سات نسلوں کا تعارف ہے یہ لہجہ شاہدؔ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رویے اور لہجے اہمیت رکھتے ہیں ، ان رویوں اور لہجوں سے جنم لینے والے تاثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے اور ان خصلتوں کا اظہار رویوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ کسی کے اچھے اور برے کا امتیاز اور پرکھنے کا معیار ان کے اظہار اور دوران اظہار رویوں پر ہوتا ہے۔ عموماً ہم دوسروں کے رویوں کے شاکی ہوتے ہیں مگر کبھی اپنی ذات کا احاطہ نہیں کرتے اور اپنے من میں ڈوب کر یہ اندازہ نہیں لگاتے کہ طرز اظہار اور اس سے جنم لینے والے رویوں میں کہاں کھڑے ہیں؟ شاعر بھی ان رویوں سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں
وہی جو جان سے پیارے ہیں رشتے مار دیتے ہیں

اس وقت ہمارا سب سے بڑا معاشرتی مسئلہ ہی یہی ہے۔ ہمیں گلہ ہے کہ ہم تمدنی ترقی سے دور ہیں ، معاشرہ رو بہ زوال ہے؟ ادارے تباہ ہو رہے ہیں، کام پھنسے پڑے ہیں ، انسانیت ختم ہوتی جا رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر ان تمام مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو ان کا حل ہمیں مثبت رویوں میں ملے گا۔ ادارے مل کر نظام بناتے ہیں اور نظام جب درست اور بہترین ہو تو وہ معاشرہ اور ملک تمدنی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ وہی مولانا ظفر علی خان کا شعر ہے کہ:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اب اگر ہسپتال، کورٹ کچہری، سکول، کالج، بازار، سرکاری و غیرسرکاری دفاتر و اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے رویے اچھے نہ ہوں تو اس سے منفی تأثر پیدا ہو گا جس کی وجہ سے لوگ نظام سے نالاں ہوں گے۔ چونکہ یہ تمام ادارے ملک کا حصہ ہیں اس لیے حب الوطنی پر اس کا منفی اثر پڑے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان اداروں سے منسلک لوگ اپنے رویے مثبت رکھ کر ملکی سطح پر مثبت سوچ تعمیر کرنے میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی ادارے اس لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ بطور خاص تربیت پر زور دیں اور نئی نسل کی آبیاری اس انداز سے کریں کہ وہ مثل شمع روشن ہو جائیں۔ ایک استاد کا یہ فرض ہے کہ وہ قوم کو پرامید، محب وطن اور با اخلاق سرمایہ مہیا کرے۔ ایسا نہ ہو کہ بعد میں ان کو پچھتاوا ہو

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

ہمارے ہاں اپنی ذات کو مسخر کر کے اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کا ادراک کرنے کا رواج ہی نہیں ہے بلکہ ہم ان قوموں میں سے ہیں جو خود کو بہت جلد اپنی کوتاہیوں سمیت مطمئن کردیتی ہیں۔

موجودہ دور میں جہاں اظہار کے ذرائع بڑھ گئے ہیں ، وہاں انتشار اور افراتفری بھی بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر طرز اظہار اور رویوں کے حوالے سے مایوس کن صورتحال ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو عجیب طریقے سے مخاطب کرتے ہیں۔ گالم گلوچ عام سی بات ہو گئی ہے۔ اختلاف رائے معاشرتی حسن اور ہر ایک کا جمہوری حق ہے خواہ وہ سیاسی حوالے سے ہو یا سماجی و معاشرتی حوالے سے ہو ، ہمارے ہاں یہ عام چلن ہے کہ لوگ ”دلیل“ کی جگہ ”تذلیل“ سے کام لیتے ہیں اور ظاہر ہے اس بحث در بحث سے صرف کینہ و بغض ہی پیدا ہوتا ہے اور کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے ہمارے اقدار کو نقصان پہنچتاہے۔ شکیب جلالیؔ بھی تو اپنے محبوب کے اسی تند وسخت لہجے کے شاکی تھے اس لیے بول اٹھے۔

یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک
کوئی نہ سہہ سکے لہجہ کرخت ایسا تھا

تبدیلی اوپر سے نہیں آتی بلکہ سوشل چینج سے آتی ہے اور سماجی تبدیلی بنیاد (سوشل چینج گراس روٹ لیول) سے شروع ہوتی ہے اور اس کی ابتدا اپنی ذات سے کرنی پڑتی ہے۔ سوشل چینج کا عمل سست رو مگر دائمی ہوتا ہے۔ زندگی کی تلخیوں کو کم کرنے اور منفی رویوں اور کرخت لہجوں سے چھا جانے والے اندھیروں کو مٹانے کے لیے دیے سے دیا روشن کرنا ہو گا تبھی معاشرتی خوشحالی آئے گی۔ کسی نے درست کہا ہے کہ اگر میں ٹھیک ہو گیا تو سمجھو کہ معاشرے سے ایک بدمعاش کم ہو گیا۔ ہمارے ہاں اکثر مسائل ہمارے رویوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ شبینہ ادیب کانپوری نے کیا خوب کہا ہے:

جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمھارا لہجہ بتا رہا ہے تمھاری دولت نئی نئی ہے

شاعر جب کسی خیال کو شعر کے سانچے میں ڈھالتا ہے تو اس مضمون کا خمیر اس معاشرے میں موجود ہوتا ہے۔ اب شاعر کبھی اس دور میں سانس لینے والوں کو آئینہ ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔ وہ جو خواجہ میردرد نے کہا :

ہرچند آئینہ ہوں پر اتنا ہوں ناقبول
منہ پھیر لے وہ جس کے مجھے روبرو کریں

یا پھر شاعر امکانات کا دریچہ وا کر کے فکر کے لیے مواد مہیا کرتا ہے۔ چونکہ شاعر حساس اور نازک مزاج ہوتے ہیں ، اس لیے وہ رویوں اور لہجوں پر دو ٹوک انداز میں گویا ہوتے ہیں۔ بشیر بدر کہتے ہیں :

لہجہ کہ جیسے صبح کی خوشبو اذان دے
جی چاہتا ہے میں تری آواز چوم لوں

معاشرے میں مثبت رویے پروان چڑھانے کے لیے ابتدا اپنی ذات سے کرنی ہو گی اور تب ہی ہم زندگی کے اصل حسن سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔  یہ انفرادی عمل ”قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے“ کے مصداق معاشرے کا مجموعی رویہ تشکیل دے گا۔ کوہاٹ کے شاعر شاہد زمان نے اس موضوع پر سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے :

سات نسلوں کا تعارف ہے یہ لہجہ شاہد
جب کوئی بولے تو پھر نام ونسب کھلتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply