دیہی خوشحالی اور پائیدار ترقی کی ٹھوس بنیاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ عرصے میں اگر چین کی کرشماتی ترقی کی بات کی جائے تو عوامی فلاح و بہبود پر مبنی پالیسیاں اقتصادی سماجی ترقی کی اساس ہیں۔ انتہائی غربت کے خاتمے سے لے کر دیہی وسائل تک، چین دیہی علاقوں میں ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ملک کے 14 ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران دیہی ترقی کو جامع طور پر آگے بڑھانا چین کے بنیادی ترقیاتی اہداف میں سے ایک ہے، اسی بنیاد پر اہم سماجی معاشی منصوبے ترتیب دیے جا رہے ہیں۔

ملک میں کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچانا، دانشورانہ اور اخلاقی معیارات کو مستحکم کرنا، دیہی علاقوں میں کلیدی شعبہ جات میں اصلاحات کو تیز کرنا، دیہی انفراسٹرکچر کی تعمیر کو ترجیح دینا، شہری و دیہی ترقی کو مربوط بنانا اور دیہی گورننس کو بہتر بنانے کے لئے دیہی صنعتی ترقی میں تیزی لانا حکومت کی اہم ترجیحات ہیں۔

ملک میں دیہی ترقی کے حوالے سے چین کے صدر شی جن پنگ کا ایک خاص وژن ہے۔ ان کے دور اقتدار کی ایک خاص بات جہاں چین کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق تمام شعبہ جات میں عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام پر فائز کرنا رہی، وہاں انہوں نے ملکی سطح پر دیہی تعمیر و ترقی کو فروغ دینے کے لیے ”دیہی حیات کاری“ کا ایک نیا ماڈل پیش کیا۔ گزشتہ نو برسوں کے دوران شی جن پنگ نے ملک کے مختلف علاقوں کے 80 سے زائد دورے کیے جن میں دیہی علاقوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ حال ہی میں شی جن پنگ نے کم ترقی یافتہ صوبہ گیوئی جو کا دورہ کیا جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ ترقی کے سفر میں گیوئی جو کو دیگر ترقی یافتہ صوبوں کے ہم پلہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

چین نے چونکہ غربت کے خاتمے میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کر لی ہے لہٰذا زراعت، دیہی علاقوں اور کاشت کاروں سے متعلقہ امور پر توجہ دیتے ہوئے دیہی حیات کاری کا فروغ اس وقت اہم ترجیح ہے۔ چینی صدر واضح کر چکے ہیں کہ ٹھوس پالیسی سازی سے انسداد غربت میں حاصل شدہ کامیابیوں کو مستحکم کیا جائے تاکہ غربت سے نجات پانے والے افراد کو یہ اندیشہ نہ ہو کہ وہ دوبارہ غربت کا شکار ہو جائیں گے۔

شی جن پنگ کی جانب سے صوبہ گیوئی جو کے دورے کا انتخاب اس باعث بھی نمایاں اہمیت کا حامل رہا کہ یہ وہ آخری علاقہ تھا جس کی نو کاونٹیوں کو غربت کی فہرست سے حذف کیا گیا ہے، مطلب گیوئی جو چین کی غربت کے خلاف جنگ میں آخری معرکہ تھا جسے کامیابی سے فتح کرتے ہوئے ایک معتدل جدید سوشلسٹ ملک کی ٹھوس بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ چین کے اعلیٰ ترین رہنما کی حیثیت سے صدر شی جن پنگ نے غربت سے نجات پانے والے مقامی افراد کے معمولات زندگی کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا، عام لوگوں سے تبادلہ خیال کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں عوامی فلاح و بہبود کی کس قدر اہمیت ہے۔

ان کے اس دورے سے صوبے میں تعینات تمام اعلیٰ عہدہ داروں کو بھی ایک واضح پیغام دیا گیا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت تعمیر و ترقی کی خود محافظ ہے اور کوتاہی کی صورت میں احتساب لازم ہے۔ شی جن پنگ نے جہاں دیہی صنعتوں اور دیہی سیاحت کو فروغ دینے کی ہدایات جاری کیں، مقامی صنعتوں کی ترقی پر زور دیا وہاں انہوں نے عام افراد کے ساتھ غیر رسمی بات چیت اور ان کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں میں شریک ہو کر عوام کے دل بھی جیت لیے، اسی باعث شی جن پنگ کو چینی عوام میں مقبول ترین اور محبوب ترین رہنما کا درجہ حاصل ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ جب چینی صدر نے دیہی علاقوں کی ترقی و خوشحالی کو اجاگر کیا ہو بلکہ مختلف مواقعوں پر ان کی جانب سے دیہی امور کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ شی جن پنگ کے دیہی حیات کاری کے حوالے سے وژن کا احاطہ کیا جائے تو چار نکات بڑے واضح ہیں :

پہلا، کاشتکاری کو امید افزا کام میں تبدیل کرنے کے لئے دیہی صنعتوں کو تقویت دی جائے۔ دوسرا، دیہی علاقوں میں لوگوں کے قیام کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں۔ تیسرا، ثقافتی سرگرمیوں کو بھرپور فروغ دیا جائے۔ چوتھا، ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور دیہی سطح پر عوام کو اس عمل میں شریک کیا جائے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ عرصے میں چینی حکومت کی جانب سے دیہی حیات کاری سے متعلقہ امور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔ سالانہ مرکزی دیہی ورک کانفرنس میں شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چین کو زراعت، دیہی علاقوں اور کاشتکاروں سے وابستہ امور کو ہمہ جہت طور پر آگے بڑھاتے ہوئے دیہی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینا چاہیے۔

رواں سال 2021 اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے چین کے 14 ویں پانچ سالہ منصوبے اور جدید سوشلسٹ ملک کی جامع تعمیر کی جانب ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ چینی معیشت اس وقت 15.42 ٹریلین ڈالرز کی ریکارڈ حد پار کر تے ہوئے معاشی ترقی کے ایک نئے سفر کی جانب گامزن ہے، اس سفر میں دیہی ترقی اور دیہی حیات کاری چین کی پالیسی سازی کا کلیدی نکتہ رہے گی جس کی بنیاد پر ایک مضبوط اور خوشحال چین کے عروج کا سفر جاری رکھا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •