جو ہم آپس میں لڑتے ہیں
یوں تو یک جہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منا یا جاتا ہے لیکن اس سال ایک دن قبل یعنی رواں ماہ کی 4 تاریخ کو اس ”یکجہتی“ کا ٹریلر پاکستان کی قومی اسمبلی میں چلا کر پوری دنیا کو یہ بتایا گیا کہ ہم از خود کتنے متحد ہیں۔ قومی اسمبلی میں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی اور انھیں یہ یقین دلانے کے لئے کہ ہم سب ان کی ہر جد و جہد، ہر غم اور ہر کرب و بلا میں ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہیں، ایک قرارداد پیش کی جانی تھی لیکن اس قرارداد پر رائے کچھ یوں آئی کہ ہر جانب جوتم پیزار شروع ہو گئی اور ایوان مچھلی بازار کا اعلیٰ ترین نمونہ بن کر رہ گیا۔
ہوا یوں کہ ایک ہی تالاب پر بکری اور شیر کو جمع کرنے کے بعد یہ سمجھ لیا گیا کہ شیر اپنی خصلت اور ”بز“ بزدلانہ فطرت کو فراموش کر کے اپنی اپنی بینادی ضرورت یعنی ”پیاس“ کی احتیاج کو تسکین دینے کے بعد شانتی کے ساتھ اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب پلٹ جائیں گے۔ تھوڑی دیر کے لئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بکری اور شیر دونوں ہی پیاس کے ہاتھوں اس درجے بیقرار تھے کہ کسی کو بھی کسی کا کوئی ہوش ہی نہیں تھا اور دونوں کی اولین طلب پانی ہی تھی تب بھی دونوں کو ایک ہی گھاٹ پر لانے والوں کو یہ تو سوچنا چاہیے تھا کہ پیاس نے اگر ان کی اپنی اپنی خصلتوں پر پردہ ڈال ہی دیا تھا تو کیا احتیاج کی تسکین کے بعد بھی ان کی فطرتیں بدل سکتی تھیں۔
قومی اسمبلی میں اگر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی ہی کی قرارداد پیش کرنی تھی تو پیش کر دینی چاہیے تھی، مجھے یقین ہے کہ کشمیر کے ساتھ یک جہتی ایک ایسا اشو ہے جس پر نہ تو کسی کو کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی اس قسم کی کوئی قرارداد کسی کے لئے کبھی اختلاف کا سبب بنی ہے کیونکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کئی برس سے اس قسم کی قراردادیں اور اظہار یکجتی کے مظاہرے کرتا چلا آیا ہے۔ بات کیونکہ ہمیشہ قراردادوں اور اظہار یک جہتی کے طور پر ہاتھوں کی زنجیریں بنانے، جلسے کرنے، جلوس نکالنے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرنے سے کبھی آگے بڑھی ہی نہیں اس لئے نہ تو دنیا کو اور نہ ہی پاکستان میں کسی طبقہ فکر کو یوم یک جہتی کشمیر منانے پر کوئی اعتراض ہوا ہے نہ ہونے کا کوئی امکان کہیں سے کہیں تک موجود ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ مقبوضہ کشمیر صرف ”مقبوضہ“ ہوا کرتا تھا تب بھی لفظوں کی گولہ باری سے کبھی بات آگے نہ بڑھی تھی اور اب جبکہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور شق 35 اے کا حلیہ ہی بگاڑ کر مقبوضہ کشمیر پر اپنا قانونی حق جمالیا ہے تب بھی ہم یوم یک جہتی لفظوں کی گولہ باری سے آگے بڑھانے کے لئے کسی طور تیار نہیں تو دنیا ہو، بھارت ہو یا پاکستان کے نمبر ون کہلانے والے، ان میں سے کسی کو بھی کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ شاید اسی نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں جب یوم یک جہتی کشمیر کے لئے قرارداد پیش کی گئی تو ایوان نے یہی بہتر جانا کہ کشمیر کے محاذ پر کوئی حقیقی بمباری ہو یا نہ ہو، کچھ دیر کے لئے ایوان ہی میں محاذ جنگ کا منظر سجادیا جائے تو کیا مضائقہ ہے۔
خبروں کے مطابق ”قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان گتھم گتھا ہو گئے جبکہ ایوان میں دھکم پیل کی وجہ سے کئی ارکان گر پڑے، اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ ہوا، ایوان مچھلی بازار بن گیا، کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد جھگڑے کی نذر ہو گئی اور تاریخ میں پہلی بار 20 سارجنٹس کے حفاظتی حصار میں ڈپٹی اسپیکر کو ایوان کی کارروائی چلانا پڑی“ ۔ بات اگر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی تک ہی محدود ہوتی تو شاید ایوان مچھلی بازار کی بجائے مکتب و مدرسہ ہی بنا رہتا لیکن شیر کے سامنے بکری کی مثل، سینیٹ میں سینیٹرز کے انتخابات کے قوانین کے سلسلے میں ترمیمی بل پیش کر کے خوامخواہ شیر کی فطرت کو جاگ جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ کشمیر کے ساتھ اظہار یک جہتی کی قرارداد کے ساتھ جیسے ہی ترمیمی بل سامنے آیا، ویسے ہی شیر بکری پر جھپٹ پڑا۔ بس پھر کیا تھا، جنگل کے سارے جانوروں میں وہ چیخ و پکار مچی کہ کان پڑی آوازیں تک نہ سنائی دینے لگیں اور لوگ کشمیریوں کے دکھ درد بھول کر اپنے اپنے دکھڑے رونے لگے۔
جس قوم کا مزاج ہی ایک دوسرے کو کوسنا، نیچا دکھانا، ایک دوسرے پر بہتان تراشنا، اوچھے الزامات لگانا، عزت داروں کی پگڑیاں اچھالنا اور ہر صورت ایک دوسرے کے خلاف مغلظات کا تبادلہ کرنا ہی بن گیا ہو، وہ کسی بھی فورم پر اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں سکتی۔ جب گھروں سے لیکر۔ گلیوں، بازاروں اور چوک چوراہوں تک ایک بیماری نے گھر کر لیا ہو تو پھر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ پاکستان کا کوئی دفتر، کوئی شعبہ زندگی یا کوئی ایوان اس بیماری سے محفوظ رہ سکے۔
جب فتنہ و فساد روئیں روئیں تک اتر جاتا ہے تو پھر یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ دلوں میں لگی نفرتوں کی آگ صرف جلے کٹے لفظوں کی بارش سے بجھائی جا سکے۔ نفرتوں کی اس آگ کو بجھانے کے لئے انسانی خون کے دریا ہی درکار ہوا کرتے ہیں۔ پورے پاکستان میں میں بھڑکتی نفرت کی یہ آگ کسی خوفناک (اللہ نہ کرے ) شب خون کو دعوت دیتی نظر آتی ہے۔ اگر اسے بر وقت ٹھنڈا نہ کیا جا سکا تو انجام کار بہت اچھا نظر نہیں آ رہا۔ میڈیا سے لے کر ایوانوں تک اور ایوانوں سے لے کر سیاست کے میدانوں تک جو ہا ہا کار مچی ہوئی ہے اس پر میں حفیظ جالندھری کے ایک شعر میں تحریف پر معذرت کرتے ہوئے طنزاً اتنا ہی عرض کرنا چاہوں گا کہ
جو ہم آپس میں لڑتے ہیں یہ خصلت ہے دلیروں کی
کہ مل کر بیٹھنا عادت نہیں ہوتی ہے شیروں کی


