کیا پاکستانی کسانوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بھارت کی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسان سراپا احتجاج ہیں۔

ستمبر کے تیسرے ہفتے میں حکومت نے زرعی اصلاحات کے حوالے سے راجیا سبھا میں 3 بل پیش کیے جن میں سے 2 بل منظور کرلیے گئے، جن سے وہاں کے کسان بالخصوص شمالی ریاست پنجاب اور ہریانہ کے کسان متفق نہیں۔

بھارتی حکومت کے منظور کیے گئے ان قوانین کے خلاف کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے۔

اس دوران پنجاب، ہریانہ اور دیگر ریاستوں کے کسان وقتاً فوقتاً احتجاج کرتے رہے اور بعض اوقات ٹرینیں روک کر بھی مطالبات منوانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم نومبر کے آخری ہفتے میں یہ احتجاج مزید منظم ہوا اور بڑی تعداد میں کسانوں نے دارالحکومت نئی دہلی کا رخ کیا۔

25 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ پر کسانوں نے لال قلعہ پر چڑھائی کی اور قلعے پر کسان تنظیم کا پرچم اور سکھوں کا مذہبی پرچم ’نشان صاحب‘ لہرا دیا۔

بین الاقوامی میڈیا سمیت پاکستانی میڈیا میں بھی اس احتجاج کی بڑی چرچا رہی اور ابھی بھی جاری ہے۔ ظلم و زیادتی دنیا میں کہیں پر بھی ہو ہمیں اس کی مذمت کرنی چاہیے، لیکن جس طرح پاکستانی میڈیا پر بھارتی کسانوں کے احتجاج کی چرچا ہو رہی ہے ، اس طرح میڈیا کو پاکستانی کسانوں، کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے بارے میں بات کرتے کم ہی سنا ہے۔ اور نہ ہی کبھی حکومتی نمائندوں کو ان کے مسائل کی کوئی فکر لاحق ہوئی۔ یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ یا تو پاکستانی کسانوں اور کاشتکاروں کو مسائل درپیش ہی نہیں یا وہ میڈیا کی نظر میں نہیں آ رہے۔

ہم اس بلاگ میں اپنے ملک کے کسانوں کو درپیش مسائل کی طرف توجہ دلانے کی ایک حقیر کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ خام قومی پیداوار میں شعبہ زراعت کا حصہ لگ بھگ ایک چوتھائی ہے۔ زراعت کی اہمیت اس قدر ہے کہ ملکی آبادی کو خوراک کا بیشتر حصہ مہیا کرتا ہے۔ لیکن نہری نظام ہونے اور زمینوں کی زرخیزی کے باوجود بشمول اس سال کے کئی سال ایسے بھی گزرے ہیں جب لاکھوں ٹن گندم درآمد کرنا پڑی۔ لیکن شاید ہماری حکومتوں اور میڈیا کے لئے یہ مسائل قابل غور اور قابل بحث نہیں۔ اس کے علاوہ فوڈ گروپ کی درآمدات کئی ارب ڈالرز کی ہوتی ہیں۔ ملکی صنعتوں کے لیے خام مال کی فراہمی شعبہ زراعت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ بھی شعبہ زراعت ہے۔ اس طرح پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ کسی نہ کسی طور پر زراعت سے منسلک ہے۔

اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود یہ شعبہ زرعی مسائل کا شکار ہے کیونکہ تقسیم کے فوری بعد شعبہ زراعت کی ترقی پر خاطر خواہ توجہ نہ دی جا سکی۔ 50 اور 60 کی دہائی کے معاشی پالیسی سازوں نے زیادہ توجہ صنعتی شعبے کی جانب مرکوز رکھی ، یہی وجہ ہے کہ 1947 سے لے کر 1950 کے عشرے کے آخر تک شعبہ زراعت کی شرح افزائش 3 فیصد کے لگ بھگ رہی۔ اور حیرت کی بات ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے زرعی شعبے کی شرح افزائش لگ بھگ 3 فیصد تک ہی ہے۔ 50 اور 60 کے عشرے میں صنعتی شعبے کی طرف توجہ کے باعث صنعتی شعبے کی شرح افزائش 8 تا 10 فی صد تک بھی جا پہنچی تھی۔

گزشتہ کئی عشروں سے یہی صورت حال برقرار ہے کہ زرعی اشیا کی قیمتیں کم چلی آ رہی ہیں۔ مہنگائی کے باعث اب غریب کسانوں پر ایک ستم یہ بھی ہو رہا ہے کہ زرعی مداخل کی قیمتیں بڑھتی چلی آ رہی ہیں ، لوڈ شیڈنگ کے باعث ڈیزل اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث زرعی پیداواری لاگ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس طرح آمدنیاں اور وسائل زرعی شعبے سے صنعتی شعبے کی جانب منتقل ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

ابھی گزشتہ سال کی بات ہے ، پورے ملک بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں کاشتکار ڈھول بجاتے اپنی آنکھوں کے سامنے ہزاروں ایکڑز پر محیط اپنی فصلوں کو ٹڈی دل کی نذر ہوتے دیکھتے رہے لیکن اس کا بھی حکومتی سطح پر کوئی ازالہ نہ ہو سکا جس کی وجہ سے کاشتکار مقروض ہیں اور ان کے گھر بار گروی پڑے ہیں۔ ابھی ٹڈی دل سے جان نہیں چھوٹی تھی کہ شدید بارشوں نے ان کی فصلوں کو تہس نہس کر دیا لیکن حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں ہوئی۔

بھارتی کسانوں کا سخت قوانین سے سامنا ابھی ہوا ہے، لیکن پاکستان کے کاشت کار یہ سب کب سے بھگت رہے ہیں اور خاموشی سے برداشت بھی کر رہے ہیں۔ اگر احتجاجات بھی ہوئے تو وہ بھی کوئی اتنے بڑے وسیع پیمانے پر نہیں ہوئے، اس لحاظ سے ان کو درپیش مسائل کا ذمہ دار میں کسی حد تک ان کاشتکاروں کو بھی ٹھہراتا ہوں۔ اگر بھارتی کسانوں کا پاکستانی کسانوں سے موازنہ کیا جائے تو یہاں کے کسانوں کو بہت ہی زیادہ اور زبردست قسم کے مسائل کا سامنا ہے، اگر اس شعبے کو شعبہ زراعت کے بجائے شعبہ مسائل کہیں تو بھی شاید کوئی غلطی نہیں ہو گی۔

حکومت کی طرف سے کئی ایسے اقدامات کیے گئے جس کے نتیجے میں زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ مثلاً کھادوں کی فروخت بھی سرکاری شعبے کو دے دی گئی۔ 1972 میں چینی کی کھلی منڈی میں فروخت روک دی گئی۔ اب راشن شاپ سے ہی چینی حاصل کی جا سکتی تھی۔ ٹریکٹر کی صنعت کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا۔ 1973 میں ہی زراعت سے منسلک دو اداروں کا قیام عمل میں آیا۔ جن میں سے ایک کاٹن ایکسپورٹ کارپوریشن اور دوسرا رائس ایکسپورٹ کارپوریشن تھا۔ اس سے چند ماہ قبل ہی فلور ملوں، رائس ملوں اور کاٹن جننگ ملوں کو سرکار نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

اگرچہ 1973 سے کچھ ایسے پروگرام شروع کیے گئے جن کا مقصد زرعی شعبے کی ترقی تھی۔ مثلاً رورل ورکس پروگرام اور مربوط دیہی ترقیاتی پروگرام شروع کیا گیا جس کا مقصد کسانوں کو بجلی پہنچانا ، ان کو قرضے مہیا کرنا ، زرعی مداخل کی فراہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنا یا ان کی فراہمی ممکن بنانا اور کسانوں کو رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ لیکن کئی باتیں اقربا پروری کی نذر ہو گئیں کچھ کو کرپشن نے لوٹ لیا۔ اور بہت سے پروگرام کاغذی کارروائیوں کی نذر ہو کر رہ گئے۔ زرعی ترقیاتی ادارے بھی قائم ہوئے لیکن کوئی تحقیق نہ ہو سکی۔ اگر کچھ ہوا بھی تو کسان مستفید نہ ہو سکے۔ اس طرح کسان اور ہاری ملک میں زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے کے بجائے بہت سے زرعی مسائل میں گھر کر رہ گئے۔

حکومتوں کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے بلیک مارکیٹنگ کرنے والے ذخیرہ اندوزی کرنے والے اسمگلر کھل کر اپنی کارروائیاں کرتے رہے۔ جعلی زرعی ادویات فروخت کرنے والوں کو من مانی سے روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دوسری طرف پانی کی قلت پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ آج بھارت نے پاکستانی دریاؤں پر سیکڑوں ڈیمز تعمیر کر دیے ہیں۔

کسانوں کے زرعی مسائل میں اس وقت انتہائی شدت پیدا ہو جاتی ہے جب انہیں جعلی کھاد ناقص ادویات و بیج مل رہے ہوتے ہیں۔ ناقص کھاد وہ بھی بلیک میں مہنگے داموں خریدتے ہیں ، اسی طرح جعلی ادویات بہت زیادہ قیمت ادا کر کے جب خریدتے ہیں اور پھر نتیجے کے طور پر کم پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اتنی لاگت لگانے کے بعد جب پیداوار بھی کم حاصل ہو رہی ہو، پھر جب فروخت کا عمل شروع ہوتا ہے تو پیداوار کو خریدنے والے اونے پونے دام دے کر غریب ہاری اور کسانوں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ ابھی جیسے ایک مثال آپ کے سامنے ہے، جیسے ہی پاکستان میں ٹماٹر تیار ہوئے ہیں تو جس ٹماٹر کا ریٹ کچھ دن پہلے سو سے ڈیڑھ سو تھا ، اب وہ پندرہ سے بیس روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے، نتیجتاً کاشتکار اس فصل پر کیا گیا خرچہ بھی نہیں نکال پا رہے۔

اس مایوسی کے عالم میں جب یہ فیصلہ کر بیٹھتے ہیں کہ آئندہ سال فلاں جنس کی کاشت نہیں کی جائے گی تو ملک میں اس فصل کی پیداوار کم ہوتی ہے اور خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے کہ ایک طرف پیداوار کی کمی کا سامنا دوسری طرف اس شے کی درآمدات میں اضافے کے باعث قیمت میں اضافہ ہو کر عوام کو مہنگائی کا عذاب سہنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ابتدائی طور پر ہی حکومت اگر کسانوں کے زرعی مسائل حل کر دے تو عوام بھی بہت سے مسائل کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

مسائل صرف بھارتی کسانوں کو درپیش نہیں، ان کے مسائل سے کئی  گنا زیادہ مسائل کا شکار ہمارے اپنے ملک کے  کسان اور کاشتکار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •