میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخی مقامات اور شاعر مشرق علامہ اقبال سے عقیدت رکھنے والے لوگوں کے لئے گریٹر اقبال پارک نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ بادشاہی مسجد، گریٹر اقبال پارک، مزار اقبال اور شاہی قلعہ سب ایک ہی مقام پر دیکھ کہ کچھ لمحوں کے لئے تو انسان کہیں ماضی کے دریچوں میں کھو جاتا ہے۔

اب جس مقام پر ماضی کا اتنا قیمتی سرمایہ موجود ہو اس مقام کی دیکھ بھال کے لئے کچھ شخصیات کو لازما نامزد کیا جاتا ہے جن پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ حال ہی میں ذمہ داران کی غفلت نے ان کاکرگی پہ کئی سوال اٹھا دیے ہیں۔

اگست2020 میں گریٹر اقبال پارک میں نصب کیا گیا علامہ اقبال کا مجسمہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے کیونکہ یہ مجسمہ علامہ اقبال کی تصاویر جیسا بالکل نہیں دکھتا۔ سوشل میڈیا پر جب اس بارے مین بات کی گئی تو ہر شخص نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ مجسمہ کسی ماہر مجسمہ ساز نے نہیں بلکہ پارک کے مالیوں نے بنایا ہے۔

”مجسمہ مالیوں نے اپنی مدد کے تحت خود بنایا ہے اور ادارے کی جانب سے اس کی مد میں کوئی رقم نہیں خرچ کی گئ“

یہ بیان چیئرمین ہارٹیکلچر یاسر گیلانی صاحب کی جانب سے سامنے آیا۔

مالیوں کی جانب سے کہا گیا کہ مچسمہ بناتے وقت ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے اور اب وہ اسے اپنے ہاتھوں سے مسمار کر رہے ہیں۔ تنقید اور اصلاح اپنی جگہ لیکن اقبال کی محبت ان مالیوں کے دلوں میں عروج پہ ہے۔

اقبال کی محبت میں سرشار ان مالیوں کے جذبے کو کہیں سراہا گیا تو کسی نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ کسی نے کہا کہ یہ مجسمہ عوامی آرٹ ہے اسے ایسے ہی رہنے دیا جائے کیونکہ اسی کسی ماہر مجسمہ ساز نے نہیں بنایا اور عوامی آرٹ ایسی ہی ہوتی ہے، تو کہیں اس میں چند تبدیلیوں کا مشورہ دیا گیا۔

تنقید اور اصلاح تو معاشرے میں ہر عمل پر ہوتی رہتی ہے لیکن یہاں پر سوال کچھ ذمہ داروں کی کارکردگی پر اٹھتا ہے کہ اتنا عرصہ گزر گیا اور آپ کو یہ بھی احساس نہ ہوا کہ اس پارک میں ایک نیا مجسمہ نصب ہو چکا ہے اور کیا یہ مجسمہ ایک ہی دن میں بن گیا تھا کہ آپ نے کوئی حکمت عملی نہ اپنائی؟ عوام کے ٹیکسوں سے لاکھوں کی تنخواہیں لے کر اپنی ذمہ داریوں سے اس قدر غافل ہو جاتے ہیں کہ آپ کے ماتحت اپنی مرضیاں کرتے پھر رہے ہیں۔

میری ذاتی رائے کے مطابق ذمہ داران یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھنے کی بجائے کہ اس عمل میں ان کی کوئی رائے شامل نہیں ہے بر وقت اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لیتے اور اس کام میں مالیوں کی محبت اور عقیدت کو خاطر میں لا کر کسی ماہرمجسمہ ساز کی خدمات حاصل کر لیتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ نہ ہی کسی کو اس کے عہدے سے ہٹایا جاتا اور نہ ہی مالیوں کی دل آزاری ہوتی۔ خدارا ہر شخص اپنی ذمہ داری کو ذمہ داری سمجھے کیونکہ بروقت کیے گئے فیصلے بہت سے سوالات سے آپ کو بچا لیتے ہیں۔

اس وقت جتنے بھی سوالات او ر تنقید کا سامنا ذمہ داران کو کرنا پڑ رہا ہے یہ سب فطری ہے کیونکہ علامہ اقبال کی محبت اور عقیدت ہماری رگ رگ میں بسی ہے۔ ذمہ داران کی اس نا اہلی کی وجہ سے ہر شخص افسردہ ہے کہ ہمارے عظیم رہنما کی مجسمہ سازی ہوئی اور یہ لوگ غفلت کی نیند سوتے رہے۔ تو صاحب اقتدار حضرات سے گزارش ہے کہ اب ہوش کے ناخن لیجیے اب آپ کی غفلت پر قوم خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ اقبال ہی کا شعر ہے کہ

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا! میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).