اور باکردار قیادت پیدا نہیں ہونے دی جا رہی۔ نا اہل لوگوں کو سیاست میں پروموٹ کر کے باکردار قیادت کا راستہ روکا جاتا ہے ۔ یہ کوئی لوکل نہیں بلکہ عالمی ایجنڈا ہے جس کے تحت تنازعات کو طول دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ جب تک کشمیری قیادت کو اپنا مقدمہ خود لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تب یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔ تمام تر تلخ حقائق کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی قوم متحد ہو کر جد و جہد کرنے کا فیصلہ کر لے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ اس لیے ہمیں مایوس نہیں ہونا بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسا کرتے ہوئے اپنی صفوں کو درست کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS