یوم یکجہتی اور تنازعہ کشمیر واقعات کی روشنی میں


5 فروری کا دن کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر پاکستان میں ہر سال منایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ 30 سالوں سے جاری ہے ، مسئلہ کشمیر کو 72 سال ہو چکے۔ اس ضمن میں ہر حکومت قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاس میں متفقہ طور پر قراردادوں کے ذریعے اپنا واضح پیغام بھی دیتی آئی ہے۔ لیکن ان قراردادوں کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔

5 فروری 2021ء کو مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان عارف علوی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور بھارت نے 33 لاکھ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کر دیے ہیں جس کا مقصد آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں گے اور کشمیر صرف زمین کا نہیں بلکہ اصولوں کا معاملہ ہے۔ان حالات کے پیش نظر ہمیں عملی حقیقی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

کشمیریوں سے علامتی یکجہتی کوئی موثر حکمت عملی نہیں ہے۔ اس کا تعلق کشمیر 1990ء میں شروع ہونے والی عسکری تاریخ سے ہے۔ پاکستان میں یہ دن 5 فروری 1990کو پہلی مرتبہ منایا گیا۔ ”قائداعظم کا فرمان ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“ ۔ امریکہ کے سابق صدر ابراہیم لنکن نے کہا تھا کہ ”کسی کو آزادی سے محروم رکھنا کائنات کا سب سے بڑا جرم ہے“ آئیے ہم ان زمینی حقائق اور عالمی سطح کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان 72 سالوں میں تنازعہ کشمیر کے باب میں کیا کچھ ہوا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہر سال کے اجلاس میں پاکستان کا نمائندہ، وزیرخارجہ یا وزیراعظم جموں و کشمیر کے تنازعے کا ذکر اپنے خطاب میں ضرور شامل کرتا ہے۔ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو وہ مرکزیت حاصل نہیں رہی جو کہ 60 کی دہائی تک رہی تھی۔ اس کے بعد کشمیر کے تنازعے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (مجلس امن) یا کسی ذیلی ادارے یا انسانی حقوق کی کونسل میں کوئی مذمتی قرار داد منظور نہیں ہوئی۔

اپوزیشن کی طرف سے یہ سوال ہوا کہ 19 ستمبر 2019ء کو پاکستان نے کشمیر پر قرارداد میں جمع نہیں کرائی۔ یاد رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل 1994ء میں بے نظیر بھٹو حکومت نے بھی انسانی حقوق کی کونسل میں قرارداد جمع نہیں کرائی تھی۔اکثریتی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے رائے شماری سے قبل ہی قرار داد واپس لے لی گئی تھی۔ اس تنازعے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کبھی کم کبھی زیادہ رہی ہے۔ اس کشمکش کی وجہ سے دونوں ممالک میں کشمیر ان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو رہا ہے۔

1998ء میں بھی کشمیر کا ذکر اقوام متحدہ میں آیا تھا جب سلامتی کونسل میں پاکستان اور بھارت کی ایٹمی دھماکوں پر قرارداد منظور ہوئی تھی۔ قرارداد نمبر 1172 میں دونوں ملکوں سے جوہری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس وقت سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو حل کرانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ لیکن اب تک ایسا نہ ہو سکا ، پہلے بھی تنازعہ کشمیر چین کی حمایت کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شامل گفتگو رہا۔ 1971ء میں بھی تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ضمناً اٹھایا گیا تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جاری تھی۔

یاد رہے اس تنازعے کو اقوام متحدہ میں 1948ء میں بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو لے کر گئے تھے۔ جب مبینہ طور پر قبائلیوں کے حملے کے بعد جموں و کشمیر  کے مہاراجہ ہرسنگھ نے انڈیا سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہاں جنگ کا رخ اختیار کر کے اس سلامتی کونسل میں چودھری سر محمدظفراللہ خان کو ایک اجلاس میں تقریر کے لئے سوا دو گھنٹے میسر آئے تھے۔ یہاں یہ واقعہ بیان کرنا ضروری ہے کہ 1948ء میں سرمحمد ظفراللہ خان، نواب سر حمید اللہ خان صاحب والی بھوپال کے قانونی مشیر تھے۔

اس زمانے میں انہیں وزیراعظم لیاقت علی خان اور قائداعظم کا پیغام ملا کہ وہ جلد واپس پاکستان آمجائیں۔ آپ کو ایک اہم عہدہ دیا جانا ہے جس پر چودھری سر محمدظفر اللہ خان نے نواب آف بھوپال سے اجازت چاہی اور کہا کہ قائداعظم کی خواہش ہے کہ میں جلد کراچی پہنچوں جس پر نواب صاحب نے یہ کہہ کر اجازت دی کہ پاکستان کی ضرورت اور بہبودی کو میں ترجیح دیتا ہوں لہٰذا نواب صاحب نے اپنے ذاتی بیچ کرافٹ طیارے سے انہیں کراچی روانہ گیا۔

1948ء میں قائداعظم کی خواہش پر انہیں پہلے پاکستانی وزارت خارجہ کا قلمدان سپرد کیا گیا۔ اس کے بعد فوری طور پر قائداعظم نے فرمایا کہ آپ برما کے جشن آزادی میں پاکستان کی نمائندگی فرمائیں اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی مجلس امن میں قضیہ کشمیر کی پیروی کے لئے چلے جائیں۔

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ 1948ء میں جواہر لال نہرو کشمیر کا معاملہ مجلس امن میں خود لے کر گئے تھے۔ ان دنوں اقوام متحدہ میں برطانوی نمائندہ تو سر الیگزینڈر کیڈ وگن تھے لیکن اس قضیے کی اہمیت کے پیش نظر برطانیہ کے وزیر امور کامن و یلتھ رائٹ آنریبل مسٹر فلپ نوئیل بیگر خود لندن سے برطانیہ کی نمائندگی کے لئے آئے تھے۔امریکی نمائندہ سینیٹر وارن آسٹن بھی ہوان موجود تھے۔

یہ دونوں اصحاب پوری توجہ اور انہماک سے کوشاں تھے کہ مجلس امن کوئی ایسا حل تجویز کرے جس کے نتیجے میں جلد قضیے کا پرامن تصفیہ ممکن ہو جائے۔ لہٰذا دسمبر 1948ء کے آخری ہفتے میں دونوں حکومتوں نے دونوں قرار دادوں کو قبول کر لیا۔ اس پر کمیشن نے دونوں کو دعوت دی کہ اب فیصلے پر اتفاق ہو گیا ہے لہٰذا جنگ بند کر دی جائے ، چنانچہ یکم جنوری 1949ء کو جنگ بند ہو گئی۔

علاوہ ازیں چودھری سر محمدظفر اللہ خان نے کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں بھرپور انداز میں لڑا اور کشمیر سے متعلق قرارداد پاس کروائی جس کو آج ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس کے 23 سال بعد 1971ء تک اقوام متحدہ نے 17 قراردادیں منظور کیں اور ان سے متعلقہ ضمنی معاملات پر اجلاس طلب کیے ۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے دیگر طریقوں سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرانے کی کوششیں بھی کیں۔

1948ء میں تنازعہ کشمیر پر 4 قراردادیں منظور ہوئی تھیں۔ 1950ء میں ایک قرارداد 1952ء میں اور 1957ء میں 3 قراردادیں کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل میں منظور ہوئی تھیں۔ ان قراردادوں کے درمیان کئی مشنز تشکیل پائے لیکن کشمیریوں کا مسئلہ ابھی تک حل نہ ہو سکا۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ بھی ثالثی کی پیشکش کر چکے تھے۔ اس کے بعد 1965ء میں 5 مختلف قراردادیں منظور ہوئیں اور 1971ء میں دو قرار دادیں منظور ہو سکیں۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے بارے میں تھیں۔ ان دونوں قراردادوں کو سویت یونین نے ویٹو کر دیا تھا جس کی وجہ سے کشمیریوں کی حمایت میں قراردار منظور نہ ہو سکی۔

اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 307 جس میں کشمیر کا ضمناً ذکر ہے ، وہ دراصل 1971ء کی جنگ کے آغاز میں منظور ہوئی تھی اور اس وقت کشمیر جنگ کی وجہ نہیں تھا۔ 1972ء میں شملہ معاہدہ طے پانے کے بعد بھارت نے تنازعہ کشمیر کو مستقل طور پر سرد خانہ میں ڈال دیا۔

بظاہر دنیا کی تمام لاتعلقیوں کے باوجود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی دستاویزات میں اب بھی ایک حل طلب تنازعہ ہے۔ اکثر کشمیری آزادی کی بات تو کرتے ہیں لیکن انہیں اپنے مسئلے کے لئے اقوام متحدہ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ دونوں قراردادیں اقوام متحدہ نے منظور کی ہیں، اس ضمن میں اس مسئلہ کا حل اور تجویز بیان کر دیتا ہوں جو  72 سال قبل پیش کی گئی تھی جس کی تفصیل چودھری ظفراللہ خان کی کتاب ”تحدیث نعمت”  صفحہ 541 میں درج ہے۔

1948ء میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران چودھری محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ چودھری ظفر اللہ خان اور میں نے یہ مشورہ کیا کہ ہمیں ہندوستان کے اقدام کی روک تھام کے لئے اپنی فوج کو کشمیر کے محاذ پر بھیج دینا چاہیے اور اس کی اطلاع ہم نے وزیراعظم لیاقت علی خان کی خدمت میں بھیج دی اور عرض کیا کہ ”کشمیر کا فیصلہ کشمیر میں ہو گا نیویارک میں نہیں ہو گا۔“

وزیراعظم صاحب جو خود وزیر دفاع بھی تھے ، نے اس رپورٹ اور مشورہ پر پاکستانی فوج کو محاذ پر بھیجنے کے احکام صادر فرما دیے۔ اس بات کا اظہار پنڈت جواہر لال نہرو  نے اپنی کئی بار تقریروں میں بھی کیا کہ پاکستان کا وزیر خارجہ مجلس امن سلامتی کونسل کے سامنے تو کہتا ہے کہ ہماری باقاعدہ فوج جنگ میں شامل نہیں لیکن مئی 1948ء میں ثبوت مل گیا کہ پاکستانی فوج جنگ میں حصہ لے رہی ہے۔

اس مسئلے کا یہی حل ہے یعنی ” جنگ“ ۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے کچھ نہیں کرنا۔ فلسطین کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ عالمی و علاقائی سازشوں کے نتیجے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کی ہر تعریف کے مطابق بدترین ظلم و ستم ہے اور کچھ نہیں۔

کشمیر کی مسلمان آبادی ایک صدی سے زائد عرصہ تک ڈوگرہ مظالم کا شکار رہی ، اس کے بعد بھارتی مظالم کا شکار چلی آ رہی ہے۔ خدا تعالیٰ مظلوم کی فریاد کو سنتا ہے اور آخر کار ظالم کی گرفت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا مکافات عمل کا نظام ہے جو اٹل ہے اور کوئی اس سے بچ نہیں سکتا اور اس مکافات عمل کے نظام کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ کفر کے نظام کو تو برداشت کر لیتا ہے اور مصلحتاً چلنے دیتا ہے لیکن ظلم کے نظام کو قائم نہیں رہنے دیتا۔ اس کے بعد تو اب خداتعالیٰ کی تقدیر ہی غالب آئے گی۔ قوم کو چاہیے کہ جدوجہد جاری رکھے، دعا کرے اور انتظار کرے۔

Facebook Comments HS