فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کے خلاف اہم شواہد سامنے آ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان تحریکِ اِنصاف کی ایک اہم دستاویز منظر عام پر آئی ہے، جس کے مطابق اِس پارٹی کے ملازمین ٹیلی فون آپریٹر طاہر اقبال، کمپیوٹر آپریٹر محمد نعمان افضل، اکاؤنٹنٹ محمد ارشد اور پی ٹی آئی کے دفتر کے ہیلپر محمد رفیق کے ذاتی بنک اکاؤنٹس کو پارٹی کے لیے عطیات وصول کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری خزانہ اور مشیر مالیات سراج احمد نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ پارٹی کے مالیاتی بورڈ کی جانب سے ان چاروں ملازمین کو اجازت دی گئی تھی۔

قانونی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس سے متعلق یہ ثبوت انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کے قواعد 2002 کے آرٹیکل 4 کے مطابق کوئی سیاسی جماعت فرنٹ اکاؤنٹس کے ذریعے اپنے لیے فنڈز وصول نہیں کر سکتی۔ مزید برآں، اِنتخابی قوانین کے مطابق سیاسی جماعتیں غیر ملکی شہریوں سے فنڈز حاصل نہیں کر سکتیں۔

یاد رہے کہ 20 جنوری 2021ء کو عمران خان نے کہا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کی اوپن کورٹ سماعت کی جائے کیونکہ پی ٹی آئی کی تمام فنڈنگ قانونی اور ریکارڈ پر ہے۔ ہمارے پاس 40 ہزار ڈونرز کے ناموں کی فہرست کے ساتھ ساتھ 23 بینک اکاؤنٹس کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ تاہم جب پی ٹی آئی کے بانی رُکن اکبر ایس بابر کی طرف سے الیکشن کمیشن میں درخواست آئی کہ پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگز کے تمام شواہد فراہم کیے جائیں تو عمران خان نے اپنی پارٹی کے وکیل شاہ خاور کے ذریعے درخواست جمع کروا دی کہ سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی اوپن نہ کی جائے۔

ماضی میں اس کیس کے سلسلے میں پی ٹی آئی ایک بار سپریم کورٹ آف پاکستان میں امریکہ سے موصول فنڈنگ کی دستاویزات پیش کر چکی ہے۔ جب ان دستاویزات کی جانچ پڑتال ہوئی تو معلوم ہوا کہ غیر ملکی شہریوں کے ناموں کی جگہ اِنتہائی بھونڈے طریقے سے پاکستانی شہریوں کے نام کاپی پیسٹ کر کے بار بار دہرائےگئے تھے۔ اس پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہم ہو کر پی ٹی آئی کے وکیل سے پوچھا تھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کرنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟ پی ٹی آئی کے وکیل نے اس موقع پر معذرت کی تھی۔

حال ہی میں پی ٹی آئی نے غیر قانونی فنڈنگ تسلیم کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ غیر قانونی فنڈنگ کی ساری ذمہ داری امریکی ایجنٹوں کی ہے، جنھوں نے پارٹی کے چئیرمین (عمران خان یعنی کیس کے مرکزی فریق) کو بتائے بغیر ایسا کیا۔

یاد رہے کہ عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں 30 بار سٹے آرڈر لینے کے ساتھ ساتھ سات پٹیشنز دائر کر چکے ہیں کہ اُن کے خلاف تحقیقات نہ کی جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply