محمد علی سدپارہ کے لیے دعا کیجیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا قومی ہیرو جو محدود وسائل میں اپنے ملک کا نام اس مقام پر لے گیا جس کا خواب دنیا دیکھتی ہے۔ محمد علی سدپارہ کے نام سے کچھ دن قبل تک وہ لوگ ناواقف تھے جو کوہ پیمائی سے دل چسپی نہیں رکھتے لیکن آج محمدعلی سدپارہ اور ان کے نوجوان بیٹے ساجد سدپارہ کے نام سے ہر پاکستانی واقف ہے اور ان کا نام اس وقت پاکستان کی پہچان بن چکا ہے۔

ہمارے عظیم کوہ پیما محمدعلی سدپارہ اپنے بیٹے اور تین غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ہمراہ سردیوں میں کے ٹو جیسے سرکش پہاڑ کو سر کرنے نکلے تھے جب کہ سردی کے موسم اور برف باری میں یقیناً یہ ایک مشکل مہم تھی جسے سر کرنے کا محمدعلی سدپارہ جیسے باہمت لوگ ہی سوچ سکتے ہیں اور اب وہ باہمت کوہ پیما اپنے دو ساتھیوں سمیت ان پہاڑوں میں کہیں لاپتہ ہو چکا ہے۔ ان کا اکیس سالہ بیٹا ساجد سدپارہ واپس آ چکا ہے اور خیریت سے ہے لیکن وہ باہمت بیٹا اپنے والد کی زندگی سے نا امید دکھائی دے رہا ہے۔

سنا ہے علی سدپارہ کہتے تھے کہ اگر میں پہاڑوں میں کہیں کھو جاؤں تو برف کا گھر بنا کر بھی رہ سکتا ہوں۔ میں اتنی جلدی ہمت نہیں ہار سکتا۔ کہا جاتا ہے ضرورت پڑنے پر محمد علی سدپارہ تین سے چار دن برف میں زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، ہم دعاگو ہیں کہ اب بھی ایسا ہی ہو اور علی سدپارہ اپنا مشن مکمل کر کے بہ حفاظت واپس آئیں، اس وقت پوری قوم ان کے لیے دعا گو ہے۔ اللہ کرے پہاڑوں کا یہ بیٹا موسم کی سختی کی وجہ سے کسی برفانی غار میں ہو اور موسم جیسے ہی کچھ بہتر ہو ، محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی بہ حفاظت کیمپ تک پہنچ جائیں۔

محمد علی سدپارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کا جمعہ کے روز سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور ان کی تلاش میں شروع کیے گئے ریسکیو مشن کے دوران آرمی ہیلی کاپٹروں نے 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی ہے تاہم ابھی تک تینوں کوہ ہیماؤں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ تین دن گزر چکے کوئی خبر نہیں کہ ان کے ساتھ کیا بیتی۔ منفی 50 درجہ حرات پر 8000 میٹر بلندی پر 42 گھنٹے گزارنے کا محض تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔

محمد علی سدپارہ ان کے ساتھی آئس لینڈ کے کوہ پیما جان سنوری اور چلی کے جے پی موہر جو جمعہ کی صبح دس بجے کے ٹو چوٹی کی بوٹل نیک کے قریب پہنچ چکے تھے اور اب تین دن گزرنے کے باوجود ان کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ ذرائع کے مطابق ہفتہ کی صبح ہی ایکسپیڈیشن کے تینوں کوہ پیماؤں کو لاپتا قرار دے کر پاک فوج سے فضائی سرچ آپریشن کی درخواست کی گئی تھی جس کے بعد عسکری ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو آپریشن شروع کیا لیکن کے ٹو چوٹی پر موسم شدید ہو چکا ہے اور بلندیوں پر ہوا کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔

ساجد سدپارہ شدید موسمی حالات کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی کیمپ 3 سے نیچے اتر آیا لیکن اس کا دل چوٹی کی بلندیوں میں موجود اپنے باپ کے ساتھ دھڑک رہا ہے ، آج کے ریسکیو آپریشن میں علی سد پارہ کے دوکزن بھی ان کی تلاش میں شامل ہیں۔ اب دعا کیجیے کہ تینوں کوہ پیما سلامت ہوں اور سلامتی کے ساتھ واپس آ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •