کعبہ میں بت: ایک زائر حرم کے مشاہدات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس لئے یہ کنگرے مجھے تو بالکل ہضم نہیں ہو رہے کیونکہ ان کو اتنی حساس جگہ پر، اس طرح کعبہ کے صحن میں لگانا اور شاید اسی تعداد میں لگانا جتنی تعداد میں ان کو نبی کریم ﷺ نے توڑا تھا، کسی طور بھی سادہ سی بات نہیں ہے نہ ہی یہ کنگرے قرآن و حدیث کے کسی حکم کی پیروی میں لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کعبہ کے صحن میں بنے چھوٹے چھوٹے محراب بھی ہیں اور ان کو غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بھی ایک انتہائی قابل اعتراض چیز لگائی گئی ہے لیکن میں اس کا ذکر نہیں کر رہا، قارئین تصاویر کو بڑا کر کے دیکھ کر خود سمجھ سکیں تو ٹھیک ہے۔

میں نے اس مضمون میں ان بد انتظامیوں کا ذکر بھی کرنا ہے جو کہ میں نے نوٹ کی ہیں کیونکہ یہ سب بھی بہت اہم ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر عازمین ان کو یا تو نوٹ ہی نہیں کرتے یا ان کو قابل ذکر نہیں جانتے۔

ایک تو یہ کے آپ کو مسجدالحرام میں مترجم یا ایسے مددگار نہیں ملتے جو آپ کی کسی پریشانی میں آپ کی زبان سمجھ کر آپ کی مدد کریں جبکہ اس مسجد میں لاکھوں لوگ آتے ہی دوسرے ممالک سے ہیں جن کو عربی نہیں آتی۔

پھر جو سیکورٹی کے افراد مسجد میں تعینات ہیں، وہ عوام کے ساتھ انتہائی بدتمیزی سے پیش آتے ہیں ۔ یہ لوگ ہر مرد کو حاجی اور عورت کو حجۃ کہتے ہیں لیکن ج پر اتنا زور ڈالتے ہیں بولتے ہوئے کہ میں نے وہاں گوگل پر حاجی کے اسپیلنگ میں دو یا تین جے ڈال کے دیکھا کہ کہیں اس طرح بولنے سے کوئی گالی تو نہیں بنتی عربی میں۔

اس کے علاوہ کعبہ کے صحن میں بنے چھوٹے چھوٹے محراب بھی ہیں

ہمیں پتہ چلا کہ عمرے کا سب سے مشکل کام حجر اسود کو چومنا اور حطیم میں دو رکعت نفل نماز پڑھنا ہے۔ کسی نے یہ مشورہ بھی دیا کہ روز عصر کی نماز کے بعد رش کم ہوتا ہے اور یہ ایک مناسب وقت ہوتا ہے اس کام کے لئے، تو میں بھی عصر کی نماز کے وقت حجر اسود کے بہت پاس دوسری قطار میں کھڑا ہو گیا لیکن جونہی نماز ختم ہوئی ایسا لگا کہ حجر اسود پر کچھ ہٹے کٹے نوجوانوں کا حملہ ہو گیا ہے ۔ ایک نوجوان حجر اسود کے اندر ہاتھ ڈال کے کعبہ کی بنیر پر پاؤں رکھ کے کھڑا تھا اور یقین تو نہیں لیکن ایسا لگا کہ اس معرکے کو سر کرتے ہوئے اس نے کوئی پنجابی گالی بھی دی کیونکہ ہم پنجابی لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کب ریح یا گالی نکل جاتی ہے۔

یہ منظر بالکل سینما یا میچ کی ٹکٹ نکالنے جیسا ہی تھا۔ اب یہ نوجوان وہاں قبضہ کیے کھڑا تھا اور لوگ اس کی طرف اپنی ٹوپیاں رومال صافے اچھال رہے تھے اور یہ ان کو حجر اسود کے ساتھ مس کر کر کے واپس اچھال رہا تھا۔ یہ سب اتنا بدتمیزی دھکوں بھرا ہجوم بن جاتا ہے کہ کسی عورت کا اس طرف جانے کا سوچنا بھی محال ہوتا ہے۔ پھر بھی چند بوڑھی خواتین ادھر گھس ہی جاتی ہیں۔ سیکورٹی کے لوگ کچھ دیر تک یہ سب ہونے دیتے ہیں۔

اس سارے عرصے میں ان تین چار سو لوگوں میں سے شاید آٹھ دس لوگ ہی حجر اسود کو چوم پاتے ہیں پھر ایک دم سیکورٹی کے افراد ان سب افراد کو بہت بد تمیزی سے بلا تفریق عورت مرد بوڑھا جوان دھکے دیتے حتی کہ تھپڑ مارتے ہوئے اس جگہ سے ہٹا دیتے ہیں۔ اس سے بھی بھیانک کام حطیم میں نفل پڑھنا ہوتا ہے کیونکہ یہ بہت چھوٹی سی جگہ ہے جس کے گرد دیوار بنی ہے اور دونوں طرف دروازے لگے ہیں۔ لیکن یہاں بھی بد انتظامی یا بے رحمی یا تماشا دیکھنے کا وہی انتظام کیا گیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مشتاق خان درانی کی دیگر تحریریں

Pages: 1 2 3 4

Leave a Reply