مجھے نکاح کی کوئی جلدی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے کا کوئی جوان اگر ایک معمولی انسان کی طرح جینا چاہے تو اس کی چند بنیادی ضروریات پوری ہونی چاہئیں۔ تعلیم اور معاش اگرچہ ان ضروریات میں سرفہرست ہیں مگر ان کا موازنہ نکاح سے کرنا منصفانہ نہیں ہو گا۔

ہم سب شاہد ہیں کہ بغیر تعلیم اور غیر مناسب معاش کے باوجود کئی بزرگوں نے نسلیں تیار کر لی ہیں مگر بغیر نکاح کے انسان نہ صرف یہ کہ اپنی نجی زندگی متوازن طریقے سے پروان نہیں چڑھا سکتا بلکہ مناسب معاشرہ سازی میں بھی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

گھر تیار کرو، ڈگری پوری نہیں ہوئی اور ہاں! نوکری کے بغیر تو ہم نے بیٹی نہیں دینی۔ یہ تو احوال ہیں سسرال کے اور بات جب خود ان پر آئے تو یہ کہتا ہے کہ مجھے ابھی دیر ہے۔ مجھے نکاح کی کوئی جلدی نہیں۔ ماں بہتر جانتی ہے کہ اگر بیٹا گھر سے روٹی نہ مانگے تو اس کا مطلب ہے کہ باہر سے کھا کر آیا ہے کیونکہ اس کے بغیر گزارا ناممکن ہے۔ مگر والدین بچوں کی اس ضرورت کو زیر بحث لانے میں شرماتے ہیں۔ ان ضروریات کو وقت پر پورا کرنا ضروری ہے۔

نکاح میں تاخیر کرنے والے جوان بعض اوقات ایسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جس کی علامت ”بھوک نہ لگنا“ ہے۔ نکاح انسان کی شہوانی نہیں بلکہ انسانی ضرورت ہے۔ یہ انسان کا ایسا حق ہے جسے ضرورت اور حاجت کے پیدا ہوتے ہی ادا ہو جانا چاہیے۔

جوان آدمی کے اندر اٹھنے والے جذبات کا اگر درست استعمال ہو تو شاداب باغ کی مانند خوبصورت ترین معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ممالک کی ترقی اور تہذیب و ثقافت کا مؤثر ترین ہتھیار وہاں کے نوجوان کی شخصیت ہے۔ اس کے جذبات اگر شہوات کی نذر ہو جائیں تو ان کی حیثیت بھی فقط ایک چلتے پھرتے اوزار سے زیادہ نہیں رہتی۔ اور آپ جانتے ہیں کہ اوزار صرف صنعت چلانے کے لیے مختصر مدت کے لیے ہی کارآمد ہوتا ہے۔

ساتھیو! نکاح ہماری ترجیحات میں ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں کسی بھی طرح کے بہانوں کو حمایت نہیں ملنی چاہیے۔  ہمں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں شادیوں کو آسان بنائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سجاد انصار کی دیگر تحریریں