عورت اور آدھا آسمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عظیم چینی رہنما ماؤزے تنگ نے کہا تھا کہ عورت نے آدھا آسمان اٹھا رکھا ہے۔ لگتا ہے اس خوش نصیب کی عائلی زندگی نہیں تھی ورنہ وہ آدھا آسمان نہ کہتا بلکہ یوں کہتا کہ یہ عورتیں ہی ہیں جنہوں نے سارا آسمان ہی سر پر اٹھا رکھا ہے۔ کبھی میاں کو سینگوں پہ اٹھا رکھا ہے تو کبھی بچوں پر چاند ماری، یہ بھگت لیں تو نوکروں پر گولہ باری جاری ہو جاتی ہے۔ گھر کی سیاست سے لے کر عالمی سیاست تک اب تو عورت ہی کی سیاست ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو آئے دن مردودوں مطلب مردوں کو نئی نئی پٹیاں پڑھاتی رہتی ہے ، انہیں اپنے نادر اور نادار مشوروں سے نوازتی ہے اور پھر انسان انسان نہیں رہتا،  لیڈر بن جاتا ہے۔

یہ عورت کی وجہ سے ہی ترقی کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو ہر ایک لیڈر کے پیچھے ہوتی ہے جس کو سیڑھی بنا کر وہ لیڈری کی منازل طے کرتا رہتا ہے، ورنہ اسے تو اپنے ہی گھر والے دوسری بار سالن نہیں دیتے۔ یہ عورت ہی ہے جس کے ساتھ بن جانے والی ویڈیو کے ڈر سے سیاست کے رخ بدل جاتے ہیں۔ یہ عورت ہی ہے جو انسان کو اس کی اصلیت دکھاتی اور بتاتی رہتی ہے۔

ویسے اس معاشرے کی سمجھ نہیں آتی جس میں عورت کے ساتھ بنائی ویڈیو سے مرد کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر بھی مونیکا لیونسکی کو بھگت چکے ہیں۔ تو کیا مرد کی عزت نہیں ہوتی؟ لگتا تو یہی ہے کہ ہم نے یہ تصور کر لیا ہوا ہے کہ عزت صرف عورت کی ہی ہوتی ہے۔ اور یہ سچ ہی تو ہے کہ عزت صرف عورت کی ہی ہوتی ہے۔ عورت کی عزت کی وجہ سے لوگ بڑے بڑے عہدوں سے اتر کر اور بڑے عہدوں پر چلے جاتے ہیں۔

یہ عورت کی سیاست ہے جو اس نے کبھی چھپ چھپا کر اور کبھی ببانگ دہل مرد پر حکومت کی ہے۔ اس عورت کو اپنی بات منوانے کے ایک سو ایک ڈھنگ آتے ہیں۔ تریاہٹ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ یہ جو ایک دفعہ ارادہ فرما لے وہ پورا کر کے چھوڑتی ہے۔ بچے ، شوہر،  خاندان پھر اس کے مقصد کے سامنے ہیچ نظر انے لگتے ہیں۔ اس کے ارادے اقبال کے شاہین سے اوپر اڑتے ہیں۔ عورت قربانی کا دوسرا نام ہے۔ یہ اپنا مقصد مذموم حاصل کرنے کے لئے ہر چیز کی قربانی دینے کو معمولی بات سمجھتی ہے۔ اگر میری بات کا یقین نہیں آتا تو آپ مفتی قوی اور مہوش حیات سے پوچھ لیں۔ اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو حریم شاہ بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

یہ تو بات تھی ڈاہڈی عورتوں کی ۔ کچھ بیچاری بہت ہی ڈرپوک اور نازک مزاج اور شوہر کے سامنے نہ بولنے والی بھی سیاست دان موجود ہیں۔ اس طرح کی عورت کی سیاست اور بھی خطرناک ہوتی ہے۔ یہ اپنے مجازی خدا کو کچھ ایسے بے خدا کرتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ اس نے ہر فرمائش ایسے منوانی ہے جیسے یہ بات پوری نہ ہوئی تو اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ دس دس دن بیمار بنی پڑی رہے گی۔ اور بار بار اسی کام کی طرف اشارہ کرتی رہے گی جو اس کا مقصد تھا۔

بچوں سے بھی وہی کہتی رہے گی۔ شوہر بیچارہ کچھ دن تو ہوٹل سے کھانا منگواتا رہے گا مگر آخر تنگ آ کر اس کی بات مان لے گا اور موصوفہ بھلی چنگی ہو جائے گی۔ ایسی ایسی اداکاری کے جوہر دکھانے والی عام گھریلو خواتین ہیں کہ آسکر کی حق دار بن جائیں اگر انہیں موقع ملے تو۔

قصۂ مختصر یہ عورت ہے جس سے سیاست شروع ہوتی ہے اور اسی پر ہی ختم ہوتی ہے۔ دلیل کے طور پر موجودہ حکومت اور پی ڈی ایم کو ہی دیکھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •