EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

دنیا کی رفتار سست، عورتوں کے قدم تیز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ حقیقت ہے کہ جب سے کورونا آیا ہے دنیا بھر میں ترقی کا پہیہ منجمد نہیں تو سست رفتار ضرور ہو گیا ہے. کبھی کبھی یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ شاید اب کائنات کو حضرت انسان کی حاجت نہیں رہی یا بحیثیت اشرف المخلوقات ہمارا سفر بس اتنا ہی تھا۔ آگے کا اللہ مالک ہے، ہم رہیں یا نہ رہیں یہ دنیا تو پھلے پھولے گی۔

لیکن شاید ایسا نہیں ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ بہت بڑی تبدیلی بھی آ رہی ہے جس کا کورونا کے واویلے میں ہم نے نوٹس ہی نہیں لیا۔ تو چلیے یہ اچھی خبر کا ہم چرچا کیے دیتے ہیں. تو سنئیے جناب خبر یہ ہے کہ خواتین آ رہی ہیں۔ جی ہاں ایک نئے کردار میں اور بھرپور طریقے سے۔

اس کائنات میں عورت کو ایک کمزور مخلوق سمجھا گیا اور ناقص العقل کہا گیا۔ اور ایسے کالم نگاروں کی پرانی کھیپ ابھی باقی ہے جو آئے روز خواتین پر اپنی ناکامیوں کی  "برق” گراتے رہتے ہیں مگر اس مخلوق نے اپنی ہمت اور کاوشوں سے سارے لیبل اتار کر پھینک دیے اور آج وہ ثابت کر چکی ہے کہ نہ صرف وہ مرد کے ہم پلہ ہے بلکہ دنیا پر حکمرانی کے قابل بھی ہے۔ وہ زمانے لد گئے جب عورتوں کا کام صرف مردوں کا دل لبھانا، بچے پیدا کرنا، ان کو پالنا اور خاندان کے سب چھوٹے بڑے کی خدمت کرنا تھا کسی نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ کبھی وہ کمزور مخلوق اپنے ملک کے اعلی عہدوں پر بھی فائز ہو گی.

ہم یہ تو جانتے ہیں کہ مسز اندرا گاندھی ہندوستان کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ بینظیر بھٹو شہید اسلامی دنیا کی پہلی وزیر اعظم تھیں. وہ دو بار وزیر اعظم رہیں اور شہید نہ ہوتیں تو تیسری بار بھی یہ منصب ان کے حصے میں آتا۔ لیکن آج یہ اعزاز کئی خواتین کے حصے میں آیا ہے۔ ایک لمبی فہرست موجود ہے آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

1. اینجلا مرکل۔ چانسلر جرمنی

2. شیخ حسینہ واجد۔ وزیر اعظم بنگلہ دیش.

3ایرما سولبرگ۔ وزیر اعظم ناروے۔

4نکولا اسٹریجن۔ فرسٹ منسٹر اسکاٹ لینڈ

5 بدھیا دیوی بھنڈاری۔ صدر نیپال

6 سارہ کیگنیلیوا وزیراعظم نمیبیا

7میٹی فریڈرک سن وزیراعظم ڈنمارک

8 کرسٹی کلیلجولیڈ وزیر اعظم اسٹونیا

ہ 9 سائی اینگ وین صدر تائیوان

1۔ اینا بری بک وزیر اعظم سربیا

11 حلیمہ جیکب صدر سنگا پور

12 جیسینڈا آرڈرن وزیر اعظم نیوزی لینڈ

13 کترینہ دوستیر وزیراعظم آئس لینڈ

14 سہالی ورک زویڈا صدر ایتھیوپیا

15 سلونی زیابکولی صدر جارجیا

16 پاؤلا وئیکس صدر ٹیرینیڈاڈ، ٹوباگو

17 میا کوٹلی. صدر باربیڈوس

18 ثنا مارین وزیراعظم فن لینڈ

19 زوذینا کیپیٹووا صدر سلواکیہ

2۔ مالا سنڈوو صدر مالڈوا

21 کتریینا سکیرو پروپولو وزیراعظم یونان

22 انگریدا سیمو نایت صدر لیتھونیا

23 رویاکرسٹینا کپوں صدر گبون

24 کمالا ہیرس نائب صدر امریکہ

کہیے جناب کھل گئیں آنکھیں. کہیں آپ کے خرمن پر "برق” تو نہیں گر گئی. کچھ لوگوں کی امیدیں تو جل کر راکھ ہو چکی ہوں گی. عقلمند کو اشارہ کافی ہو تا ہے. مگر عقلمند ہوتے تو ایسی فرسودہ سوچ ہی کیوں رکھتے۔ بس ان کی خدمت میں ایک شعر ہی عرض کر سکتی ہوں۔

ہائے یہ لوگ انہیں کیا کہئیے

زہر قاتل کو دوا کہتے ہیں

یہ تو تھی ان خواتین کی فہرست جو اس وقت دنیا کے چوبیس ملکوں میں برسر اقتدار ہیں. ان کے علاوہ سینکڑوں ہیں جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نام پیدا کر چکی ہیں۔ ان کی فہرست بنانے بیٹھیں تو کئی دن لگ جائیں گے شعبے بھی بہت ہیں اور خواتین بھی بہت۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں مختلف بورڈ اور یونیورسٹیوں کے نتائج سے ملتا ہے اور ان اعزازات سے بھی جن سے خواتین کو نوازا جاتا ہے. جاتے جاتے میں ایک ہونہار پاکستانی لڑکی ملالہ یوسف زئی کا حوالہ دیتی چلوں جو ہمارے مستقبل کا ایک روشن ستارہ ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
انیس ہارون کی دیگر تحریریں