فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی نہیں، نکالنے کی بات ہو رہی ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے بالواسطہ یا بیک ڈور رابطوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ بغیر ثبوت کے ایسے دعوے نہ کئے جائیں۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ایک مقامی ٹیلی ویژن پر انٹرویو کے دوران کہا کہ ’فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے‘۔ سوچنا چاہئے کہ کیا فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل کی اس وضاحت کے بعد ملک میں فوج اور سیاست کے معاملہ پر گفتگو بند ہوجائے گی۔ اگر معاملہ اس کے برعکس دکھائی دے تو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو غور کرنا چاہئے کہ اس کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟

یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے کوئی ایسا راستہ نکالنے کی ضرورت ہے جس میں نہ صرف فوج کی عزت محفوظ ہوسکے بلکہ ملک میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی و اضطراب کا بھی خاتمہ ممکن ہو۔ میجر جنرل بابر افتخار کے ایک انٹرویو سے نہ حالات تبدیل ہوں گے اور نہ ہی ملکی سیاست میں فوج کے کردار کے بارے میں شبہات اور اندازے دم توڑیں گے۔ بلکہ جب کسی قسم کی نشاندہی کے بغیر پاک فوج کا ترجمان اچانک کسی نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دینے پر آمادہ ہوتا ہے اور اپوزیشن سے رابطوں کے بارے میں سوال کا جواب دینا بھی قبول کرتا ہے تو یہ رویہ بجائے خود ملکی سیاست میں فوجی اسٹبلشمنٹ کی دلچسپی کا بین ثبوت کہا جانا چاہئے۔

اس کے باوجود کسی ذمہ دار ترجمان کی بات کو فیس ویلیو پر لیتے ہوئے یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ پاکستانی فوج کی موجودہ قیادت ملکی سیاست میں کوئی کردار ادا کرنے کی خواہش نہیں رکھتی۔ لیکن اس کےساتھ ہی تصویر کے اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے جلاوطن رہنما نواز شریف نے ایک جلسہ عام سے ویڈیو خطاب میں الزام لگایا تھا کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ملک کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان دونوں کی ملی بھگت سے تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی کو ممکن بنایا گیا اور عمران خان کو وزیر اعظم بنوایا گیا۔ یہ بیان ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص نے عائد کیا تھا۔ فوج کے ترجمان، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کی طرف سے اس الزام کی تردید ضروری نہیں سمجھی گئی۔ ملک کے عام شہری کے پاس جس طرح میجر جنرل بابر افتخار کی بات نہ ماننے کا کوئی جواز نہیں، اسی طرح عوام کے پاس اس بات کا بھی کوئی عذر نہیں ہے کہ نواز شریف کو جھوٹا قرار دیا جائے۔ جبکہ ملک کے اہم ترین عہدوں پر فائز افراد نے اس سنگین بیان پر خاموشی اختیار کرنا ہی ’وسیع تر ملکی و قومی مفاد‘ کے لئے ضروری سمجھا ہو۔

نواز شریف کے الزامات کے چار مہینے بعد گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں میجر جنرل بابر افتخار نے صحافیوں کے استفسار پر کہا تھا کہ فوج پر ملکی سلامتی کی بھاری ذمہ داری عائد ہے۔ وہ ایسے الزامات کا جواب دینے میں وقت ضائع نہیں کرتی جن کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ کی منطق ناقابل فہم تھی کیوں کہ یہ الزام کسی کالم نگار یا شہرت کے بھوکے تجزیہ نگار نے عائد نہیں کیا تھا بلکہ ملک کے سابق وزیر اعظم نے لگایا تھا۔ نواز شریف کی سیاسی پوزیشن اور پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے، یہ بات ناقابل یقین لگتی ہے کہ فوج، اس کے سربراہ یا آئی ایس آئی نے نواز شریف کے الزامات کی تردید کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ درحقیقت یہ رویہ سیاسی و صحافتی ماحول میں پائے جانے والے اس تاثر کو تقویت دینے کا سبب بنا تھا کہ ایک ایسے بیان کو مسترد کرنے کا حوصلہ نہیں کیا گیا جس میں براہ راست نام لے کر الزام عائد لگایا گیا تھا۔ حالانکہ جنرل قمر جاوید باجوہ یا لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اگر نواز شریف کی تقریر کے فوری بعد آئی ایس پی آر کے ذریعے ایک پریس ریلیز میں ان الزامات سے لاتعلقی اختیار کرتے تو ملک کے عام شہری نواز شریف کے مقابلے میں آرمی چیف کی بات پر یقین کرنے کو ترجیح دیتے۔ البتہ تردید نہ کرکے اور بعد میں میجر جنرل بابر افتخار کی یہ عذر تراشی کہ بے بنیاد الزامات کا جواب دینا ضروری نہیں، دراصل شبہات اور بے یقینی کی آبیاری کی گئی۔

گزشتہ ماہ ہونے والی اس پریس کانفرنس میں میجر جنرل بابر افتخار نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر بھی سوالوں کے جواب دیے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن کا لانگ مارچ اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی کی طرف جائے۔ اس بیان سے اپوزیشن نے سیاست میں فوج کا کردار ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ میجر جنرل بابر افتخار نے اس بارے میں سوالات کا خوش دلی سے جواب دیا تھا اور کہا تھا کہ ’اگر پی ڈی ایم کا لانگ مارچ راولپنڈی آتا ہے تو ان کی چائے پانی سے تواضع کی جائے گی‘۔ اگرچہ اسی جواب میں انہوں نے اس حیرت کا اظہار بھی کیا تھا کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ کیوں راولپنڈی آئے گا۔ تاہم فوج اگر ملکی سیاست سے اس قدر لاتعلق ہے کہ اس کا ترجمان ایک بار پھر قیاس آرائیوں سے پرہیز کرنے کی درخواست کرتے ہوئے یہ اپیل کر رہا ہے کہ ’فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے‘ تو میجر جنرل صاحب کو سیاسی بیانات پر سوالوں کے جواب دینے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ کیا اس طرح کی بیان بازی سے بالواسطہ طور سے خود فوج کا ترجمان ہی شبہ کو یقین میں بدلنے کا سبب نہیں بنتا کہ دال میں کچھ تو کالا ہے؟

پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ اسے ایک فقرے میں سمیٹ کر یہ ثابت کردیا جائے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ پاک فوج کے ترجمان کو بخوبی علم ہونا چاہئے کہ اس وقت پاکستان جمہوری تحریک کے نام سے جو اپوزیشن اتحاد قائم ہے، اس کا بنیادی مقصد ہی سیاسی معاملات کو فوجی مداخلت سے پاک کروانا ہے۔ اس لئے میجر جنرل بابر افتخار اگر پی ڈی ایم سے درپردہ روابط کے بارے میں ’نامعلوم‘ لوگوں کے بیانات کی تردید کرنے کی بجائے پی ڈی ایم کے سرکاری بیانیہ کو مسترد کریں اور اس کے لئے جواز فراہم کریں تو ان کی بات میں وزن محسوس کیا جاسکے گا۔ نواز شریف فوج پر موجودہ حکومت کو ملک پر مسلط کرنے کا براہ راست الزام لگاتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری، عمران خان کے لئے ’نامزد وزیر اعظم‘ کی پھبتی کے موجد ہیں اور بدستور اسے استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس پر تو کبھی کسی فوجی ترجمان یا آرمی چیف کی طرف سے رد عمل کا مظاہرہ نہیں ہؤا۔ حالانکہ اس دوران کراچی میں مسلم لیگی لیڈر کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور آئی جی سندھ کے نام نہاد اغوا کے معاملہ پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے براہ راست بلاول بھٹو زرداری سے فون پر رابطہ بھی کیا تھا۔

معاملہ کی پیچیدگی کا اندازہ اس حقیقت سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پہلے لانگ مارچ راولپنڈی لے جانے کی بات کرتے تھے لیکن گزشتہ دنوں اس کا اعلان کرتے ہوئے لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی طرف بتایا گیا ہے۔ مولانا کی تبدیلی قلب کی حالت یہ بھی ہے کہ فوج پر غم و غصہ کا اظہار کرنے والے پی ڈی ایم کے سربراہ اب فوج کو بھائی بند بتا کر یہ کہتے ہیں کہ ’ہماری فوج سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ گلے شکوے تو اپنوں سے ہوتے ہیں‘۔ انہوں نے اب پی ڈی ایم کا ہدف عمران خان کی حکومت کو قرار دیا ہے اور فوج سے کہا ہے کہ وہ اس کی ’پشت پناہی‘ سے اجتناب کرے۔

آئی ایس پی آر کا سربراہ جب ملکی سیاست میں معمول کی قیاسی آرائیوں پر تبصرہ کرنے کے لئے ایک ٹی وی کو انٹرویو دینے کا فیصلہ کرے گا اور ’رابطوں‘ کی تردید کرے گا تو پھر انہیں اس سوال کا جواب بھی دینا چاہئے کہ مولانا فضل الرحمان دھمکیاں دیتے دیتے پیار محبت اور اپنائیت کی باتیں کیوں کرنے لگے اور بلاول بھٹو زرداری احتجاج کی بجائے عدم اعتماد کی تحریک کیوں لانا چاہتے ہیں۔ کوئی کیسے ہی انکار کرے، ان سب معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی دلچسپی، اس کے کردار اور تعلق سے صرف نظر ممکن نہیں۔ یہ مان لینے کے بعد کہ فوج بیک ڈور رابطوں میں ملوث نہیں ہے، یہ جاننے کی خواہش دو چند ہوجاتی ہے کہ اپوزیشن کے ابال میں ’ٹھہراؤ‘ کیسے پیدا ہؤا؟ اور کیا میجر جنرل کی ’تردید‘ کا مقصد دراصل وزیر اعظم ہاؤس کے مکین کو مطمئن کرنا ہے؟

بات صرف کسی ایک ’غیر ذمہ دارانہ‘ بیان کی نہیں جس میں اپوزیشن اور فوج کے رابطوں کا حوالہ دیا گیا ہو اور جس کی تردید سے معاملہ صاف ہوجائے گا۔ سیاسی حالات پر ہونے والا کوئی تبصرہ اور ٹاک شوز میں کی جانے والی کوئی گفتگو اس مشورہ سے عاری نہیں ہوتی کہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی کوئی تحریک فوج کی مرضی و تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ خالصتاً سیاسی معاملہ میں آخر ہر تبصرہ نگار فوج کو کیوں کھینچ لاتا ہے؟ میجر جنرل بابر افتخار کو جاننا چاہئے کہ کوئی فوج کو سیاست میں گھسیٹ کر لانا نہیں چاہتا۔ اس وقت ملک میں سیاست سے فوج کو نکالنے کی بات ہورہی ہے۔

پاکستانی قوم مجموعی طور پر فوج کے ترجمان کی اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ ’فوج کو سرحدوں کی حفاظت اور ملکی سلامتی کا فرض ادا کرنا چاہئے‘۔ سیاست پارٹیوں اور سیاست دانوں کو کرنے دیں۔ وہ لڑنے جھگڑنے کے بعد خود ہی اتفاق رائے پیدا کرلیں گے۔ فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک سیاسی فریق کو کسی خلائی مخلوق کی طاقت پر بھروسہ ہو اور ’ایک پیج‘ کو قومی معاملہ کی بجائے پارٹی سیاست کا باب بنا لیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1761 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali