حکومت کا سرکاری ملازمین کے ساتھ اچھا سلوک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھیں کرپٹ حکومتوں کے زمانے میں امیر لوگ سیر کرنے مری جاتے اور سڑک پر اترے بادلوں کے درمیان چہل قدمی کرتے تو غریب کلرک اور دیگر سرکاری اہلکار اپنی جیب دیکھتے اور دل مسوس کر رہ جاتے۔ ان کے لیے یہ تفریح محض ایک خواب کی حیثیت رکھتی تھی کہ وہ بادلوں میں چلیں۔ ایک اچھی حکومت اپنے شہریوں کا خیال رکھتی ہے۔ صاف شفاف حکومت نے ان غریبوں کے لیے اسلام آباد کی سڑکوں پر بادل اتار دیے کہ خوب گھومو ان میں۔

سرکاری بابو اتنے خوش ہوئے کہ بادلوں میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں اتنا زیادہ لطف آیا کہ بیان سے باہر ہے۔ وہ اپنی محبوب حکومت کی یہ غریب پروری اور کرم نوازی دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکے۔ وہیں زار و قطار آٹھ آٹھ آنسو بہانے لگے۔ کئی پر یہ محبت دیکھ کر فرط مسرت سے غشی طاری ہو گئی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے۔

فیک میڈیا اب سچ نہیں بولے گا بلکہ یہ کہے گا کہ یہ بادل آنسو گیس کے ہیں اور بابو اس کے اثرات سے بچنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ چند جھوٹے گواہ بھی آ جائیں گے کہ ہم ادھر سے گزرے تو آنکھوں میں جلن ہونے لگی۔ دیکھیں یہ جلن ان کرپٹ لوگوں کو حکومت کی کارکردگی دیکھ کر ہو رہی تھی۔ ان کا دل تو جل ہی رہا تھا ان کی آنکھیں بھی مارے حسد کے جلنے لگیں۔

یہ بات درست ہے کہ شہریوں کو یہ سہولت فراہم کرنے پر اس پر حکومت کا بہت زیادہ پیسہ خرچ ہو گیا۔ لیکن آپ یہ بھی دیکھیں کہ اگر حکومت ان ہزاروں افراد کو بسوں میں بھر کر مری لے جاتی تو کرائے اور وہاں طعام و قیام پر حکومت کا کتنا پیسہ خرچ ہوتا؟ اس کے مقابلے میں اسلام آباد میں ہی یہ ماحول فراہم کرنا بہت سستا پڑا ہے۔ اسلام آباد میں اس وقت کڑاکے کی سردی نہیں، بلکہ فضا میں ہلکی سی خنکی ہوتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مری جیسی فیلنگ دینے کے لیے ان اہلکاروں پر ٹھنڈا پانی بھی چھڑکا گیا ہو گا۔ یہ بابو بھی اس ضمن میں حکومت سے تعاون کرتے دکھائی دیے۔ ان میں سے کئی اپنے چہرے پر پانی کے چھپاکے مارنے کے علاوہ سر پر بھی پانی انڈیل رہے تھے۔

بعض ناقد یہ کہیں گے کہ جو بھی ہو یہ بادل بنانے والے شیل ہوتے تو درآمد ہیں۔ ان پر ملک کا قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ دفتری بابوؤں کی ایک دن کی خوشی کے لیے اس طرح کھلے دل سے ان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ ایک بچکانا اعتراض ہے جو حقیقت جانے بغیر سنی سنائی باتوں پر کیا گیا ہے۔ اگر ان ناقدین نے کوئی شیل اٹھا کر خود سے دیکھا ہوتا تو انہیں علم ہوتا کہ حکومت نے اس مقصد کے لیے ایکسپائر شدہ شیل استعمال کیے تھے جن کی تاریخ استعمال ایک برس پہلے ہی گزر چکی تھی۔ انہیں محفوظ طریقے سے تلف کرنے پر بہت خرچہ آتا اور کوڑے میں پھینکنا ممکن نہیں تھا کہ کسی شرپسند کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ حکومت نے نہایت دانشمندی سے ایک طرف تو اپنے غریب اہلکاروں کو گویا مری جانے دیا اور دوسری طرف ان شیلوں سے بھی جان چھڑا لی۔

جو افراد محترم شبلی فراز کے بیان پر اعتراض کر رہے ہیں کہ خرچے کیسے کم کریں، انہیں حکومت نے یہ کام خود کر کے دکھا دیا ہے کہ نیت ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔ حکومت دوسرے طریقوں سے بھی شہریوں کو کفایت شعاری سکھا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے بجلی مہنگی کر دی گئی ہے اور یوں جو لوگ پہلے اے سی چلاتے تھے اب وہ کولر چلانے لگے ہیں اور کولر والے پنکھے۔ پنکھے والے ٹھنڈی آہیں بھر کر گزارا کر لیتے ہیں۔

گیس کا ریٹ بھی کئی گنا زیادہ ہونے کے معیشت اور شہریوں کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وہ نہ صرف کھانا کم کھانے لگے ہیں بلکہ گرم پانی کا نخرا کیے بغیر صبر شکر سے یخ پانی سے نہا لیتے ہیں۔ بلکہ ہم جیسے تو یخ پانی دیکھ کر ماحول دوست پالیسی بھی اپنائے ہوئے ہیں اور انشا اللہ گرمیوں میں ہی نہائیں گے۔ یوں پانی کی بچت بھی ہو گی اور گلوبل وارمنگ بھی کچھ قابو میں آئے گی۔

ویسے جو افراد اعتراض کر رہے تھے کہ کشمیر روڈ کا نام سری نگر روڈ کیوں رکھا گیا ہے، امید ہے کہ انہیں سمجھ آ گئی ہو گی کہ ایسا نہایت سوچ سمجھ کر ہی کیا گیا ہے۔ محض آدھے گھنٹے دفاتر کے باہر کھڑے ہونے پر بھارتی یہ اعتراض اٹھا رہے تھے کہ اس سے کشمیریوں کے دکھ درد میں شرکت نہیں ہوتی، اس لیے سری نگر روڈ پر شہریوں کے لیے وہی دردناک ماحول فراہم کر دیا گیا جو بھارتی حکومت سری نگر میں کرتی ہے۔
ختم شد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1358 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply