نباض حکیم اور جاہل ڈاکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر سے اچھے تو حکیم تھے، جو نبض پکڑ کر مرض بتا دیتے تھے۔ کیا تھا اگر ڈاکٹر بھی حکیم ہوتے اور نبض پکڑتے ہی علاج کر لیتے۔ علاج نبض پکڑتے ہی سمجھ میں آ جاتا ہے، بس پتہ ہونا چاہیے کہ کس کی نبض کس بات پر رکتی ہے۔

غیر تصدیق شدہ ذرائع کی ’مستند‘ رائے ہے کہ کسی بھی بیماری کا علاج ڈاکٹر سے زیادہ عام لوگوں کو پتہ ہوتا ہے۔ اماں نوراں کی بیماری ڈاکٹر کی سمجھ میں نہیں آئی اور اس نے اماں کے گال بلیڈر کا آپریشن کر دیا جبکہ اماں نوراں کو تو پسلیوں کے نیچے پِتے میں درد تھی۔ پتہ نہیں ان ڈاکٹروں کو ڈگری کو کون تھما دیتا ہے۔

دور کیا جانا میری ہی سنیئے، کتنا کہا ڈاکٹر صاحب مجھے ڈرپ کی ضروت ہے، آپ لگا دیں۔ لیکن ڈاکٹر نے ایک نہ سنی اور سکی لیکس پکڑا دیا۔ چلو ڈرپ نہیں تو طاقت کا ٹیکہ ہی لگا دیتا۔ ضروری تو نہیں کہ ڈرپ صرف پیچش میں ہی لگے، قبض میں ڈرپ لگاتے کیا تھا بھلا۔ بس بس فیسیں دیے جاؤ ان کو۔ ڈاکٹر سے اچھا تو محلے کا فیقا نائی اور دائی حمیدہ ہے جو بنا فیس لیے درد بھی جانتے ہیں اور علاج بھی۔

انھیں پتہ ہے کل شیخوں کی نوں (بہو) کے پیٹ میں درد ساس کی چغلیاں نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اور شیدے کی سر درد تب ہی ختم ہو سکتی ہے جب اس کا ابا اس کو جائیداد میں حصہ دے گا۔ اگر شیخوں کی نوں اور شیدا ڈاکٹر کے پاس جاتے، تو حرام تھا کہ ڈاکٹر کو سمجھ آتی ان دونوں کی، اس نے تو بھیج دینا تھا مہنگے ٹیسٹ کروانے۔ دائی حمیدہ اور فیقے نائی جیسے لوگوں کے پاس ہر بیماری کا علاج موجود ہوتا ہے۔ وہ بیماری جو ان دونوں کی سمجھ میں نہ آئے، اس کا علاج بابا کرامت شاہ کر دیتا ہے۔

بابا کرامت شاہ کرموں والا بابا ہے۔ جو دو کالے بکروں کا صدقہ لے کر چھوٹے بڑے آپریشن سے لے کر ہرنیا اور اپنڈکس تک کا آپریشن فی سبیل اللہ کر دیتا ہے۔ یہ خوش قسمت اور کامیاب لوگ ہیں جن کو ڈاکٹری کی موٹی کتابوں پر تکیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کسی مرض کو ڈھونڈنے کے لیے ان کی زیرک نگاہیں اور ذہین مخبر کافی ہوتا ہے۔

ابھی کل ہی دائی حمیدہ نے کرمو کی ووہٹی کو دیکھ کر بتایا تھا کہ اسے پیلا یرقان ہے۔ کرمو کی ووہٹی کی مت ماری گئی تھی جو وہ دائی حمیدہ جیسی سیانی کو چھوڑ کر ڈاکٹر کے پاس چلی گئی۔

ظالم ڈاکٹر نے اس کا علاج کرنے کی بجائے کہہ دیا اسے وہم ہے۔ اگر شک دور کرنا ہے تو پانچ ہزار کے ٹیسٹ کروا لے۔ لو بتاؤ تم کاہے کے ڈاکٹر ہو جو مشینوں پہ بھروسا کرتے ہو۔ ضرور ڈاکٹر لیبارٹری والوں سے ملا ہو گا، ورنہ دائی حمیدہ جھوٹ تھوڑی بولے گی۔ اب کرمو کی ووہٹی دائی حمیدہ سے پیلے یرقان کا کامیاب علاج کروا کر لال ہو رہی ہے۔

بھیا مغرب کے ڈاکٹروں کی کیا بات ہے۔ وہاں ڈاکٹر کو مرض کی سمجھ نہ آئے تو انہیں تشویش لاحق ہو جاتی ہے۔ مرض ڈھونڈنے کو کئی ڈاکٹروں کا بورڈ بیٹھ جاتا ہے۔ لیکن اپنے ہاں ڈاکٹر ٹھیک ٹھاک مریض کو بھی کہہ دیتے ہیں کہ تمہیں وہم ہے۔ چلیں مان لیا وہم ہے اب اسی کا علاج کر دو۔ بس جی یہ ڈاکٹر بھی ناں بندے کو مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں یا پھر اگر مریض پر زیادہ مہربان ہو جائیں تو پھر اسے مار کر چھوڑتے ہیں۔

صاحب! جو میں نے کہا ، فرشتے اگر اسے جھوٹ لکھنے پہ مصر ہوں تو شوق سے لکھیں، لیکن سچ بات یہ ہے کہ بندہ مر رہا ہو تو ڈاکٹر مریض کے گرد اس قدر گھیرا تنگ کر دیتے ہیں کہ عزرائیل کو راستہ ہی نہیں مل رہا ہوتا۔ یقین نہیں تو جا کر دیکھ لیں ہسپتالوں میں۔ بس مریض کے سینے میں سانس ہوتی ہے لیکن ڈاکٹر بضد ہوتے ہیں کہ وہ زندہ ہے۔ جو چلتے پھرتے ہیں، ان کی تو ڈاکٹر کبھی پروا نہیں کرتے اور بستر مرگ پر بندے کو آکسیجن لگا کے بیٹھ جاتے ہیں۔

حالانکہ سننے والوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ مریض پل بھر کا مہمان ہے۔ دوسرے شہروں میں رہنے والے رشتے دار تو گھر سے بھی نکل پڑتے ہیں تاکہ جنازے میں بر وقت پہنچ سکیں۔ شہر والے بال رنگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور خواتین فیشل کے لیے بیوٹی پارلر پہنچ جاتی ہیں کہ میت والے گھر آخر منہ ہی تو دیکھا جاتا ہے۔

بس ایک ڈاکٹر ہی ہوتا ہے جو سمجھتا نہیں کہ مریض کو چھوڑ دے اور اب اس پر عزرائیل کو اپنا ہنر آزمانے دے۔ لیکن بعض ڈاکٹروں نے ملک الموت کے ہاتھ پہ ایسی پکی بیعت کر رکھی ہے کہ وہ اس وقت تک مریض کو نہیں چھوڑتے، جب تک وہ اسے پروانۂ اجل نہ تھما دیں۔ یوں ڈاکٹرز عزرائیل کا اعزاز اس سے چھین لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •