ہے کوئی سوچنے والا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ہر معاملہ حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے؟ کیا اپوزیشن کے کندھوں پر ہر ذمہ داری ڈال دینی چاہیے؟ کیا یہ ہر ذی شعور پاکستانی کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ملکی حالات پر غور کرے؟ کیا ملکی سلامتی، انتظام و انصرام، عدل و انصاف، تعلیم و تدریس اور قانون و امن عامہ سے تعلق رکھنے والے اداروں پر لازم نہیں کہ مختلف شعبوں میں زوال کے اسباب کا سراغ لگائیں اور اصلاح احوال کی کوئی کوشش کریں۔ اس میں تو بہرحال کوئی شبہ نہیں کہ سب سے زیادہ بھاری ذمہ داری وقت کے حکمرانوں، سیاستدانوں اور حالات پر اثر انداز ہونے والے اداروں ہی کی ہے کہ وہ خراب ہوتی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے کی تدبیر کریں۔

میرے سامنے اس وقت امریکہ میں قائم ہونے والی نئی حکومت کے نئے وزیر خارجہ کی دو ٹیلی فون کالز کی خبر ہے جس کا متن وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جاری کیا ہے۔ ایک کال بھارتی اور دوسری پاکستانی وزیر خارجہ کو کی گئی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن (Antony Blinken) نے کہا۔ ”شاہ محمود قریشی سے بات کرتے ہوئے ڈینیل پرل کے قتل میں ملوث سزا یافتہ دہشت گرد احمد عمر سعید شیخ اور دیگر ذمہ داروں کا محاسبہ یقینی بنانے کے لئے کہا گیا۔

میں نے اور وزیر خارجہ پاکستان نے علاقائی استحکام کے لئے پاکستان اور امریکہ کے مابین باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔“ ۔ جبکہ بھارتی وزیر خارجہ کو فون کرتے ہوئے انٹولی بلنکن نے کہا ”آج مجھے اپنے بہت اچھے دوست ڈاکٹر ایس جے شنکر سے بات کر کے بہت خوشی محسوس ہوئی۔ ہم نے بھارت اور امریکہ کی باہمی ترجیحات پر گفتگو کی۔ ہم نے بھارت امریکہ تعلقات کی اہمیت کی توثیق مزید کرتے ہوئے ان اقدامات پر بات کی جن کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم خطے میں نئے امکانات اور مشترکہ مسائل کا مقابلہ کریں“ ۔

دونوں ٹیلی فون کالز کے متن پڑھتے ہوئے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ بھارت کے بارے میں کیا سوچ رکھتی ہے اور ہمیں کس آنکھ سے دیکھتی ہے۔ بھارت کے بارے میں اس کی سوچ باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور اشتراک و تعاون کی ہے۔ امریکہ خطے کے امکانات اور ترجیحات میں بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے جب کہ ہمارے بارے میں اس کی رائے کا مفہوم یہی ہے کہ ہم دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ ستم دیکھیے کہ ہمارے عدالتی فیصلوں کا بھی وہاں کوئی احترام نہیں۔

ایک امریکی عدالت کے فیصلے کی وجہ سے پاکستان کی ایک بیٹی (ڈاکٹر عافیہ صدیقی) پچھلے سترہ سالوں سے جیل میں پڑی ہے۔ ایک برطانوی عدالت کا فیصلہ (براڈ شیٹ معاملہ میں ) ہمارے اربوں روپے لے گیا۔ ایک ملائشین عدالت کے فیصلے کے بعد ہماری قومی ائر لائن کا طیارہ قبضے میں لے لیا گیا۔ اور ہماری سب سے بڑی عدالت عمر شیخ کی رہائی کا حکم دے رہی ہے لیکن امریکہ اسے عدالتی حکم ماننے کو تیار ہی نہیں۔ ہم بھی غلاموں اور مجبوروں کی طرح سب سے بڑی عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے مرے جا رہے ہیں۔ پورے پاکستان میں کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ امریکیوں کو بتائے کہ ہمارا بھی ایک عدالتی نظام ہے اور ہم اپنی عدالتوں کے فیصلے کسی دوسرے ملک کے اطمینان کے مطابق بدل نہیں سکتے۔

ابھی ہم ”براڈ شیٹ“ کے عذاب سے نہیں نکلے۔ اکیس سال پہلے جنرل مشرف کے حکم اور جنرل امجد کے دستخطوں سے کیے جانے والے معاہدے کے تحت ہم کم و بیش دس ارب روپے غیروں کی جھولی میں ڈال چکے ہیں۔ اب جسٹس عظمت شیخ کا کمیشن جو بھی اور جیسا بھی فیصلہ دے یہ رقم واپس نہیں آ سکتی۔ البتہ یہ ضرور ہو گا کہ اس کمیشن کے انتظامی اخراجات پر کچھ کروڑ روپے مزید خرچ ہو جائیں گے۔ اور شاید سیاستدانوں کو ایک دوسرے پرکیچڑ اچھالنے کے لئے کچھ اور مواد مل جائے۔

ادھر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن کے حوالے سے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن مزید بڑھ گئی ہے اور 160 ملکوں میں ہم 124 نمبر پر آ گئے ہیں۔ چھ سال پہلے 2015 میں ہمارا نمبر 117 تھا، 2016 میں 116 رہا۔ 2017 میں ایک بار پھر 117 ہو گیا۔ 2018 میں بھی 117 رہا۔ 2019 میں کرپشن تین درجے اوپر چلی گئی اور ہمارا مقام 120 نمبر پر آ گیا۔ اور 2020 میں ہم مزید چار سیڑھیاں اوپر چڑھ کر 124 نمبر پر آ گئے ہیں۔

گویا صرف دو سالوں میں کرپشن میں سات درجے کا اضافہ ہوا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم حقائق کو کھلے دل سے ماننے کے بجائے تاویلوں سے کام لیتے ہیں حالانکہ تیز رفتار اور گہری نظر رکھنے والے میڈیا کے اس دور میں نہ حقیقت چھپائی جا سکتی ہے اور نہ کوئی خلاف حقیقت بات لوگوں کو باور کرائی جا سکتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ بی۔ بی۔ سی نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے سارا ابہام دور کر دیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار پرانے نہیں، گزشتہ دو سالوں سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔

اب ضرورت تو یہ ہے کہ پہلے قدم کے طور پر مان لیا جائے کہ کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر اس اضافے کے اسباب جاننے کی کوشش کی جائے اور تیسرے نمبر پر اس اضافے کی روک تھام اور کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ لیکن جب رویہ یہ ہو کہ ان اعداد و شمار کا ہماری حکومت سے کوئی تعلق نہیں، یا یہ کہ ہمارے دشمنوں نے یہ کارروائی ڈالی ہے تو پھر نہ تحقیق کی ضرورت رہتی ہے، نہ اصلاح کی۔

ادھر آئی۔ ایم۔ ایف نے کچھ ممالک کے بارے میں جائزہ رپورٹ دی ہے کہ اس سال یعنی 2021 میں جی۔ ڈی۔ پی یعنی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو (growth rate) کیا رہے گی۔ اس جائزے کے مطابق ہمارے لئے لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ ہم اٹھارہ ممالک میں اٹھارہویں نمبر پر ہیں اور یہ بھی کہ بھارت اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ آئی۔ ایم۔ ایف کا کہنا ہے کہ متوقع اندازے کے مطابق بھارت کی شرح نمو 11.5 فیصد رہے گی۔ چین 8.1، ملائشیا 7، ترکی 6، سپین 5.9، امریکہ 5.1، انڈونیشیا 4.8، برطانیہ 4.5، میکسکو 4.3، برازیل 3.6، کینیڈا 3.6، جرمنی 3.5، جاپان 3.1، روس 3، اٹلی 3، سعودی عرب 2.6، نائیجیریا 1.5، اور پاکستان 1.5۔ اگرچہ اس رپورٹ میں افغانستان کا ذکر نہیں لیکن ایک اور جائزے میں اس جنگ زدہ ملک کی متوقع شرح بھی 1.5 فیصد ہی بتائی گئی جبکہ بنگلہ دیش کی متوقع شرح نمو 4.4 فیصد رہے گی۔

یہ صورتحال کسی بھی پاکستانی کے لئے اطمینان کا باعث نہیں۔ سوچ سمجھ رکھنے والے ہر شہری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا پاکستانی ذہنی صلاحیتوں سے عاری ہیں؟ کیا وہ سخت محنت و مشقت نہیں کر سکتے؟ کیا وہ ہنر اور صلاحیت سے محروم ہیں؟ آخر ایسا کیا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے ہی پیچھے جا رہے ہیں۔ میں نے کرنسی کا ذکر نہیں کیا۔ ہمارا روپیہ بنگلہ دیش اور افغانستان کی کرنسی سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے کرپشن کے خاتمے کو سب سے بڑی ترجیح بنایا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ کرپشن بھی بڑھ گئی اور ہم کرپشن تلاش کرتے کرتے اپنے خزانے کے دس ارب روپے بھی گنو ا بیٹھے۔

یہ صورتحال ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے اور پریشانی کا باعث بھی۔ کیا سب کام چھوڑ چھاڑ کر ایک نہایت ہی قابل اعتبار کمیشن نہیں بٹھایا جا سکتا جو اصل بیماری کا سراغ لگائے کہ ہم کیوں زوال کا شکار ہیں۔ جب تک اس بیماری کی تشخیص نہیں کر لی جاتی، علاج کا سوال ہی نہیں پید ہوتا۔ اور اگر علاج نہ کیا گیا تو آنے والا ہر دن ہمیں پیچھے ہی دھکیلتا جائے گا۔ ہے کوئی سوچنے والا!

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •