طلبہ یونینز کی بحالی میں کس کا فائدہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لطیفہ مشہور ہے کہ کسی نے ایک دانشور سے کہا مجھے فکر ہے ملکی حالات بہت خراب ہیں اور اگر اسی طرح چلتا رہا تو یہ ملک مزید نہیں چل سکے گا۔دانشور نے کہا کہ مجھے آپ سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ یہ ملک اسی طرح چلتا رہے گا۔ بحیثیت ایک عام شہری میرا خیال ہے کہ اگر یہ ملک اسی طرح چلتا رہا تو ہماری غلام پیدا ہونے والی نسل، مزید غلاموں کو جنم دے گی اور ساری عمر مہنگائی اور حقوق کی پامالی کا رونا رو رو کر مر جائے گی۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے حالات اتنے برے ہیں۔ دنیا بھر میں ہمیں کوئی منہ نہیں لگاتا۔ خیال آتا ہے کہ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے حکمران ایسے ہیں۔ اسمبلیوں میں بیٹھے بھیک منگے لٹیروں نے کرپشن سے وطن عزیز کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم جیسا عام آدمی سیاست کے ذریعے عوام یا ملک کی خدمت کرنا تو درکنار، سیاست میں شمولیت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

9 فروری وہ دن تھا جب اس ملک میں طلبا یونینز کو ممنوع قرار دیا گیا۔ وہ یونینز جو طلبا حقوق کے لئے لڑتی تھیں، جو طلبا کے لیے سیاست کی نرسری تھیں، جو طلبا کی سیاسی تربیت کرتی تھیں۔ طلبا یونینز کے اسی سنہری دور میں بہت سے قومی سطح کے لیڈر سامنے نکل کر آئے۔ بہت سے غریب گھروں کے لوگ سیاست میں آئے اور کامیاب ہوئے لیکن ان پر پابندی کے بعد ہم قومی سطح پر ایک نئی لیڈر شپ دیکھنے سے محروم ہو گئے۔

اب ہمارے پاس صرف اور صرف ”جب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے“ جیسی تحقیق کے محقق اور ”کیلبری فونٹ“ کے موجد لیڈر ہی رہ گئے ہیں۔ ہم جاہل پاکستانی شاید ان ”لیڈروں“ کے معیار پر پورا نہیں اترتے جس وجہ سے یہ اعلیٰ پائے کے محقق اور موجد ہماری خاطر کچھ کرنے سے بے بس ہیں۔ آج ہمیں قومی سطح پر بڑے باپوں کی بڑی اولادوں کے سوا عوام سے نکلنے والا کوئی لیڈر نظر نہیں آتا۔ طلبا یونینز پہ پابندی ہو گی تو قومی سطح کے لیڈر کہاں سے آئیں گے؟

سوال یہ ہے کہ اب اگر آج عوام سے رہنما نہیں نکلیں گے تو کیا ”خلائی مخلوق“ سے آئیں گے اور کیا وہی ان کی ”سیاسی تربیت“ کرے گی؟ المیہ ہے کہ ہمارے باپ دادا ہم سے پہلے زرداریوں، شریفوں، مخدوموں اور قریشیوں کے غلام تھے اور ان کے بعد آج ہم انہی شریفوں، زرداریوں کی اولادوں کے غلام ہیں۔ اور اگر اسی طرح رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہمارے بچے انہی کے بچوں کے غلام ہوں گے۔ وہ غلام ابن غلام ابن غلام پیدا ہوں گے ، سیاسی حقوق سے محروم ایک غلام نسل پیدا کریں گے اور مہنگائی و حقوق کے غصب ہونے کا رونا روتے روتے مر جائیں گے۔ وہ کسی ایم این اے، ایم پی اے کے ساتھ تصویر بنوانے میں ہی فخر محسوس کریں گے اور خود ان کے نصیب کے فیصلے کوئی اور اس عمارت میں بیٹھ کر کرے گا جہاں ہمارے بچے صرف خواب میں ہی داخل ہو سکیں گے۔

طلبا سیاسی طاقت میں انتہائی اہم ستون تصور کیے جاتے ہیں، انقلابی تحریکوں اور آمریت مخالف تحریکوں میں طلبا نے ہمیشہ کلیدی کردار نبھایا ہے۔ تیسری دنیا کی سیاسی اشرافیہ بالخصوص پاکستان میں ان طلبا کی سیاسی طاقت کا خوف پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے طلبا سیاست پر ریاست نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ آخر کوئی لٹیرا کب چاہے گا کہ کوئی نیا سیاست دان آئے۔

آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی شہری سیاست میں حصہ لے سکتا ہے اور سیاسی تنظیم سازی کر سکتا ہے۔ طلبا سیاست پہ پابندی لگا کر لاکھوں بلکہ کروڑوں نوجوان طلبا کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور آئین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

حال ہی میں کورونا وبا کے دوران طلبا کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ آن لائن تعلیم کے نام پر جس طرح ان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا وہ الگ بحث ہے مگر طلبا کو اپنے حقوق مانگنے پر زد و کوب کیا گیا۔ طلبا سیاست کی مخالفت کرنے والے اساتذہ خود کس منہ سے اساتذہ یونینز اور سیاست میں حصہ لیتے ہیں۔ یونینز کی مخالفت کرنے والے والدین کو بھی سوچنا چاہیے کہ یونینز کی بحالی میں سراسر ان کا اور ان کے بچوں کا فائدہ ہے کہ ان کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم ملے گی اور والدین کو کم سے کم خرچ اٹھانا پڑے گا۔

دنیا بھر کی یونیورسٹیوں حتیٰ کہ آکسفورڈ تک میں بھی طلبا یونینز موجود ہیں جب کہ ہمارے ہاں ان پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ آکسفورڈ کا کوئی طالب علم احتجاج نہیں کرتا اور نہ ہی اسے اپنا مسئلہ حل کرانے کے لئے ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے بلکہ یونین کے عہدیدار کو ایک درخواست دے کر اس کا مسئلہ پر امن طریقے سے حل ہو سکتا ہے اور یہاں ہمارے ہاں طلبا کے مسائل حل کرنا تو دور الٹا ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔

یونینز پر پابندی کی حمایت میں سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ طلبا سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں یا قانون توڑتے ہیں۔ تو اس کا حل یہی ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ یونینز سیاسی جماعتوں کی آلہ کار بننے کی بجائے صرف اور صرف طلبا مسائل پر توجہ دیں اور اگر یونین کے کچھ لوگ قانون توڑتے ہیں تو ان کوقانون کے مطابق سزا دی جائے نہ کہ ان کی آڑ میں یونینز پر ہی پابندی عائد کر دی جائے۔

آج کی سب سے اہم ضرورت طلبا یونینز کی بحالی ہے۔ آج اگر طلبا یونین بحال ہوتی تو یہ آن لائن تعلیم کے نام پر ڈرامے بازی یا بیس سالوں سے ایک ہی طرح نوٹس کے رٹے لگوانے اور صرف سلائیڈز پڑھ کر لیکچر گزارنے کا عمل نہ کیا جا رہا ہوتا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یونینز کو بحال کیا جائے۔ یہ تعلیمی مافیاز کو لگام ڈالیں گی اور اساتذہ کی بلیک میلنگ کو ختم کریں گی۔ مزید یہ کہ طلبا کو آگے آنے دیا جائے تاکہ اصلی اور حقیقی لیڈر شپ سامنے آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •