موسمیاتی تبدیلیاں: ہماری بقا کے لیے بڑا چیلنج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر کے سائنس دان، ماحولیاتی ماہرین، دنیا کے معتبر ترین اداروں کی جانب سے تیار کی جانے والی سینکڑوں تحقیقی رپورٹوں میں بتایا جا چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہیوں سے کرہ ارض کو دوگنا زیادہ آفات و سانحات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ زہریلی گیسوں کا اخراج ہے، ان زہریلی گیسوں جنہیں گرین ہاؤس گیسز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، کے فضا میں بے پناہ اخراج کے سبب عالمی زمینی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی پالیسی سازوں نے 2015 میں کیے جانے والے پیرس معاہدے میں کرۂ ارض کے زمینی درجہ حرارت کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے آگے نہ بڑھنے دینے کا جو عزم کیا تھا،  اس صورتحال میں اب اس پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

سائنسی جریدے نیچر آف سائنس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 3.52 ملین سالوں میں عالمی زمینی درجہ حرارت میں 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا تھا جبکہ 19 ویں صدی میں صنعتی ترقی کے پچھلے 100 سالوں میں عالمی درجہ حرارت میں ایک ڈگری کا اضافہ ہوا اور دنیا کے کچھ حصوں میں 4 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے اضافے کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔ رواں صدی کے اختتام تک کرۂ ارض کے درجہ حرارت میں 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا اضافہ متوقع ہے۔

کووڈ 19 کی وجہ سے دنیا بھر میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب صنعتی پہیہ رک گیا تھا، فضائی سفر نہ ہونے کے برابر تھا اور وہ تمام ذرائع جو گرین ہاؤس گیسوں کا موجب گردانے جاتے ہیں بند تھے، اس کے باوجود بھی صورتحال میں کسی قسم کی بہتری نظر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق کووڈ 19 میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ہونے والی کمی کی شرح صرف 17 فیصد رہی۔ سائنس دانوں کے نزدیک یہ کمی کسی شمار میں ہی نہیں کیونکہ فضاء ان زہریلی گیسوں سے بھر چکی ہے ، یہی سبب ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے وابستہ آفات کا سلسلہ کووڈ 19 میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے باوجود بھی نہیں رک سکا۔

کرۂ ارض پر درجہ حرارت کا ریکارڈ رکھنے والے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے دسمبر 2019 میں پیش گوئی کی تھی کہ 2020 کرۂ ارض کے گرم ترین برسوں میں سے ایک ہو گا۔ اسی ادارے کی 2020 کے اختتام پر جاری ہونے والی رپورٹ جو سینکڑوں ماہرین اور اداروں کی تحقیق اور مشاہدات کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہے ، میں بتایا گیا ہے کہ درجہ حرارت کا ریکارڈ رکھنے کی 178 سالہ تاریخ میں 2016 کے بعد معمولی فرق کے ساتھ 2020 دوسرا گرم ترین سال رہا۔اعدادوشمار کے مطابق یہ اضافہ 1900 سے 1985 تک ریکارڈ کیے جانے والے درجہ حرارت کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم نے 5 میں سے 1 فیصد کے تناسب سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ 2024 تک درجہ حرارت میں مزید ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ 100 سالوں میں 0.8 ڈگری سینٹی گریڈسے زائد کا اضافہ ہوا تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ صرف پچھلے 3 عشروں میں دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم کے سربراہ پیڑی تلاس نے کہا کہ ہم نے رواں سال گرمی کے غیر معمولی واقعات دیکھے ہیں۔

اس ضمن میں بین الاقوامی فیڈریشن آف ریڈ کراس کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ ”حدت اور سطح سمندر میں اضافہ“ میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے پہلے 6 ماہ میں دنیا کو 100 سے زائد موسمیاتی تبدیلی سے جڑی آفات کا سامنا کرنا پڑا جن میں 5 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں انسانوں کے لیے کووڈ کے مقابلے میں کہیں زیادہ چیلنج کی حامل ہیں۔

بے شمار تحقیقی رپورٹیں، دنیاکے چوٹی کے سائنس دان و ماحولیاتی ماہرین مسلسل عالمی پالیسی سازوں کو متنبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال جاری رہتی ہے تو گرمی کی شدت میں اضافہ، سمندری طوفان، سیلاب، آگ لگنے کے واقعات کے ساتھ دیگر قدرتی آفات میں مزید تیزی آئے گی اور ہو بھی یہی رہا ہے۔خصوصاً گنجان آبادی رکھنے والے ایشیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے تمام مظاہر تباہی مچا رہے ہیں۔

سسٹین ایبل انرجی فار آل کی جاری کردہ رپورٹ 2018 میں کہا گیا کہ عالمی زمینی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کے نتیجے میں دنیاکے 1.1 ارب سے زائد لوگ شدید متاثر ہوں گے جن کا تعلق صرف براعظم ایشیا کے ملکوں سے ہے جبکہ لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے 430 ملین اور کچی بستیوں کے 630 ملین افراد گرمیوں کی شدت کا سامنا کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس رپورٹ کی تیاری میں 52 ملکوں میں سروے کیا گیا جس میں پاکستان، ہندوستان اور بنگلادیش بھی شامل تھے ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2030 سے 2050 کے درمیان گرمی کی شدت کے نتیجے میں معمول سے 38 ہزار زائد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

2017 میں معروف جریدے ”سائنس ایڈوائسز“ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2100 تک جنوبی ایشیائی ملکوں کے کئی حصے گرمی کی شدت کے نتیجے میں انسانی آبادیوں سے محروم ہو جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے وہ علاقے جہاں سخت گرمی اور حبس کے باوجود لوگ سایہ دار درختوں کے نیچے زندگی بسر کر لیتے ہیں وہاں کا درجہ حرارت جب 5 یا 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا تو ان علاقوں کے رہنے والے درختوں کے سائے میں بھی زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ تحقیق کاروں کے مطابق اگلی دو، تین دہائیوں میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں ہولناک گرم لو کے جھکڑ چلنا شروع ہو جائیں گے جن کے سبب جنوبی ایشیائی خطے کی 30 فیصد آبادی کھولتے پانی جیسے درجہ حرارت کا سامنا کرے گی۔

بین الاقوامی تھنک ٹینک جرمن واچ کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی قدرتی آفات سے سب سے زیادہ دنیا کے ترقی پذیر اور غریب ممالک ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے شریک مصنف ڈیوڈ کہتے ہیں کہ غریب ممالک کو خوفناک صورتحال کا سامنا ہے ، انہیں بار بار موسموں کی شدت کے انتہائی واقعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ایک اور شریک مصنفہ ویرا کہتی ہیں کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کی صورتحال انتہائی دگر گوں ہے ، انہیں تباہ کن آفات کا سامنا بھی زیادہ کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ان میں ایسے حالات کا مقابلہ کرنے کی اہلیت پہلے ہی بہت کم ہے ۔ اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتیں ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کی مثال لی جائے تو اسے ایسی کسی آفت کے اثرات سے نکلنے کی مہلت ہی نہیں ملتی ، وہ ایک آفت سے نکلتے ہیں تو دوسری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے لیکن ہم من حیث القوم آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ابھی تک ہمارے بنیادی ایجنڈے کا حصہ بن ہی نہیں سکاہے۔ ہم سانحہ گزرنے کے بعد دوسرے سانحے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری اشرافیہ بھی شاید کسی ایسے سانحے کے انتظار میں ہے جس کا شکار وہ خود ہوں۔ وقت تیزی سے نکل رہا ہے ، عالمی رپورٹیں ہمیں مستقبل کی تصویر دکھا رہی ہیں لیکن ہم من حیث القوم ”میں نہ مانوں“ کی کیفیت کا شکار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply