ملکہ ترنم نور جہاں: جب فنکار نے آمریت سے ٹکر لی
ہال میں چنیدہ مہمان، چوکس فوجی ویٹر ذمہ دار اہل کار، خاموش اپنے کام میں مصروف، اچانک اسٹیج کا دروازہ کھلا اور دو شخص داخل ہوئے۔ ایک صاحب گرے کلر کے ٹریک سوٹ ہاتھ میں سگریٹ درمیانے قد کے سرخ و سفید خوب صورت گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی ہیں، دوسرے پوری فوجی وردی میں ملبوس جنرل ضیا الحق ہیں۔ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک، پورے طمطراق اور کروفر سے چلتے میڈم نور جہاں سے زرا فاصلے پر آ کھڑے ہوئے۔ لیکن یہ کیا میڈم ٹس سے مس نہ ہوئی حتی کہ ٹانگ پر دھری ٹانگ بھی سیدھی نہ کی، جب کہ تمام سازندے جو آشنائے شہریاری تھے فورا احتراما کھڑے ہو گئے۔ جیلانی صاحب مسکراتے ہوئے بڑھے میڈم سے دعا سلام کی اور فرمایا، میڈم جنرل ضیا الحق۔ میڈم نے ایک اچٹتی سی نظر ڈالی، سلام کا جواب دیا، ”لیکن مرد مومن رعایا پرور غاصب حکمراں مسکراتے ہوئے قدم بڑھا کر سازندوں سے ہاتھ ملانے لگے۔ایک اور سانحہ ہوا سارے سازندے کانپ گئے۔ جنرل ضیا الحق دو بندوں سے ہاتھ ملا کر تیسرے الطاف حسین سے ہاتھ ملانے لگے، تو وہ ان کا بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کر کے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے اور زرا کانپتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹ گیا
Read more
