مصنوعی طاقتوں والے فوجی بنانے کی دوڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھیڑ کا بچہ پچاس فٹ اونچی چٹان پر بیٹھا تھا، اس نے نیچے سے شیر کو گزرتے دیکھا، بھیڑ کے بچے نے شیر کو چھوٹا سا پتھر مارا اور ہنس کر بولا۔

چچا جان السلام علیکم! شیر نے غصے سے بھیڑ کے بچے کی طرف دیکھا پھر چٹان کی طرف دیکھا، اس کے بعد بولا۔ بھتیجے یہ تم نہیں بول رہے یہ پچاس فٹ اونچی دیوار بول رہی ہے۔

دنیا میں آج تک کوئی ایسی دوا کوئی ایسا علاج دریافت نہیں ہوا جو کمزور دل لوگوں کو جرأت مند بنا سکے جو کم حوصلہ لوگوں اور بزدلوں کو بہادر، حوصلہ مند اور جرأت مند بنا سکے۔ اندلس کے آخری فرماں روا ابو عبداللہ محمد جب غرناطہ کی چابیاں فرڈی نینڈ کے حوالے کر کے رو پڑا تو اس کی ماں نے کہا تھا۔ بیٹا! تم مردوں کی طرح جس سلطنت کی حفاظت نہیں کر سکے ، اب اس کے لئے عورتوں کی طرح آنسو نہ بہاؤ۔ اسی سے ملتی جلتی بات مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کو اس کے وزیراعظم نظام الملک نے بھی کہی تھی۔

نظام الملک نے بادشاہ کو کہا تھا، ظل الٰہی فوجیں بادشاہوں کو جرأت مند نہیں بناتیں بلکہ بادشاہوں کی جرأت فوجوں کو بہادر بنایا کرتی ہے۔ کاش! آپ کی والدہ نے آپ کو دودھ میں جرأت گھول کر پلائی ہوتی۔ جرأت اللہ کا وہ عظیم تحفہ ہے جو ادھار ملتا ہے، خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی سے چھینا جا سکتا ہے۔ یہ انسان ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے ، چنانچہ جب کوئی کمزور دل ، بے حوصلہ اور بزدل شخص اچانک جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے تو اس کے پیچھے کسی نہ کسی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کسی بزدل شخص کی بہادری بھیڑ کے اس بچے کے سلام سے ملتی جلتی ہے جو پچاس فٹ اونچی چٹان پر بیٹھا تھا۔

وہ دن لد گئے جب مائیں اپنے بچوں کو جرأت اور بہادری دودھ میں گھول کر پلایا کرتی تھیں اور انہیں روز محشر دودھ نہ بخشنے کی دھمکیاں بھی دیتیں۔ جدید دنیا میں اب ان کہانیوں کی کوئی گنجائش نہیں، وسائل کی فراوانی اور دوسری فوجوں پر سبقت حاصل کرنے کی خواہش نے دنیا بھر کی فوجوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے نیا اسلحہ بنانے کی طرف راغب کر رکھا ہے۔

2014 میں ایک نئے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ میں یہاں اس بات کا اعلان کرنے آیا ہوں کہ ہم ”آئرن مین“ بنانے جا رہے ہیں۔اس وقت اس بات پر قہقہے سنائی دیے لیکن امریکی صدر سنجیدہ تھے۔ امریکی فوج نے اس منصوبے پر کام شروع بھی کر دیا تھا جو دراصل ٹیکٹیکل اسالٹ لائٹ آپریٹر سوٹ (ٹیلوس) کہلانے والا ایک حفاظتی لباس تھا۔ اس کی تشہیر کے لیے بنائی جانے والی ویڈیو میں اس لباس کو پہننے والے کردار کو دشمن کے مورچوں میں گھستے دکھایا گیا، اس کے لباس سے گولیاں ٹکرا کر گر رہی تھیں۔ تاہم ”آئرن مین“ نہ بن سکا۔ پانچ برس بعد یہ منصوبہ اپنے اختتام کو پہنچا لیکن اسے بنانے والوں کو امید ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے پرزے کسی دوسرے منصوبے میں کام آ جائیں گے۔

ایگزو سکیلیٹنز ان متعدد ٹیکنالوجیز میں سے ہے جن پر دنیا بھر کی افواج کام کر رہی ہیں تاکہ اپنے فوجیوں کی صلاحیتوں میں جدت لائی جا سکے۔ جدت کا حصول کوئی نئی بات نہیں، زمانہ قدیم میں بھی فوجیں اسلحہ، لباس اور ٹریننگ میں جدت لانے کی کوشش کرتی رہی ہیں تاہم آج جدت کا مطلب ایک فوجی کو بہتر بندوق دینے سے کہیں زیادہ ہے۔

2017 میں روسی صدر ولادی میر پوتن نے خبردار کیا تھا کہ شاید انسان جلد کچھ ایسا ایجاد کر دے جو ایک جوہری بم سے کہیں زیادہ خطرناک ہو۔ انہوں نے کہا تھا کہ آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ انسان شاید ایک ایسا انسان ایجاد کر دے جس میں کچھ خصوصیات ہوں، نہ صرف مفروضے کی حد تک بلکہ حقیقت میں بھی۔ وہ کوئی شاندار ریاضی دان بھی ہو سکتا ہے، ایک بہترین گلوکار بھی یا ایک ایسا فوجی جو بغیر کسی خوف، ہمدردی، افسوس اور درد کے لڑ سکتا ہے۔

گزشتہ برس امریکہ کے ڈائریکٹر برائے نیشنل انٹیلی جنس (ڈی این آئی) جان ریٹکلف چین پر الزام لگانے میں ایک قدم آگے چلے گئے تھے۔ انہوں نے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل میں لکھتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ چین نے اس وقت پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں پر ٹیسٹنگ کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے تحت فوجیوں کی صلاحیتوں کو بائیولوجیکلی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیجنگ کے سامنے طاقت کے حصول کے لیے کوئی اخلاقی حدود نہیں ہیں۔ چین اور امریکہ ہی وہ ممالک نہیں جو اس ضمن میں برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ فرانس کی فوج کو بھی ”اینہانسڈ سولجرز“ یعنی خصوصی فوجی بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔

سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر سائنس دان کسی فرد کی خصوصیات کو بہتر بھی بنا دیں تب بھی اس کا عسکری شعبے میں استعمال مزید مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کیا فوج کے احکامات پر عمل کروانے والے ڈھانچے میں موجود ایک فوجی آزادانہ طور پر اس بات کی اجازت دے سکے گا کہ وہ اس طرح کا ممکنہ طور پر خطرناک علاج کروائے۔ ایک فوجی پر ڈالے جانے والے خطرات کی ایک حد تو ہو سکتی ہے لیکن یہ ان سے کہیں زیادہ ہے جو معاشرے کے عام لوگوں پر مسلط کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی شخص کے لیے ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ فوج میں چیزیں مختلف ہوتی ہیں۔ فوجیوں کو زندگی یا موت جیسی خطرناک صورتحال میں رکھا جاتا ہے۔

اگرچہ کیپٹن امریکہ تو نہ بن سکا لیکن ہر وقت کسی حیران کن پیش رفت کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ انہی امکانات میں سے کاش ایک امکان یہ بھی ہو کہ کوئی بھی طاقت ور ملک افغانستان، لیبیا، عراق اور شام جیسے کمزور ملکوں پر اپنا تسلط جمانے سے پرہیز کر سکے، فلسطینیوں اور کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی سرزمین پر مہاجرت کا اذیت ناک دکھ سہنے کی لاعلاج تکلیف سے بچا سکے۔ ٹھنڈے اور گرم پانیوں کے وسائل پر قبضہ جمانے کی خواہش میں وہاں کے عوام کو خون میں نہلانے کی روش کو روک سکے۔

یہی نہیں فوجی جرنیلوں کو پاکستان اور برما جیسے کمزور جمہوریت والے ملکوں پر آمریت مسلط کرنے سے روکا جا سکے۔ خلائی مخلوق بن کر عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے، سیاسی وابستگیاں تبدیل کرانے اور عام لوگوں کو ہائبرڈ جنگ کا ایندھن بنانے سے باز رکھا جا سکے۔ پاپا جونز بننے سے روکا جا سکے، جنیاتی تبدیلیاں کر کے سرکس میں استعمال ہونے والے دو دھڑ والے بچے جیسی عجیب الخلقت جمہوریت کی غیر فطری پیدائش کو روکا جاسکے۔

آئین کو ردی کاغذ سمجھ کر اسے بار بار ڈسٹ بن میں پھینک کر سینہ پھلانے اور مکے لہرانے سے اجتناب برتنے کی اخلاقیات ان کے ذہنوں میں پیوست کی جا سکے، عدالتوں سے فرار کی بجائے ان میں پیش ہونے کی تربیت دی جا سکے، بیلسٹک میزائلوں کی تیاری، جدید جنگی طیاروں کی خریداری کے ساتھ قلم اور قلم کاروں کی خریداری میں فرق رکھا جا سکے اور سیاست سیاست کھیلنے والے کٹھ پتلی تماشوں کے شوقینوں کو بار بار یہ نہ کہنا پڑے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹو۔

آخر ہم کب طاقت کا اصل سرچشمہ کہلانے والے عوام کو کمزور کرنے اور مصنوعی طاقتوں والے فوجی بنانے کی لا حاصل مشقوں سے باز آئیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •