مولانا سید عطاء المہیمن بخاریؒ: سید عطااللہ شاہ بخاریؒ کی آخری نشانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسے مناظر کمیاب ہیں کہ جہاں جلال اورجمال اکٹھا ہو جائے۔ حضرت امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی جلال و جمال کے اظہارکی خوب خوب ترجمانی کرتی تھی۔ اسی لیے شورش کاشمیری نے لکھا تھا کہ ”شاہ جی! دیکھنے کی نہیں، پیارکرنے کی چیزہیں۔“ ہم نے شاہ جی کو نہیں دیکھا، لیکن ان کے چاروں فرزندان میں ان کے جمال و جمال کا خوب خوب نظارہ کیا۔ دنیا کی دولت سے تہی، مگر غیرت ایمانی سے معمور ان عظیم بزرگوں کی حق گوئی اور خود اختیار کردہ فقر و درویشی نے بے حد متاثر کیا۔

یہی وجہ ہے کہ ان مردان خدا مست کی محبت دل پر ایسے نقش ہوئی کہ جسے حوادث زمانہ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود کھرچنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ان کے حسن کردار کی بدولت انہیں لوگوں نے ٹوٹ کرچاہا۔ حضرت امیرشریعت اور اکابر احرار کی تربیت نے فرزندان بخاریؒ کو ہمیشہ صراط مستقیم پر گامزن رکھا۔ مصلحت کوشی کی آسائشوں بھری زندگی کے بجائے حق و صداقت کی کانٹوں بھری شاہراہ کا انتخاب ہی ان کی شناخت اور پہچان بن گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ کچھ ایسے سنگ دل بھی موجود رہے ہیں کہ جو ان پر ہمیشہ لب کشا رہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے کٹر دشمنوں نے بھی اختلاف کی اتھاہ گہرائیوں میں لتھڑ کر بھی ان کے کھوٹ اور ملمع سے پاک کردار کی گواہی دی ہے۔

حضرت پیرجی مولانا سید عطاء المہیمن بخاری رحمہ اللہ حضرت امیرشریعت کے سب سے چھوٹے فرزند اور عہد موجود میں ان کی آخری نشانی تھے۔ انہیں اپنے تاریخ ساز والد کی شفقتوں سے بھی وافر حصہ ملا۔ بچپن میں ان کے والد مکرم نے انہیں ”پیرجی“ کہہ کر پکارا، جو آگے چل کر ان کی شخصیت کی پہچان بن گیا۔ حضرت پیرجی نے مختلف مدارس میں دینی تعلیم حاصل کی، مگر طبعی رجحان کی بدولت بطور خاص فن قرات میں اپنے وقت کے عظیم قرا سے کسب فیض کیا۔

حضرت امیرشریعت کی رحلت کے بعد اپنے بڑے بھائیوں کی سرپرستی میں اپنے والد ماجد کے واحد ترکہ یعنی مجلس احرار اسلام کی آبیاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ برسوں مدینہ منورہ میں قیام رہا۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا قدس اللہ سرہ العزیز کی صحبتو ں اور محبتوں سے خاص حصہ پایا۔ جب حضرت شیخ الحدیث نے وفات پائی تو ان کے کفن دفن میں بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ جب تک حجاز مقدس میں قیام رہا، رزق حلال کی خاطر باقاعدہ عام مزدوروں کی طرح ہر طرح کی مزدوری کی۔

جو اجرت ہاتھ آتی، اگلا دن چڑھنے سے پہلے پہلے دوستوں کی ضیافت اورمستحقوں کی خدمت میں صرف کر دیتے اور پھر سے کام میں جت جاتے۔ وہ چاہتے تو اپنے والد کی نسبت کو اپنی ذات کے لیے راحتوں کا سامان بنا سکتے تھے، لیکن اس کے برعکس انہوں نے شہرت و ناموری پر گم نامی کو ترجیح دی۔ دولت اورمال و زر کی ذخیرہ اندوزی کرنا چاہتے تو بلامبالغہ ان کا شمار گنے چنے دولت مندوں میں ہوتا، لیکن انہوں نے فقر و درویشی اور غیرت مندی کا جو درس اپنے والدین سے لیا تھا، انہوں نے اس کی لاج رکھی اور اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے اپنے وجود کو مشقت وکلفت کا عادی بنا لیا۔

یہی سبب ہے کہ انہوں نے اپنے اجداد کی مانند کوئی ترکہ نہیں چھوڑا۔ البتہ دینی حمیت اور حق گوئی کی میراث ان کی اولاد اور جماعت میں برابر دیکھی جا سکتی ہے جو یقیناً ان کے لیے توشۂ آخرت اور نجات اخروی کا عظیم سرمایہ اور دولت بے بہا ہے۔ ایسی میراث اور ترکہ صرف اللہ کے محبوب بندگان ہی اپنے پسماندگان کے لیے چھوڑا کرتے ہیں۔

آپ قطب الاقطاب حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ روحانیت سے بے حد لگاؤ تھا۔ وظائف و معمولات کا ہر گھڑی اہتمام و التزام رکھا۔ مروجہ پیری مریدی کے شدید شاکی تھے۔ فرماتے تھے کہ اکثر خانقاہیں مجاوروں کی صنعت بن گئی ہیں اور ان کے پیر بے ضمیر ہو گئے ہیں۔ کبھی پیر اپنے مرید کے دلوں کی اصلاح کیا کرتے تھے، اب ان کی نظر مرید کے نذرانوں اور جیب و سامان پر اٹک کررہ گئی ہے۔

جس نے خانقاہوں کے مقاصد کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ خودصاحب سلسلہ اور مجاز تھے، لیکن بہت کم لوگوں کو مریدکیا۔ بیعت کے خواہش مندوں کو اکثر خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف سے وابستگی کی ترغیب دیتے۔ موجودہ عہد کے پیروں کی طرح خلافتوں کی منڈی نہیں لگائی، بلکہ آخری دور میں صرف ایک ہی خلافت منتقل کی جو ان کے صالح بھانجے نواسۂ امیرشریعت حضرت حافظ سید محمد کفیل بخاری حفظہ اللہ تعالیٰ کی سعادت میں آئی۔

جب اپنے برادر بزرگ حضرت مولانا سید عطاء المحسن بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے بعد مجلس احرار اسلام کی امارت ان کے سپرد ہوئی تو انہوں نے احرار کے بنیادی اہداف حکومت الٰہیہ کے نفاذ، تحفظ ختم نبوت، اسوۂ صحابہؓ کی تلقین و ترغیب اور اصلاح معاشرہ کے لیے زندگی کے بہترین ماہ و سال صرف کر دیے۔ اوائل عمری سے تادم آخر وہ سراپائے احرار رہے۔ قید و بندکی صعوبتیں جھیلیں، اپنوں پرائیوں کی سنگ زنی برداشت کی، دشمنوں کے حملوں کا نشانہ بنے، بیماری و علالت کے مراحل سے بھی گزرے، لیکن اپنے آباکی سنت میں مصائب کو خاطر میں نہ لائے اور استقامت کے پہاڑ بن کر جرات و شجاعت کی ان مٹ مثالیں ثبت کرتے رہے۔

انہوں نے زخم زخم وجود کے ساتھ اپنے نظریاتی و فکری مخالفوں کی اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے میں کوئی دقیقہ فر و گزاشت نہیں کیا۔ وہ حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے معدودے چند دینی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے قادیانی گماشتوں کی یلغاروں، لادین سیاست دانوں کی برآمدشدہ خرافات، بے مہار دانش وروں کی فکری آلودگیوں و نظریاتی بدکاریوں کا بے دریغ تعاقب کیا۔ دین اسلام کی سچی اور صحیح تصویر عوام کے سامنے پیش کی۔

عدم تشدد کا درس دیا۔ وطن سے محبت اور رواداری کو عام کیا۔ دینی محاذ پر سرگرم کارکنوں کی راست سمت میں رہنمائی کر کے انہیں معاشرے کا کار آمد کارکن بنانے کی سعی کی۔ حضرت پیر جی نے عالم شباب سے کبر سنی تک عزم و ہمت اور دلاوری کی مثال قائم کی اور دینی قوتوں کو سبق دیا کہ باطل طاقتیں چاہے جتنی بھی مضبوط کیوں نہ ہوں، ایمانی قوت کے ہتھیاروں سے ان کے بڑھتے قدموں کو حسن تدبیر کے ساتھ روکا جا سکتا ہے۔ وہ جب تک زندہ رہے، حق و استقامت کی داستانیں جریدۂ عالم پر ثبت کرتے رہے

اب وہ ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان کا جاری کردہ مشن اور متحرک کارکنوں کی جماعت موجود ہے جو اپنے عظیم قائد کے متعینہ راستے پر گامزن ہے۔ جس کا واحد منشور ”رب کی دھرتی پر رب کا نظام“ ہے جو حضرت پیرجی کی زندگی کا مقصد و مرکز تھا اور اب سرخ پوشان احرارکے لیے نشان منزل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •