پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے تحلیل کر کے جمہوریت کا قتل کیا: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ


سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے تحلیل کر کے جمہوریت کا قتل کیا۔ پنجاب حکومت کی بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ مارشل لا کے دور میں تو ایسا ہوتا تھا لیکن جمہوریت میں ایسا کبھی نہیں سنا۔ کیا پنجاب لوکل گورنمنٹ ختم کرنے کا موڈ بن گیا تھا؟

سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہاکہ مردم شماری 2017 میں ہوئی ابھی تک حتمی نوٹی فکیشن جاری نہ ہو سکا۔ مردم شماری پر سندھ حکومت اور دیگر کے اعتراضات ہیں۔ مردم شماری پر اعتراضات پر وفاقی حکومت نے کمیٹی بنا دی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ کسی سیاسی جماعت کا نام نہ لیں۔ یہ آئینی معاملہ ہے۔ کیا سندھ کا اعتراض آبادی کم ہونے کا تھا۔ 2017 سے 2021 تک مردم شماری پر فیصلہ نہ ہو سکا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کو اس طرح سے چلایا جا رہا ہے؟

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ آرڈیننس تو 2 سے 6 روز میں آ جاتا ہے۔ مردم شماری پر فیصلہ نہ ہوسکا۔ یہ ترجیحات کا ایشو نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہاکہ مشترکہ مفادات کونسل کا چیئرمین کون ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہاکہ مشترکہ مفادات کونسل کا چیئرمین وزیراعظم ہوتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ کیا وزیراعظم نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم نے اجلاس بلایا تھا لیکن کسی وجہ سے نہ ہو سکا۔

Facebook Comments HS