کعبہ میں بت: ایک زائر حرم کے مشاہدات


سردی کے دن تھے، بہت ٹھنڈ پڑ رہی تھی ۔ دسمبر کا مہینہ تھا، کورونا چائنہ میں پھیلنا شروع ہو چکا تھا، ہم تینوں تیز فلو بخار میں مبتلا تھے لیکن پینا ڈول کے زیر اثر ان شاندار دنوں کو ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے اور دنیا میں ابھی کورونا کی زیادہ خبر نہ تھی، اس لئے خیر رہی اور فلو فلو ہی رہا۔

اگلے دن مسجد نبوی کی خوب سیر کی، جی بھر کے دیکھا سب کچھ۔ مارکیٹ دیکھی۔ مدینہ میں وقت ملتا ہے بندے کو گھومنے پھرنے کو۔ پھر اگلے دن بتایا گیا کہ صبح سویرے ہمیں زیارات کے لیے جانا ہو گا۔ بہت خوشی ہوئی،  بس میں زیارات کے دوران ایک پاکستانی گائیڈ مسلسل ہمارا خون گرما رہا تھا۔  جب اس نے یہ کہا کہ جو عمرہ ہم نے مکہ میں کیا ہے وہ تو اللہ کی مرضی ہے قبول ہو کہ نہ ہو لیکن اب جس مسجد میں ہم جا رہے ہیں، وہاں دو رکعت نفل نماز ادا کرنے کا ثواب ایک مقبول عمرہ کے برابر ہے تو بہت جذباتی ہو کر دس ریال اس گائیڈ کو دیے کہ جس عمرہ کی قبولیت کا ابھی شک ہے اس پر تو دو لاکھ فی بندہ خرچ کیا ہے۔

یہ زیارات جس طرح سے کروائی جاتی ہیں، اس سے بچپن کا وہ ڈبہ والا سینما یاد آ جاتا ہے جس کے سوراخ سے لاہور، کراچی، مکہ مدینہ دکھایا جاتا تھا۔ زیادہ تر زیارات بس میں بیٹھے بیٹھے دکھا دی جاتی ہیں۔ بس ایک دو خاص جگہ بس سے اتر کے دیکھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

مسجد نبوی ﷺ کے خادمین بھی عازمین سے ریال بٹورتے ہیں اور لوگ عقیدت کے طور پر دیتے بھی ہیں۔ لیکن کعبہ کی طرح نہیں۔ یہاں یہ لوگ نماز سے پہلے صفائی کا عمل پورا کر لیتے ہیں اور پھر ہر ہر اس راستے، دروازے یا راہداری میں اپنے جھاڑو یا صفائی کے اوزار لے کر مؤدب کھڑے ہو جاتے ہیں اور نمازی حضرات آتے یا واپس جاتے ان کو ریال دیتے رہتے ہیں۔ ان کو یوں راستوں پر کھڑا دیکھ کر عجیب لگتا ہے۔

مدینہ میں سب سے مشکل کام ریاض الجنہ میں نفل ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے دو تین  بار غلط قطار میں لگ کر، پھر ایک دن صحیح قطار میں اور بر وقت جانے سے بہت اچھے سے اس زمینی جنت پر نفل بھی پڑھے اور آسمانی جنت کے اپنے اور سب اپنوں کے لیے حصول کی دعا بھی کی ۔ اللہ تعالی قبول فرمائے، آمین۔

مسجد نبوی ﷺ میں مغرب اور عشاء کا وقت بہت اچھا ہوتا ہے، زیادہ تر لوگ یہ وقت مسجد کے اندر گزارتے ہیں۔ عرب اور مختلف ممالک کے لوگوں کے گروپ جگہ جگہ بیٹھ جاتے ہیں اور عالم ان کو دین کی باتیں بتاتے ہیں۔ سرکاری مولوی پکڑ پکڑ کر لوگوں کو صحیح عربی کا تلفظ سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انڈونیشیا، ملائشیا، چائنہ، روس کے لوگ بہت جذباتی اور شوق سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ سب سیکھنے کے لئے عشاء کی نماز کے بعد عربی جگہ جگہ گروپ بنا کے بیٹھ جاتے ہیں اور اپنا روایتی قہوہ نوش کرتے ہوئے گپ شپ لگاتے ہیں۔

مدینہ میں آخری کام عجوہ اور دوسری کھجوریں خریدیں اور اگلے دن واپس مکہ روانہ ہو گئے۔ ایک بار پھر سے دو چادریں اور وہ سارا مقدس عمل اور گنجا ہونا الحمدللہ۔

مکہ کے ان دنوں میں ذرا اچھے سے مکہ مطلب کعبہ کو دیکھنے کا موقع ملا۔

مستنصر حسین تارڑ صاحب کی کتاب ’’منہ ول کعبہ شریف‘‘ میں آپ ﷺ کی جائے پیدائش کی جگہ کا ذکر پڑھا ہوا تھا تو اس کی تلاش میں نکلا، وہاں واقعی ایک لائبریری بنا کر اس کو اچھے سے تالے لگا کے بند کیا گیا ہے لیکن عوام کو تو پتہ ہے کہ یہی وہ مبارک جگہ ہے، اس لئے اس لائبریری کی دیواروں پر سینکڑوں لوگوں نے اپنی دعائیں تحریر کی ہوئی ہیں جن میں سب سے زیادہ دعائیں بیٹا پانے کی ہیں اور 90 فیصد دعائیں اردو زبان میں تحریر ہیں ۔

90 فیصد دعائیں اردو زبان میں تحریر ہیں

اس جگہ ابھی اور بھی تعمیراتی کام ہو رہا تھا اور یہاں میں نے ایک بورڈ دیکھا جو کہ پہلی نظر میں اسرائیل کا جھنڈا ہی لگا لیکن اس پر سٹار کا ایک کونا زیادہ کر دیا تھا تاکہ کچھ فرق رکھا جا سکے، یہ کسی کنسٹرکشن کمپنی کا بورڈ تھا جو کہ بعد میں کعبہ کے برآمدوں میں بھی نظر آیا اور اس پر نظر پڑتے ہی اسرائیل کا جھنڈا ہی لگتا ہے۔

کیونکہ زیادہ تر لوگ مڈل کلاس یا غریب ہوتے ہیں اور موبائل کی سم مہنگی ہوتی ہے تو دو چار یا جتنے بھی فیملی میں لوگ ہوں، ان میں سے ایک بندہ سم لے لیتا ہے تاکہ پاکستان یا اپنے ملک میں اپنے رشتہ داروں سے بات کر سکے لیکن باقی افراد کا آپس میں رابطہ نہیں رہتا، اس لیے کعبہ کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ کعبہ کی حدود میں فری ٹیلی فون بوتھ بنائے تاکہ ہر بندہ اپنے ساتھیوں سے رابطہ کر سکے۔

مکہ کے ان آخری دنوں میں مکہ کی زیارات بھی مدینہ کی زیارات کی طرح ہی کراوائی گئیں،  صرف میدان عرفات میں بس سے اتر کے دعا مانگنے اور گھومنے پھرنے کا موقع دیا گیا۔ ان زیارات میں بس میں موجود گائیڈ نے ایک بار پھر مجھے جذباتی کر دیا جب اس نے یہ بیان کیا کہ مسجد الحرم کے صحن کے بالکل ساتھ ایک چھوٹی سی خالی جگہ ہے جو اصل میں وہ قبرستان ہے جس میں عرب زمانہ جاہلیت میں اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اس نے بتایا کہ اس جگہ پر کوئی مشین کام نہیں کر پاتی اور باوجود کوشش کے اس جگہ کچھ بھی تعمیر نہی ہو سکا۔ بس پھر اگلے دن گائیڈ کی بتائی ہوئی جگہ کی تلاش شروع کر دی، عربوں نے اس جگہ کو بھی ایسے چھپایا ہوا ہے کہ مسجد کے صحن کے بالکل سامنے ہونے کے باوجود آپ اس کو آسانی سے ڈھونڈ نہیں سکتے۔

واپسی کے دن سب عازمین اپنے بیگز کو پلاسٹک کے ریپرز سے لپیٹنے اور ان کا وزن کرنے پر صرف کرتے ہیں، ہم تین لوگ تھے اور تین بیگ اور صرف کھجور اور چند اشیاء کے علاوہ ہم نے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔ یہ سوچ کے کہ پاکستان سے سستا مل جائے گا۔ اس لئے تمام تحائف پاکستان جا کر لیں گے ۔ بیگز کا وزن زیادہ نہیں تھا تو ہم لوگوں نے وزن کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اب ایئرپورٹ پر مین بورڈنگ کاؤنٹر پر ایک عربی اور ایک بنگالی اس کا ماتحت موجود تھے۔

بنگالی ہر عازم کو وزن کے چکر میں ڈال کر یہ ثابت کرتا جا رہا تھا وزن زیادہ ہے اور اس کا حل رشوت ہی تھی جو وہ بنگالی اس عربی ملازم کے سامنے سب سے لیتا جا رہا تھا، میں نے تھوڑی ہمت کی اور اس عربی کو براہ راست انگلش میں بتایا کہ ایئرلائن نے جتنا وزن ہم کو لے جانے کی اجازت دی ہے یہ سب ملا کے اس سے کم ہے تو ہم کو بورڈنگ پاس مل گئے۔

ان کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ یہ تین چار یا پانچ بیگز میں سے کسی ایک کا وزن زیادہ بتا کر عازمین کو مجبور کرتے ہیں کہ بیگز کو کھولا جائے اور سامان نکال کر دوسرے بیگز میں ڈال کر وزن پورا کیا جائے لیکن یہ سب کرنے سے بیگز کی پلاسٹک ریپنگ دوبارہ کروانے سے وہاں ایئرپورٹ پر سو یا دو سو ریال تک خرچ ہو جاتے ہیں جبکہ یہ سٹاف آپ سے بیس تیس ریال لے کر بورڈنگ پاس لے دیتا ہے۔

ہماری پرواز کا وقت رات دو بجے کا تھا اور ہم رات 11 بجے تک بورڈنگ لاؤنج میں پہنچ چکے تھے، اب جو پرواز لیٹ ہوئی تو صبح چھ بج گئے اور وجہ تھی وہ بیچارے نوجوان جن کو سعودیہ بدر کیا جا رہا تھا، یہ کوئی ڈیڑھ دو سو نوجوان تھے جو سب کے سب ٹریک سوٹ میں ملبوس تھے اور بظاہر فوج کے ملازم لگ رہے تھے ۔

زم زم کا پانی سب کو جدہ ایئرپورٹ پر دیا جاتا اور ہر بوتل پر نام لکھا ہوتا ہے اس عازم کا۔ کراچی ایئرپورٹ پر ہم اپنے نام کی 5 بوتلیں ڈھونڈتے رہے اور آخر تھک کر کوئی سی بھی تین بوتلیں اٹھائیں اور اپنوں کے پاس آ گئے کیونکہ پٹھان عازمین نے یہ عقل کا کام سب سے پہلے کر لیا تھا جو ہم نے بہت دیر کر کے کیا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4