کتابیں بولتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں میں رابرٹ بی ڈاؤنز کی کتاب (Books that changed the world) پڑھ رہا ہوں جس کا غلام رسول مہر نے ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب نے مجھ پر کتب بینی کے کئی در وا کیے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر کتابوں اور کتب خانوں کے حوالے سے جو تصور عام ہوا وہ یہ کہ کتابیں بے جان ، غیر موثر اور بے حیثیت چیزیں ہیں جو خانقاہوں اور یونیورسٹیوں کے سایہ دار رواقوں اور علمی مامنوں میں رکھی جاتی ہیں یا ان کا موزوں مقام وہ گوشہ ہائے عافیت ہیں جو مادی اور شر انگیز دنیا سے کنارہ کش ہو کر اختیار کر لیے جائیں۔

اس کا یہ نقصان ہوا کہ کتابیں غیر عملی نظریات سے بھری ہوئی پوٹلیاں سمجھی جانے لگیں اور نوجوان نسل نے کتب خانوں اور کتب بینی کو محض وقت کے ضیاع سمجھنا شروع کر دیا۔ مگر یہ حقیقت کسی طور بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ کتابیں بے حقیقت اور بے اثر نہیں ہوتیں،  یہ نہ صرف متحرک اور جاندار ہوتی ہیں بلکہ قاری سے گفتگو بھی کرتی ہیں اور اسے کئی زمانوں اور نسلوں کا پتا دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتابوں کے شوقین لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں، ان کے سر پر صدیوں کا بوجھ ہوتا ہے اور مسلسل کتب بینی ان کے اس بوجھ میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔

کتابوں اور قلم والوں کے خلاف ہر دور کا ڈکٹیٹر اور آمر منفی پروپیگنڈے کرتا رہا اور قلم اور قلم کار کی آواز دبانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی رہی اور اس حوالے سے ضیاء کا مارشل لا زندہ مثال ہے جس نے کئی تخلیق کاروں کو پس دیوار زنداں پھینکا تاکہ آمرانہ آواز کو مٹانے کی کوشش ناکام کی جا سکے۔ جب بھی کبھی مطلق العنان اور جابر نظام ہائے حکومت نے مخالف گروہوں کو دبانے اور افکار کو ختم کرنے کا ارادہ کیا ، ان کا پہلا قدم یہی رہا کہ مخالف افکار کی کتابوں اور ان کے لکھنے والوں کو ختم کیا جائے۔

بعض اوقات یہ نکتہ جمہوریت پسند عوام کے سامنے کسی نہ کسی طرح واضح بھی ہوتا رہا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ چند سال پیشتر یہ خبر شائع ہوئی کہ امریکی وزارت خارجہ اپنے بیرونی کتب خانوں میں کتابوں پر احتساب کا وسیع سلسلہ قائم کرنے والی ہے اور غیر مناسب کتابوں کو جلا دیا جائے گا۔ اس بات کا ردعمل اتنا شدید آیا کہ پریزیڈنٹ آئزن ہاور کو ایک زبردست تقریر کرنی پڑی جس میں واضح کیا گیا کہ امریکی حکومت کا دامن اس قسم کی سرگرمی سے بالکل پاک ہے۔

اس تقریر میں صاف صاف کہہ دیا گیا کہ ”کتابیں جلانے والوں کی شرکت سے باز رہو“ ۔ چنانچہ اس واقعے سے ہر جگہ لوگوں کو احساس ہو گیا کہ کتابیں آج بھی تہذیب و ثقافت کی ایسی ہی بنیاد ہیں جیسی گزشتہ صدیوں میں تھی۔ پھر پاکستان سمیت کئی ممالک میں ایسا وقت بھی آیا کہ جابر حکمران اپنی مرضی کا تعلیمی سلیبس اور اپنی مرضی کا مواد شائع کرواتے رہے جس میں پیپر مافیا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ راتوں رات پبلشنگ ہاؤس کھولے گئے اور راتوں رات ہی درجنوں ایسے مصنفین پیدا کر دیے گئے جو شاہ کے قصیدہ گو بھی تھے اور ان کے گناہوں پر پردہ ڈالنے والے بھی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شاہ کی فرماں برداری میں تاریخ کو تباہ کرنے اور اسے خلط ملط کر کے بیان کرنے میں بھی اپنا بنیادی کردار ادا کیا۔ آج ہمیں ایسے لوگوں کی وجہ سے جو تاریخ ملی، وہ یقیناً تصویر کا ایک رخ ہے اور اس کا دوسرا رخ جو ہم سے چھپایا گیا وہ بلاشبہ خطرناک اور تلخ ہے۔

اگر جدید مذہب اور فلسفے کی بات کریں قرآن مجید ، بائبل، تالمود ، بدھوں اور ہندوؤں کی مقدس تحریریں،  کنفیوشس ، سینٹ آگسٹائن، مارٹن لوتھر سمیت کئی ایسے نام آتے ہیں جن کی کتب ، نظریات اور تحریروں نے ایک زمانے کو متاثر کیا۔ یہاں دو اہم ترین امریکی کتب کا ذکر بھی کرتا چلوں جن میں ایک میری بیکرایڈی کی کتاب ”سائنس اور حفظان صحت“ اور جوزف سمتھ کی کتاب ”کتاب مورمن“ شامل ہیں۔ یہ مذہب اور فلسفے پر وہ کتابیں ہیں جنھوں نے ایک دنیا سے دوسری دنیا اور پھر کئی دنیاؤں میں سفر کرتے ہوئے تاریخ کو بدلنے میں اپنا بنیادی کردار ادا کیا۔

اسی طرح اگر ہم ادب کی طرف آئیں تو افسانہ‘ ڈرامہ ’شعر اور مقالات کی کئی ایسی کتابیں جنھوں نے قلوب عالم میں جنبش پیدا کی۔ دانتے‘ چاسر ’مولیئر‘ شیکسپیئر ’گوئٹے‘ فسکی ’اقبال اورسرسید سمیت کئی ایسے نام ہیں جنھوں نے اپنے نظریات اور تحریروں سے ایک دنیا کو متاثر کیا۔ ایسی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہا۔

رابرٹ بی ڈاؤنز کی کتاب کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایسی کتابوں کی فہرست تیار کی جائے جنھوں نے اپنے اپنے دور میں معاشرتی تبدیلی اور نظریاتی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا اور ان کتابوں سے عوام میں نہ صرف شعور کی راہ ہموار ہوئی بلکہ ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا۔ رابرٹ بی ڈاؤنز نے عظیم کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے میکیاولی کی کتاب ”بادشاہ“ ، ٹامس پین کی کتاب ”عقل سلیم“ ، ایڈم سمتھ کی کتاب ”ثروت اقوام“ ، مالتھس کی کتاب ”اصول آبادی“ ، تھورو کی کتاب ”سول نافرمانی“ ، مسز سٹو کی کتاب ”انکل ٹامز کیبن“ ، کارل مارکس کی کتاب ”سرمایہ“ ، میکنڈر کی کتاب ”تاریخ کا جغرافیائی محور“ ، ہٹلر کی کتاب ”میری جدوجہد“ ، کوپر نکس کی کتاب ”دورہ اجرام فلکی“ ، ہاروے کی کتاب ”دوران خوان“ ، نیوٹن کی کتاب ”اصول ریاضیات“ ، ڈارون کی کتاب ”اصل انواع“ ، فرائڈ کی کتاب ”تعبیر خواب“ اور آئن سٹائن کی کتاب ”نظریہ اضافت“ کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ ان مندرجہ بالا کتب نے انسانی افکار و اعمال پر گہرا اثر ڈالا (عنقریب ان کتب پر تفصیل سے بھی لکھوں گا) ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت پاکستان میں کتب خانوں اور کتب بینی کی جانب توجہ دی جا رہی ہے؟ کیا ہمارے ہاں کوئی ایک بھی ایسی کتاب آج تک لکھی گئی جس نے واقعی انسانی فکر کو متاثر کیا ہو اور عوام الناس کے لیے شعور کے نئے در وا کیے ہوں۔ یقیناً یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینا خاصا مشکل کام ہے کیونکہ اس بات سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے پبلشنگ ادارے کتابوں کی صورت میں جو مواد چھاپ رہے ہیں وہ کتنا معیاری اور پائیدار ہے کہ اس سے پاکستانی عوام کی ذہنی تربیت اور معاشرتی نشو و نما ممکن ہو سکے یا یہ مواد بھی محض خالی خولی لفظوں کی پوٹلیاں اور بھوسا ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہی ایسا ممکن ہے۔

ہمارے سرکاری پبلشنگ اداروں کو ایک ایسی کمیٹی تیار کرنی چاہیے تھی جو ایسے مواد کا جائزہ لے سکے جو کچھ ڈرامے ، فکشن اور شعر کی صورت ہمارے ہاں دھڑا دھڑ چھپ رہا ہے۔ تاریخ کے نام پر جو کاغذ کالے کیے جا رہے ہیں اس میں کتنی سچائی اور جھوٹ ہے،  اس کی پرکھ ہونی چاہیے تھی۔ سرکاری سطح پر ایسا قانون ہونا چاہیے تھا جو اس چیز کا جائزہ لے کہ پیپر مافیا محض اپنا کاروبار چمکانے کے لیے جو آئے چھاپ دے گا یا پھر اس میں موجود مواد کی تحقیق بھی ہو گی۔

مذہب ہو یا ادب ، آئے روز درجنوں ایسی کتب چھپ رہی ہیں جن سے نہ صرف مذہبی فرقہ واریت اور شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ادبی اور تاریخی میدان میں بھی ایسی کتب کی تعداد ناقابل تعداد ہے۔ ہمارا یہی تو المیہ ہے یہاں ہر آدمی کو اجازت ہے،  وہ جیسا چاہے جو چاہے لکھے اور اگلے دن پیسے کی بنیاد پر نامور مصنف اور بڑا ادیب بن جائے۔ ایسے لوگوں پر شہرت کی دیوی بھی مہربان ہو جاتی ہے کیونکہ پیسہ بہت طاقتور چیز ہے جس سے بڑے سے بڑا جھوٹ بھی سچ بن سکتا ہے۔

یقین جانیں ہمیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہمیں کیسا ادب اور سلیبس چھاپنا ہے؟ کیا ایسا لٹریچر جس سے ہم اندھی ، بہری اور گونگی نسل تیار کریں یا ایسا مواد شائع کریں جس سے نئی نسل کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو اور وہ کتب بینی کی جانب راغب ہو۔ عظیم کتابیں رکھنے والی قوم بننے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •