انقلاب ایران: جدت اور روایت کا حسین امتزاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جدید ترقی یافتہ سائنسی دنیا میں مذہب کی بنیاد پر ہونے والی سرگرمیوں ، مذہبی سیاست اور مذہب کی اساس پر لائی جانے والی تبدیلیوں کو جہاں منفی تصور کیا جاتا ہے وہیں ان تبدیلیوں کو عارضی اور ناپائیدار سمجھا جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے اس نظریے کے ثبوت کے لیے خود اہل مذہب نے شواہد بھی فراہم کیے ہیں لیکن مجموعی طور پر اس فکر کی کاملاً تائید بھی حقیقت سے راہ فرار کے مترادف ہے۔

انسانی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مذہب نے دنیاوی ارتقاء اور سائنسی ترقی کی بلاجواز مخالفت کی ہے یا اس ترقی سے روگردانی کی کوشش کی ہے یا جدت کے مقابلے میں قدامت کو ترجیح دی ہے ، تب انسانی معاشروں نے نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا۔

گزشتہ پندرہ صدیوں پر محیط انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں جہاں ترقی پسندوں ، جدت پر عمل کرنے والوں اور سائنسی علوم کی ترویج کرنے والوں کو بعض مذہبی اکابرین اور مذہب کی آڑ میں قائم حکومتوں نے عبرت کا نشانہ بنایا ہے وہیں یہ بات بھی اوراق تاریخ پر نقش ہے کہ خود اہل مذہب میں سے متعدد شخصیات نے سائنسی علوم کی بنیاد رکھی ہے، جدید علوم میں پیش رفت کی ہے اور انسانوں کو جدید دنیا کے تقاضے پورے کرنے کی نصیحت کی ہے۔ قدیم و جدید سے کماحقہ استفادہ کرنے والی انہی شخصیات کے دم سے انسانی معاشرے قائم رہے ہیں۔

ہمارے موجودہ زمانے میں دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف نظریات کی بنیاد پر انقلابات رونما ہوئے۔ انقلاب فرانس و انقلاب روس کے بعد سوشلزم نے دنیا کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کی کوشش کی۔ انقلاب چین کے بعد کمیونزم نے دنیا کو راہ زیست دکھانے کی سعی کی۔ اس سے قبل کلیسا کی تائید کے ساتھ پہلے مذہبی اور پھر مذہبی جمہوری نظام حکومت دنیا پر رائج کرنے کی تحریکیں چلیں۔ بادشاہت تو صدیوں سے انسانی معاشروں میں کہیں نہ کہیں موجود رہی ہے۔

کہیں خاندانی بادشاہت رہی جس کا کسی کے مذہب سے تعلق نہیں رہا لیکن کہیں مذہب کو بنیاد بنا کر بادشاہت نے لوگوں پر تسلط قائم رکھا جس کی مثالیں موجودہ دور میں بہت سارے عرب ممالک میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جمہوریت بھی صدیوں سے انسانوں کو آزادی کے ساتھ اپنے لئے حکومتی ، سماجی، سیاسی اور معاشرتی نظام اپنی سہولت کے مطابق قائم کرنے کی اجازت دے رہی ہے اور دنیا کے اکثریتی معاشروں نے اپنی ضرورت اور معروضی حالت کے مطابق جمہوری اصولوں اور تقاضوں میں تبدیلی کر کے جمہوریت ہی کو اپنے لئے عافیتی نظام کے طور پر قبول کیا ہوا ہے۔

اسی طرح گزشتہ صدی میں اسرائیل اور پاکستان کے قیام کی اساس مذہب بنا لیکن دونوں میں قدر مشترک مذہب اور جمہوریت سے بیک وقت استفادہ ہے۔ اسرائیل کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہاں آمریت کبھی نافذ نہیں رہی جبکہ پاکستان اس المیے سے دوچار ہوتا رہا ہے۔ (ہمارے اس تبصرے کا اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات اور اسرائیل کے ناجائز ریاست ہونے سے ہرگز تعلق نہیں ہے) اس کے بعد سوویت یونین کا زوال بھی ہماری صدی کا ایک یادگار واقعہ ہے۔

اس زوال کی کوکھ سے امریکی اور پاکستانی جمہوری نظام کی تائید سے افغانستان میں قائم ہونے والی اسلامی و طالبانی حکومت کی شکل میں آنے والا انقلاب ہے جو اپنے ابتدائی سالوں میں ہی زمین بوس ہو گیا اور آج تک بحالی کی کوششوں میں خونی کارروائیوں کو ذریعۂ حصولِ ہدف بنا رہا ہے۔ بوسنیا اور چیچنیا کے بعد مختلف عرب ممالک میں بھی قدیم بادشاہت اور خاندانی و فوجی آمریت کے خاتمے کے لیے جاری تحریکوں میں سے بعض کامیابی کی طرف گامزن ہیں اور بعض اپنے منطقی اور متوقع انجام تک پہنچ چکی یا پہنچ رہی ہیں۔

یوں تو کشمیر و فلسطین و بحرین و یمن کی تحاریک آزادی بھی تبدیلیوں کی طرف مسافر ہیں لیکن القاعدہ ، تحریک طالبان، داعش ، جبۃ النصرہ جیسی کچھ مذہبی تحریکیں خون آشام کارروائیوں کے ذریعے اپنا مخصوص چہرہ پیش کر کے اصلی مذہب اور اس کی تعلیمات پر مبنی مثبت اور حسین چہرے مسخ کر رہی ہیں۔

مشہور تو یہی ہے کہ بیالیس سال قبل ایران کی 16 سو سالہ بادشاہت کو شکست سے دوچار کرنے والا ایرانی انقلاب ایک مذہبی تحریک کا مرہون منت ہے۔ لیکن تاریخی حقائق سے آشنا احباب جانتے ہیں کہ ستر کی دہائی میں ایران میں بادشاہت سے بیزار ہر انسان تبدیلی کا خواہاں تھا ، وہ چاہے جمہوریت پسند تھا یا کمیونزم کا حامی۔ ہر انسان رضا شاہ خانی حکومت کا خاتمہ چاہتا تھا وہ چاہے سوشلزم کا کارکن تھا یا مذہب بیزار الحادی نظریات کا قائل تھا۔ امریکی تائید سے قائم ایرانی بادشاہت کے خلاف ہر مسلمان بھی تھا اور ہر آتش پرست بھی۔ ہر یہودی بھی تھا اور ہر نصرانی بھی۔ ہر سنی بھی تھا اور ہر شیعہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ سارے طبقات نے اپنے اپنے پلیٹ فارمز سے ایرانی بادشاہت کی مخالفت جاری رکھی ہوئی تھی لیکن امام خمینی ؒ کی قیادت میں قائم مذہبی لیڈر شپ نے بروقت اور کشادہ دل پالیسیاں تشکیل دیں اور تمام طبقات کو باہم متحد کیا۔ حالانکہ مذہبی رہنماؤں کی جانب سے اس قسم کی کشادہ دلی کی توقع کم دیکھنے میں آتی ہے۔

ایران میں موجود غیر مذہبی جماعتوں ، سیاسی و جمہوری تحریکوں اور سوشلسٹ و کمیونسٹ عناصر نے امام خمینی کی مذہبی قیادت کی نہ صرف حمایت کی بلکہ وہ انقلاب کی جدوجہد میں ہراول دستہ رہے ، جانی قربانیاں بھی پیش کیں اور تبدیلی کے لیے اپنی علمی و فکری و سائنسی صلاحیتیں بروئے کار لائے۔ اس کا سبب یہی تھا کہ امام خمینی اگرچہ ایک مسلم اور جید مذہبی رہنما تھے لیکن انہوں نے شدت و انتہا پسندی سے دوری رکھی ہوئی تھی۔ بادشاہت کو گرانا ، ایران کو بیرونی تسلط سے آزاد کرانا ، ایرانی عوام کو آزادانہ و جمہوری انداز میں زندگی بسر کرنے کے مواقع دینا ان کا ہدف تھا ۔ اس ہدف کے حصول کے لیے انہوں نے کٹھ ملائیت یا شدت پسندانہ مذہبی افکار اور قتل و غارت گری کو زینہ نہیں بنایا اور نہ ہی انہوں نے ایران میں موجود مختلف سیاسی و سماجی و معاشی و مذہبی افکار کے حامل طبقات میں سے کسی کی نفی کی۔ انہوں نے ترقی پسندانہ فکر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ اہداف کو رہنما اصول کے طور پر سامنے رکھا اور اپنی جدوجہد کو مذکورہ بالا تمام طبقات کی تائید و حمایت کے ذریعے کامیابی سے ہمکنار کیا۔

انقلاب کی کامیابی کے بعد امکان تھا کہ مذہبی طبقہ بہ زور طاقت دیگر طبقات کو پس پشت ڈالے گا اور ملک کو جہالت اور اندھیرے کے زمانے میں لے جائے گا۔ دوسرا یہ کہ امریکی اور سامراجی مخالفت کے ہوتے ہوئے مذہبی طبقے سے ایرانی زمام اقتدار نہیں سنبھل پائی گی اور بہت جلد یا بادشاہی نظام واپس آ جائے گا یا عوام تنگ آ کر دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور مذہبی طبقے کو بے دخل کر کے کوئی اور سیاسی و حکومتی نظام اس کی جگہ لے لے گا۔

لیکن یہ تمام تخمینے آغاز سے آج تک اس لیے غلط ثابت ہو رہے ہیں کہ ایران پر حکومت کرنے والے مذہبی طبقے نے روایت پسندی سے گریز کیا ہے۔ کٹھ ملائیت کے ذریعے حکومت چلانے کی کوشش نہیں کی۔ ملک میں خلافت اسلامیہ کی بجائے جمہوری حکومت قائم کرنے کو ترجیح دی۔ عوام کو براہ راست انتخابی عمل اور اقتدار میں شریک رکھا۔ جنگوں اور بدامنی کے باوجود انتخابی عمل کبھی نہیں روکا بلکہ تسلسل کے ساتھ بروقت انتخابات کا انعقاد کر کے اقتدار کی منتقلی جاری رکھی۔

ایران کی بظاہر مذہبی حکومتوں نے فقط سیاسی نظام نہیں بلکہ ملکی ترقی کا عمل تمام جمہوری و غیر جمہوری ممالک کے مقابل زیادہ تیزی کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی میں پیش رفت ہو یا سائنسی علوم و ایجادات میں ترقی ہو، ایران دونوں میدانوں میں نہایت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کورونا جیسی عالمی وبا میں امریکہ ، چین، روس اور برطانیہ جیسے ممالک کے مقابل ایران نے اپنے سائنسی ماہرین کے سبب نہ صرف کورونا پر کنٹرول حاصل کیا بلکہ عوام کو بھی شدید معاشی بحران سے محفوظ رکھا اور سب سے پہلے مؤثر ترین کورونا ویکسین ایجاد کر لی ، صرف ایجاد ہی نہیں کی بلکہ ان دنوں دیگر ممالک کو فراہم بھی کی جا رہی ہے۔

اسلحہ سازی کا میدان ہی دیکھ لیجیے ، ایران آئے روز نئے جنگی اسلحے، آبدوزوں ، میزائلوں،  میزائل شکن طیاروں،  ڈرون ٹیکنالوجی ، فضائی جاسوس طیاروں اور دور مار میزائلوں کی ایجادات تک تمام میدانوں میں آگے آگے ہے۔ ایرانی میڈیکل ٹیکنالوجی بھی اسی رفتار سے ترقی پذیر ہے ، کلونئیل اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے لے کر دل، جگر اور گردوں کی پیوند کاری تک ہر شعبے میں ایران تسلسل کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔

مذہبی اور جدید علوم میں ایرانی حوزوں اور یونیورسٹیوں کا ارتقاء بھی عالمی تعلیمی اداروں کی رینکنگ میں بطور ثبوت موجود ہے۔ صحت اور صفائی کے معاملے میں ایران دنیا کے گنے چنے چند ممالک میں سر فہرست ناموں میں آتا ہے۔ اگر خواتین کی عبایا اور اسکارف کو روایت پسندی کہا جائے تب بھی اس کے علاوہ ایران میں کم ہی مذہبی علامات نظر آتی ہیں ، زیادہ مظاہر سائنسی اور دنیاوی ترقی سے متعلق ہی نظر آتے ہیں۔

شدید اقتصادی پابندیوں ، عالمی سطح پر معاشی بائیکاٹ،  تسلسل کے ساتھ جنگیں مسلط ہونے ، امریکی، اسرائیلی ، برطانوی، یورپی اور عرب ممالک کی مسلسل مخالفت ، گرتی ہوئی ایرانی کرنسی اور ہمسایہ ممالک کے عدم تعاون کے باوجود ایرانی انقلاب اور ایرانی نظام مملکت کا قائم و دائم رہنا اور تیز رفتاری سے ترقی کرنا ہمارے خیال میں صرف اس لئے ممکن ہوا ہے کہ انہوں نے مذہبی اصولوں اور دستور کو بنیاد تو بنایا ہے مگر اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں عالمی اور دنیاوی ضروریات کو مقدم رکھا ہے۔

انہوں نے جدید دنیا کے تمام تر وسائل سے بھرپور سے بھی زیادہ استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے علم کے حصول میں کسی قسم کے تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ علم کو مؤمن کی گمشدہ میراث کے فارمولے کے تحت دنیا کے تمام نظریات و افکار اور مذاہب سے کشید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پردے کا لحاظ رکھ کر خواتین کو تمام تر شعبہ جات میں کام کرنے بلکہ قیادت کرنے کے مواقع فراہم کر رکھے ہیں۔ انہوں نے مذہبی طبقے کی اکثریت کے باوجود مذہب کو سائنسی اور علمی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔یہی سبب ہے کہ آج 42 سال گزرنے کے باوجود ایران کا اسلامی اور مذہبی انقلاب نہ صرف موجود اور قائم ہے بلکہ تر و تازہ ہے۔

جہاں یہ انقلاب ان تمام مذہبی تحریکوں کے لیے مثال ہے جو مختلف ممالک میں تبدیلی کی خواہاں ہیں کہ وہ شدت پسندی اور راسخ افکار سے نہیں بلکہ علمی اور فکری پیش رفت سے کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ اسی طرح مذہب کو یکسر مسترد کرنے اور ہر قسم کے مذہبی چہرے پر عدم برداشت کی تہمت ڈالنے والے طبقات کے لیے بھی سوچنے اور فکر بدلنے کی دعوت دیتا ہے کہ مذہب پر عمل کرنے کے باوجود جدید زمانے کے تقاضے بھی پورے کیے جا سکتے ہیں اور ہر قسم کی ترقی بھی کی جا سکتی ہے۔

ایرانی انقلاب نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جدید و قدیم اور جدت و روایت کا حسین امتزاج ہے۔ اگر یہی انداز،  یہی پالیسی ، ایسی قیادت اور ایسا ارتقاء جاری رہا تو یہ انقلاب اپنی تازگی کے ساتھ دیر تک قائم رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply