فارگو سیزن تھری کا ایک سین اور ریاست سے غداری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ بخوبی دیکھ اور کسی حد تک محسوس بھی کر سکتے کہ یہ ایک سرد اور بے جان عمارت ہے۔ ایک کمرے میں عمارت سے مطابقت کھاتا فوجی افسر اپنے ڈیسک پر موجود ہے۔ دوازہ مکمل کھل گیا ہے تو اب دیکھ سکتے ہیں کہ وہ بیٹھا ٹھنڈا سینڈوچ کھا رہا ہے۔ ڈبل روٹی کے ذرے میز پر گر رہے ہیں۔

آخری لقمہ کھانے کے بعد افسر دراز نمبر 3 سے اک رومال نما کپڑا نکال کر میکانکی انداز میں ڈیسک کو صاف کرنے لگتا ہے تو قدموں کی چاپ آتی ہے۔ دو محافظ درمیانی عمر کے ایک خستہ حال مرد کو کندھوں سے پکڑے اندر لاتے ہیں، جس کے آدھے بال اڑ چکے ہیں اور بقیہ آدھے بکھرے ہوئے ہیں، ناقابل برداشت ٹھنڈ کو کم کرنے کی غرض سے بدوضع، بد رنگ اونی کوٹ نما شے اس کے بدن پر ہے۔ اس زاویے سے اس کے ہاتھ مجھے نظر نہیں آ رہے۔ ہتھکڑی ہی لگی ہوگی۔ جی، اس زاویے سے آپ بھی دیکھ سکتے کہ دونوں ہاتھ ہتھکڑی میں جکڑے ہیں۔

ڈبل روٹی کے ذرے اب باقاعدہ باریک سی قطار کی شکل اختیار کیے ڈیسک پر موجود ہیں۔ ملزم کو ڈیسک کی دوسری جانب پڑی آہنی کرسی پر بٹھا دیا گیا ہے۔ حسب توقع اس کی آنکھوں میں انجانا سا خوف ہے اور نظریں روٹی کے ذروں پر ٹکی ہوئی ہیں ، کیا وہ بھوکا ہے؟ معلوم نہیں میں تو آپ کو وہی دکھانے کی کوشش کر رہا ہوں جو مجھے دِکھ رہا ہے۔

افسرانہ ہاتھ پھر میکانکی انداز میں حرکت کر کے دراز نمبر 1 میں سگریٹ ماچس برآمد کرتے ہیں۔ سگریٹ سلگائی جاتی ہے۔

دوسرے کش کے بعد افسر ایک اچٹتی سی نگاہ ملزم پہ ڈال کر دراز نمبر 1 سے فائل کھول کر بائیں ہاتھ سے ورق گردانی شروع کرتا ہے ، دائیں ہاتھ سے سگریٹ نوشی کا شغل جاری ہے۔ ملزم کی نظریں اب دھوئیں پر ہیں حالانکہ صورت حال کے مطابق انہیں فائل پر مبندول ہونا چاہیے۔

کرخت چہرہ افسر کی کرخت آواز بلند ہوتی ہے کہ ’’تو تم بورس ہو‘‘ملزم: نہیں جناب عالیٰ میرا نام توراڈو سلیو ہے۔
افسر:کیا تم فلیٹ 306، ٹیشا ٹاور، والیا ٹاؤن، ولاڈک شہر کے رہائشی ہو؟
ملزم:جی عالی جناب!

افسر:تو یہ بتاؤ تم نے اپنی گرل فرینڈ اینا کو کیسے قتل کیا؟
ملزم: حضور میں 3 ماہ قبل ہی ادھر منتقل ہوا ہوں۔ میں اپنی بیوی آرسووا کے ساتھ رہتا ہوں۔ ہو سکتا مجھ سے قبل اس نام کا شخص۔۔۔۔

افسر:جھوٹ مت بکو۔ یہ سب من گھڑت کہانیاں ہیں۔ سچ یہ حقائق ہیں جو دستاویز میں مہیا کیے گئے ہیں اور ہم انقلاب کے بعد حقائق کو مانتے ہیں بس۔

ملزم:عالی جناب کو غلط فہمی۔۔۔ (ملزم کے ماتھے پر پسینے کا قطرہ عین درمیان میں آہستہ سے نیچے کی طرف آ رہا ہے کہ دائیں طرف سے ایک اور قطرہ اس میں ملتا ہے اور اب یہ بڑا قطرہ تیزی سے ناک کی جانب گامزن ہے)

افسر: تم جانتے ہو کہ یہ حقائق ریاست کی طرف سے مہیا کیے گئے ہیں (اسی وقت افسر اک نظر ٹیپ ریکارڈر پر مار کر اطمینان کرتا کہ وہ چل رہا ہے، جس کی گھومتی گراریوں کی آواز آپ بھی سن سکتے ہیں )

ملزم: جی۔۔۔مگر۔۔۔ وہ۔۔۔۔ غلطی (اب پسینے کا قطرہ ملزم کی ناک کی نوک پر پہنچ چکا۔ میری آپ کی اور افسر تینوں کی نگاہیں منتظر ہیں کہ وہ جلدی سے نیچے گرے۔۔۔ چلیں گر گیا)

افسر : تو تم مانتے ہو تم سے غلطی ہوئی۔ یہ بتاؤ کہ قتل کیسے اور کیوں کیا؟
ملزم: نہیں میں تو یہ کہہ رہا کہ معلومات غلط نہیں۔

افسر: تو تم کہہ رہے ہو کہ ریاست غلط ہے، ریاست ناحق ہے اور تم حق پر ہو۔ تم ریاست سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہو۔

 اب یہ بتانے کی خاص ضرورت نہیں کہ کئی ایسے افراد جنہیں باغی اور غدار قرار دے کر پھانسی دی جا چکی ہے، کے چہرے ملزم کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔

ملزم: نہیں! نہیں! ریاست حق پر ہے۔ ریاست تو کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی جناب!

افسر بائیں ہاتھ سے گھنٹی بجاتا ہے تو وہی دو محافظ اس کے پکارنے پر واپس آتے ہیں۔ افسر پر اعتماد لہجے میں کہتا ہے کہ مجرم نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

افسر کی میز کے نیچے سے ہوتی ہوئی پانی کی دھار اس کے قدموں کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جب مجرم کو زبردستی کھڑا کیا جاتا تو اس کی پتلون کی گیلاہٹ آپ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

(ٖFargo Season 03 کے ایک Random Scene کو پھیلایا گیا ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •