بریٹن ووڈ اور زیرو آپشن

آج صبح گھر سے نکلتے وقت بیوی نے آواز دی، بجلی کا بل، آخری تاریخ ہے لازمی جمع کروا دیں۔ آخری تاریخ سن کر میں رکا۔ یہ بل کب آیا تھا؟ پرسوں، یعنی اب دو تین دن کا ٹائم ملتا ہے؟ چودہ تاریخ ہے اور یہ کیسے آخری تاریخ ہو جاتی ہے؟ ساری زندگی یہی دیکھا سنا کہ پہلی تاریخ کے لگ بھگ بل آتے اور کم از کم دس بارہ دن کا وقت ملتا کہ بل آسانی سے جمع کروا دیا جائے۔ اتنی سی سہولت تو شہری کا حق ہے۔آج کے ترقی یافتہ دور میں، مہینے کے کچھ دن ایسے ہیں جب بنکوں کے باھر خلق خدا بے ترتیب، لاچاری کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ بنک والے مقررہ اوقات میں بل وصول کرتے ہیں۔ غضب خدا کا، شہری ریاست کو ریونیو دینے، بے توقیر کھڑے ہوں۔

Read more

فلم انڈسٹری اور ملکہ ترنم نور جہاں: جب فنکار نے آمریت سے ٹکر لی

ہال میں چنیدہ مہمان، چوکس فوجی ویٹر ذمہ دار اہل کار، خاموش اپنے کام میں مصروف، اچانک اسٹیج کا دروازہ کھلا اور دو شخص داخل ہوئے۔ ایک صاحب گرے کلر کے ٹریک سوٹ ہاتھ میں سگریٹ درمیانے قد کے سرخ و سفید خوب صورت گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی ہیں، دوسرے پوری فوجی وردی میں ملبوس جنرل ضیا الحق ہیں۔ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک، پورے طمطراق اور کروفر سے چلتے میڈم نور جہاں سے زرا فاصلے پر آ کھڑے ہوئے۔ لیکن یہ کیا میڈم ٹس سے مس نہ ہوئی حتی کہ ٹانگ پر دھری ٹانگ بھی سیدھی نہ کی، جب کہ تمام سازندے جو آشنائے شہریاری تھے فورا احتراما کھڑے ہو گئے۔ جیلانی صاحب مسکراتے ہوئے بڑھے میڈم سے دعا سلام کی اور فرمایا، میڈم جنرل ضیا الحق۔ میڈم نے ایک اچٹتی سی نظر ڈالی، سلام کا جواب دیا، ”لیکن مرد مومن رعایا پرور غاصب حکمراں مسکراتے ہوئے قدم بڑھا کر سازندوں سے ہاتھ ملانے لگے۔ایک اور سانحہ ہوا سارے سازندے کانپ گئے۔ جنرل ضیا الحق دو بندوں سے ہاتھ ملا کر تیسرے الطاف حسین سے ہاتھ ملانے لگے، تو وہ ان کا بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کر کے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے اور زرا کانپتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹ گیا

Read more

پاکستان میں فلم انڈسٹری کا زوال

ھم سب جانتے ہیں کہ فلم کتنا بڑا میڈیم ہے۔ لیکن فلم کے اثرات کیا ہیں؟ اس کی طاقت کیا ہے؟ اس بارے میں شاید کم بلکہ بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ مختصرا یوں سمجھیں کہ امریکہ کو سپر پاور اور انڈیا کو شائننگ انڈیا بنانے میں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کا مقام…

Read more

شہنشاہ اکبر اور نواز شریف

نواز شریف کو اکثر مغل بادشاہ اکبر سے مماثلث دی جاتی رہی۔ جو حقائق اور تاریخ دونوں سے نا انصافی ہے۔ جلال الدین اکبر ایک عظیم مدبر اور دلیر حکمران تھا۔ اسی شہر لاھور میں، دریائے راوی پر واقع بارہ دری پر ایک تیرہ یا چودہ سالہ لڑکا اپنے باپ کے وفادار آزمودہ جرنل بیرم…

Read more

وجیا نگر کا انجام

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ، کوئی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا۔ وجیا نگر کا درد ناک انجام اس کی گواہی ہے۔ یوں تو جنگ و جدل سے دنیا کی تاریخ بھری ہے۔ یورپ بیسویں صدی کی دو عظیم جنگیں اور اس کے خوفناک نتائج بھگت چکا لیکن برصغیر پاک و ہند…

Read more

مظلوم مہاراجہ رنجیت سنگھ۔۔۔

دانش مند لوگ کہتے ہیں کہ ”علم اور تعصب اکٹھے نہیں ہو سکتے“ اپنے مفادات کے لیے، نسلی گروھی مذہبی معاشی دباؤ کے تحت، حقیقت چھپانا تعصب ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود ہمارے ”سرکاری تاریخ دان“ ہیں۔ اپنے کالم میں رنجیت سنگھ کے حرم اور ان سے منسوب مضحکہ خیز قصوں کو جناب نے مزے لے لے کے بیان فر مایا بلکہ آج کے حکمرانوں سے رنجیت سنگھ کا موازنہ کیا۔ یہ سخت نا انصافی ہے۔ تاریخ چیخ چیخ کر اس کا ابطال کر تی ہے۔

ڈاکٹر صفدر محمود صاحب، کشمیر رنجیت سنگھ نے فتح کر کے پنجاب میں شامل کیا۔ پھر شمال کی جانب وہ کام کیا جو آج ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہے یعنی ہمارے ظالمان طالبان، یہ وہ زمانہ تھا کہ پنجاب نے ایسا وقت نہ دیکھا تھا۔ ہمیشہ کے لیے اس نے پشاور کو پنجاب کا حصہ بنایا بعد میں انگریزوں نے اس کو ڈیورنڈ لائن سے بدلا اور یوں پنجاب یعنی آج کے پورے پاکستان اور ہندوستان کو ان حملوں سے محفوظ کیا۔

Read more

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے۔۔۔

آج بروز منگل 31 اکتوبر ہے۔ تین بجے ریکارڈنگ ٹائم تھا دو بجے گھر سے اپنے چینل ”آپ نیوز“ جانے کے لیے جوہر ٹاون سے پیکو روڈ کی طرف نکلا فیروز پور روڈ پہنچنے والا راستہ بلاک تھا۔ معمول سمجھ کر میں نے راستہ تبدیل کیا ماڈل ٹاون کی طرف اتفاق ہاسپٹل کے پیچھے والی…

Read more

منشا بم کی گمشدگی اور چند پرانے بدمعاشوں کے قصے

اس شہر بے مثال لاہور میں نصف صدی گزار کر اب ایسی خبروں پر ہنسی بھی نہی آتی۔ میرا ذھن اسی کی دہائی میں کھو گیا۔ مشہور زمانہ ضیا الحقی غیر جماعتی الیکشن تھے۔ شریف برادران وزارت اعلی و عظمی کے لیے کوشاں اور میئر شپ کے لیے ان کے امیدوار میاں اظہر جو گورنر…

Read more
––>