رفتار ہی انتشار ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنے ایک انشائیے میں چار لفظوں پر مشتمل ایک نہایت ہی مختصر مگر خوبصورت جملہ جڑ دیا ہے۔ ”رفتار ہی انتشار ہے“ بظاہر یہ چھوٹا سا جملہ ڈاکٹر صاحب نے طنزیہ و مزاحیہ پیرائے میں کہا ہے۔ مگر کمال کیا ہے۔ اس پر جتنا سوچا جائے ذہن کی پرتیں کھلتی جاتی ہیں۔ اس میں انسانی معاشرے کا ابتدا سے موجودہ ارتقا تک کا بیان موجود ہے۔

وزیر آغا صاحب کے ان چار الفاظ نے سہل ممتنع کہنے والے شعرا کو پیچھے چھوڑ دیا، جو شعر کے دو مصرعوں میں زندگی اور موت کا مکمل فلسفہ بیان کر دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جملہ انہوں نے مادہ ”الو“ سے ادا کروایا ہے جس کو ہمارے ہاں ”بے حد بے وقوف“ سمجھا جاتا ہے۔

واقعی رفتار ہی انتشار ہے۔ انسان نے اپنا دنیاوی سفر اتنا بڑھا دیا ہے کہ وہ اپنے مرکز سے دور نکلتا جا رہا ہے۔ بقول شہزاد احمد:

اب تو شہزاد ستاروں پہ لگی ہیں نظریں
کبھی ہم لوگ بھی مٹی میں جیا کرتے تھے

یہ سچ ہے کہ انسان خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ پرکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ جسے تلاش کیا جا رہا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس میں کتنی صداقت اور پائیداری ہے؟ کیا یہ منزل جو پھولوں کی سیج نظر آ رہی ہے کہیں مکمل سراب تو نہیں؟ منزل پانے کے بعد اپنے کیے پر پچھتاوا تو نہیں ہو گا؟ کہیں یہ مقام انسانیت کے ساتھ تضاد تو نہیں رکھتا؟ اور ہاں اس کے حصول کا طریقہ اصول کے مطابق ہے؟ یقیناً ان سوالات کے جوابات آسان نہیں ہیں کیونکہ موجودہ دور مادہ پرستی کا دور ہے۔

ملا کی دوڑ مسجد تک کے مصداق اس دور کے انسان نے مادے کا حصول اپنی زندگی کا عظیم مقصد قرار دیا ہے۔ گاؤں کا رہنے والا ہو یا شہروں کا باسی، ادنیٰ ہو یا اعلیٰ، کسی بھی منصب، عہدے، رنگ و نسل، ملک و قوم اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اس پر بس دولت کمانے کی دھن سوار ہے۔ رفتار اتنی بڑھا دی ہے کہ انسان اخلاقی قدروں کو روندتے ہوئے بڑھ رہے ہیں، اکثر و بیشتر حلال و حرام کی تمیز بھول جاتے ہیں۔

معاشرے میں اس کی مثالیں عام ملتی ہیں۔ لیکن تیز رفتار دوڑ سے جو سب سے بڑا سماجی و معاشرتی نقصان انسان کو بھگتنا پڑ رہا ہے وہ یہ کہ انسان، انسان سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ہماری مضبوط روایات پامال ہو رہی ہیں۔ انسان نے خود کو طبقاتی نظام میں تقسیم کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر حکومتی و غیر حکومتی ”رہائشی منصوبوں“ نے پوری کر دی ہے، جنہوں نے انسان کو 5 مرلہ اور کنال کی چاردیواری میں مقید کر دیا۔ جہاں پر وہ ”ڈیڑھ اینٹ مسجد“ کی مانند اپنا وقت بسر کر رہے ہیں۔

انسان نے مادے کی دوڑ میں ذہنی و جسمانی طور پر خود کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ کسی کا دکھ درد بانٹنے، ہمدردی جتانے اور خوشی میں شریک ہونے کے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔ ایک ہی محلے اور گلی میں رہتے ہوئے اجنبی ہوتے ہیں اور تکلف کا یہ حال ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے بھی باقاعدہ منٹوں کے حساب سے وقت لیتے ہیں، گویا ملاقات نہ ہوئی ڈاکٹر کا کلینک ہوا۔

ایک وقت تھا کہ علاقے میں خوشی ہوتی تو سبھی شریک ہوتے۔ جنازہ ہوتا تو ایک عرصے تک لوگ ایسی حرکت نہ کرتے جس سے سوگواران کو تکلیف پہنچے اور آج ایک ہی گلی میں ایک گھر میں شادیانے بجتے ہیں اور پڑوسی کے گھر میں ماتم برپا ہوتا ہے۔ اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک وقت تھا جب پیسہ صرف ضرورت کی حیثیت رکھتا تھا، آج پیسہ کل بن چکا ہے۔ ضرورت نے مقصد کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کی وجہ سے انسان نے مشینی انداز میں سوچنا شروع کیا ہے، جو کہ مروت، لحاظ، پیار و محبت اور امن و آشتی کے خاتمے کا باعث بن گیا ہے۔

مجھے سڑک پر سخت تپتی دھوپ میں بیٹھے بھکاری پر اتنا ترس نہیں آتا جتنا پوش علاقے میں بڑے بنگلے کے سامنے ٹھنڈی چھاؤں میں کرسی پر چمن میں اکیلے بیٹھے ہوئے بزرگ پر آتا ہے۔ جنہوں نے حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر یہ بنگلہ بنانے میں اپنی جوانی کھو دی اور اب ان کے بیٹے اور پوتے بڑی شان سے مغربی طرز کی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ وہ تنہائی کا شکار موت کا انتظار کر رہا ہے اور سڑک پر سے گزرتے ہوئے گاڑیوں اور لوگوں کو دیکھ کر دل بہلا رہا ہے۔ بقول شاعر

زندہ لاشوں کا یہاں سوگ نہیں کرتا کوئی
مرنے والوں کے عزادار بہت ہوتے ہیں

انسانی رویے بہت اہم ہیں۔ دولت کو کل سمجھنے سے رویوں میں اچانک نہ تھمنے والی تبدیلی آ جاتی ہے، جس کی رو میں انسان بہتا چلا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی معاشرے کی لیے بہت نقصان دہ ہے۔ انسان معاشرتی حیوان ہے۔ یہ جتنا اپس میں گھل مل کر رہتا ہے، اتنی ہی ان کی زندگی میں خوشیاں اور چین و سکون ہوتا ہے، دکھ درد بٹتا ہے، پیار و محبت بڑھتی ہے اور روحانی طور پر آرام ملتا ہے۔

اشفاق احمد زاویہ میں لکھتے ہیں ”ہمارے گاؤں میں جب کوئی اماں تیلن سے دو آنے کی تیل کی کپی لینے جاتا تو اماں اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی، پیار کرتی اور بٹھا دیتی۔ ماں کا حال پوچھتی اور کہتی پتر روٹی کھائے گا۔ وہ کہتا کہ نہیں اماں بس تیل دے دیں۔ اس کے انکار کے باوجود اماں تیلن اس تیل دینے سے پہلے ایک پھلکا روٹی کھلاتی، اس پر مکھن کا پیڑا رکھتی، دو آنے کا تیل دیتی حالانکہ جو روٹی اور مکھن کا پیڑا وہ کھلاتی وہ شاید تین آنے کا بنتا ہو۔ لیکن ان وقتوں میں شاید ایسی باتیں نہیں سوچی جاتی تھیں اور محبتوں میں حساب نہیں کیے جاتے تھے اور لوگ اعداد و شمار سے زیادہ محبت پر یقین رکھتے تھے، پیسے سے زیادہ انسان پر توجہ دیتے تھے“

یہ حقیقت ہے کہ دنیاوی سہولیات سے فائدہ لینا ضروری ہے۔ ہر انسان کی خواہش بھی ہوتی ہے کہ وہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور ہر سہولت سے فائدہ اٹھائے۔ دولت کمانا بھی ضروری ہے مگر وہ دولت کیا جو انسان کو ایک دوسرے سے بیگانہ کر دے۔ انسان، انسان کا گلہ کاٹتا نظر آئے، گائے کی جگہ گدھے کا گوشت، گھی کی جگہ کتوں کی چربی اور دوا کی جگہ زہر فروخت کرے۔ واقعی رفتار ہی انتشار ہے۔ بقول شکیب جلالی:

ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •