جہاد یا سپانسرڈ فساد؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے نعرے ایجاد کرنے والے تو گنتی کے چند لوگ تھے لیکن جن لوگوں نے ان نعروں کی قیمت ادا کی ہے، ان کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!، کہ ابھی تک ایسے سادہ دل لوگ بھی موجود ہیں جو اس جہاد کا تعلق اسلام سے جوڑتے ہیں۔ جبکہ ناواقفان حال کو بھی پتہ چل چکا کہ یہ جہاد مکہ یا مدینہ سے نہیں بلکہ لینگ لے ورجینیا (Langley Virginia) سے برآمد کیا گیا تھا اور وہاں جماعت اسلامی یا اخوان المسلمون کا ہیڈ کوارٹر نہیں، سی آئی اے کا ہیڈکوارٹر ہے۔

اس جہاد کو منظم کرنے والوں کو بخوبی اندازہ تھا کہ پاکستان پر اس جہاد کے کیا اثرات مرتب ہونے والے ہیں اور آئندہ اس کی کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ یہ جہاد امریکہ نے اسپانسر کیا، لیکن اس کی قیمت پاکستان کے کروڑوں لوگوں نے اپنے بجلی، گیس، پانی اور تیل کے بلوں کی صورت، حفظان صحت اور تعلیم کی عدم موجودگی کی صورت میں ادا کی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موت سے بدتر زندگی کی صورت میں ادا کی ہے۔ اس ملک کی آدھی آبادی خط افلاس کے نیچے غرق ہو گئی ہے اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ افلاس کفر کے نزدیک تر  لے جاتا ہے۔

یوں ایک ’فرض عبادت‘ کی ادائیگی کے لیے ہم نے کروڑوں لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنے کا وظیفہ سرانجام دیا ہے۔ معاشرتی تار و پود یوں بکھرا ہے کہ ہر شخص دوسرے کو کاٹ کھانے اور بیچ کھانے پر آمادہ ہے۔ اس قدر سرانڈ اور کراہت ہے کہ استغفراللہ! اخلاقی حالت یہ ہے کہ ’کافر‘ ملکوں میں دیوالی اور کرسمس آتی ہے تو اشیائے ضرورت کی قیمت کم کر دی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ خوشیوں میں حصہ دار بن سکیں اور ہمارے ہاں رمضان آتا ہے تو ضروری اشیاء یا تو غائب ہو جاتی ہیں یا ان کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں۔ منشیات، جرائم، کلاشنکوف، پشاور کے حیات آباد باڑے سے لے کر کراچی تک کی متوازی یعنی (Parallel) معیشت ایک اور تحفۂ جہاد ہے۔

یہ ہیں وہ کم از کم اثرات جو ان دو ’جہادوں‘ نے اس ملک پر مرتب کیے ۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ بعد کی سول اور فوجی حکومتوں نے اپنی 23 سالہ افغان پالیسی کو  123 ڈگری کا ٹرن دے دیا ا ور یوں دوسرے لفظوں میں قبول کر لیا ہے کہ ان کی افغان پالیسی غلط تھی۔ ایک سابق وفاقی وزیر جو کہ جرنیل اور آئی ایس آئی چیف رہے۔ انہوں نے دوٹوک یہ بات تسلیم کی کہ، ”پاکستان میں جہاد سارا چندے کا کھیل تھا“ ۔ واہ جنرل صاحب واہ، لیکن آپ صرف 20 سال لیٹ ہیں۔

جہاد ایک فرض اسلامی عبادت ہے اور اس کے ثمرات اس قدر انقلاب آفریں ہوتے ہیں کہ پورا معاشرہ ایک دھلا دھلایا پاکیزہ پیکر بن جاتا ہے۔ پاکستان پر اس کے نتائج بالکل الٹے مرتب ہوئے، اس لیے کہ فی مجاہد جو تنخواہ لیڈران کرام وصول کرتے تھے وہ ہزاروں نہیں، لاکھوں اور کروڑوں ڈالرز میں تھی۔

عالم اسلام پر 1258ء سے بڑی آفت کبھی نازل نہیں ہوئی جب تاتاری یلغار نے پورے عالم اسلام کو زیر و زبر کر ڈالا تھا۔  اس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ پناہ کی تلاش میں جوق در جوق ہندوستان آ کر آباد ہو گئے تھے۔ بہرحال اس پورے عہد میں ایک مفتی نے بھی یہ فتوی نہیں دیا کہ چونکہ تاتاری بت پرست ہیں اور عالم اسلام پر قابض ہو گئے ہیں، اس لیے ان کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے بلکہ اس کے برعکس چنگیز خان نے علامہ جوینی جیسے جلیل القدر عالم کو اپنا مشیر یا وزیر مقرر کیا۔

مسلم ہندوستان کے درویش منش بادشاہ التمش نے محمد خوارزم شاہ کو پناہ دینے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ اس نے منگولوں کو مشتعل کرنے کی جو مہلک غلطی کی تھی اور اس کے نتیجے میں منگولوں نے لاہور سے بغداد تک کے علاقے تاخت و تاراج کر دیے تھے۔ التمش پر کسی نے ایمان فروشی اور بزدلی کے الزامات نہیں لگائے تھے اور نہ ہی بغاوت کے مقدمے قائم کیے تھے۔ بلکہ التمش نے منگولوں کو اپنی سلطنت میں آباد کرنے کی فراخ دلانہ پالیسی پر عمل کیا۔

دلی و لاہور کے مشہور محلے ”مغل پورہ“ اس کی یادگار ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ اس زمانے میں علمائے حق اور مشائخ کرائم کی کمی تھی۔ لوگوں کو جہاد پر اکسانے کے بجائے انہوں نے پرامن زندگی کے لیے ان کو تیار کیا۔ فقہ کی مشہور کتاب ”دُر مختار“ اسی دور میں مرتب ہوئی اور اس میں باقاعدہ ایک باب ہے جس کا نام ہے ”باب استیلاء الکفار“، یہ جہاد والے ذرا اس کو ایک نظر دیکھ لیں۔

فتاوی بزازیہ میں لکھا ہے

” واما البلاد۔۔۔ الخ، باقی وہ مقامات جن کے حاکم کافر ہیں تو وہاں بھی جمعہ اور عیدین ادا کرنا جائز ہو گا اور قاضی مسلمانوں کی رضا مندی سے ان کا قاضی ہو گا“ آگے چل کر لکھا ہے کہ ”ہم جانتے ہیں کہ تاتاریوں کی آمد سے پہلے یہ مقام دارالسلام تھا اور ان کے قابض ہو جانے کے بعد اذان، جمعہ اور جماعت بہ اعلان ہوتی ہے اور فیصلے شرع کے موافق کیے جاتے ہیں اور درس و تدریس بغیر روک ٹوک کے جاری ہیں تو ایسے حالات میں ان مقامات کو دارالحرب کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے“ ۔

اب میرے علم میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے جس کے تحت افغانستان میں اذان، جمعہ، جماعت یا عیدین کے خطبے اور ادائیگی پر کبھی پابندی لگی ہو۔ جہاد اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو پر حملے شروع ہو جائیں۔ چونکہ ایسا کہیں بھی نہیں ہوا، اس لیے ہم ایک فرض اسلامی عبادت کا تمسخر اڑانے کے بجائے یہ کیوں نہیں کہتے کہ افغانستان اور کشمیر کے مسلمان اپنی آزادی اور حریت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں اس کا پورا حق ہے۔

اسلام سیاسی غلبے کے لیے جہاد کا نعرہ نہیں لگاتا۔ اس کا بنیادی پیغام توحید و رسالت ہے جو سب سے پہلے تعمیر سیرت و کردار کا کام کرتا ہے۔ پھر وہ ہدایت یافتہ جماعت اپنے لیے پارلیمانی جمہوریت کا انتخاب کرتی ہے یا کسی جرگہ کا اہتمام کرتی ہے۔ اسلام کو اس سے کوئی غرض نہیں جب تک وہ اسلامی عقائد سے ٹکرانے کا باعث نہیں بنتا۔

یہ افغانستان جہاد نہیں بلکہ فساد تھا، جس نے افغانستان کے معصوم عوام ہی نہیں پندرہ کروڑ پاکستانی، اڑھائی کروڑ افغانی مسلمانوں کو افلاس یعنی کفر کی گود میں دھکیل دیا ہے اور اس عالمگیر فساد کے رکنے کی کوئی صورت ابھی نظر نہیں آتی جبکہ قرآن مجید صاف تنبیہہ کرتا ہے کہ ”الفتنۃ اشد من القتل“ یعنی فتنہ قتل سے شدید جرم ہے اور جرم کی کوکھ سے کبھی امن و انصاف برآمد نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply