سچی جمہوریت اور تبدیلی کا خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے دور میں جمہوریت روبہ زوال ہے۔ جمہوریت کی عالمی درجہ بندی میں کوالٹی کے اعتبار سے انڈیکس کا رخ نیچے کی طرف ہے۔ حالیہ چند برسوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے امریکہ جیسا ملک ”خراب جمہوریت“ کی فہرست میں شامل ہے۔ امریکہ کو اس فہرست میں رکھنے کا سہرا صدر ٹرمپ کے سر سجتا ہے۔ ایک اچھی جمہوریت سے خراب جمہوریت تک کا یہ سفر صدر ٹرمپ نے ایک ہی جست میں مکمل کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے باب میں پاکستان کو بدستور ہائی برڈ ممالک کی درجہ بندی میں شامل کیا گیا۔

اگرچہ دنیا کے ایک سو پینسٹھ ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان ایک سو آٹھویں نمبر پر رہا۔ ہائی برڈ درجہ بندی میں ان ممالک کو شمار کیا جاتا ہے، جن کے انتخابی عمل میں اتنی بے قاعدگیاں ہوں کہ ان کو آزاد اور شفاف قرار دینا مشکل ہو۔ انتخابات کے دوران سیاسی مخالفین پر حکومت کا دباؤ عام ہو۔ سیاسی کلچر کمزور ہو۔ سیاسی شراکت داری موجود نہ ہو۔ اور حکومت کے اقدامات میں واضح کمزوریاں پائی جاتی ہوں۔ قانون کی حکمرانی کمزور اور کرپشن عام ہو۔ سول سوسائٹی کمزور اور بے اثر ہو۔ میڈیا کو ہراسانی اور دباؤ کا سامنا ہو۔ اور عام طور پر عدلیہ کو آزاد نہ ہو۔

”خراب جمہوریت“ اور ”ہائی برڈ“ جمہوریت کے یہ انڈیکیٹرز کوئی نیک شگون نہیں ہیں۔ جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جس کے لیے بنی نوع انسان نے مشترکہ طور پر بیش بہا قربانیوں دی ہیں۔ اس نظام کی خاطر ہزاروں لاکھوں لوگ قتل کر دیے گئے۔ ہزاروں پس دیوار زنداں رہے، اور اسیری میں جان ہار گئے۔ ہزار خرابیوں کے باوجود فی الوقت دنیا میں جمہوریت کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود مطلق العنان قوتوں کی طرف سے جمہوریت پر حملے جاری ہیں۔ گزشتہ دنوں ”زوم ریڈنگ روم“ میں مطلق العنانیت کی ابتدا پر ایک کتاب ہمارے زیر بحث رہی ہے، جو اس موضوع پر ایک مستند دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

”اوریجنس آف ٹوٹیلی ٹیرین ازم“ یعنی مطلق العنانیت کی ابتدا ایک نان فکشن کتاب ہے۔ یہ کتاب سال انیس سو اکیاون میں لکھی گئی تھی۔ یہ کتاب بیسویں صدی کے پہلے نصف کی اہم آمریت پسند تحریکوں کی کھوج لگاتی ہے، ان تحریکوں کا ایسا تجزیہ پیش کرتی ہے، جس سے آج کے دور میں سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں نازی ازم جیسی تحریکیں نمایاں ہیں۔ کتاب کی مصنف حنّا آرینٹ ہیں۔

یہ خاتون ایک امریکی سیاسی تھیورسٹ تھیں، جو جرمنی میں پیدا ہوئیں۔ فاشزم کے دوران ان کو نازی جرمنی سے فرار ہونا پڑا، مختلف ممالک سے ہوتی ہوئی وہ بالآخر 1941 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں آ کر آباد ہو گئیں۔ ان کی اٹھارہ کتابوں کے اہم موضوعات میں اقتدار، سیاست، سیاسی طاقت و اختیار شامل ہیں۔ ان کے نظریات اور خیالات سے اختلاف کی وسیع گنجائش کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان کا شمار بیسویں صدی کے اہم سیاسی مفکرین میں ہوتا ہے۔ اس کتاب کو سیاسی موضوعات پر بیسویں صدی کی اہم ترین غیر افسانوی کتابوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

اس میں حنّا نے اس صورت حال کے بارے میں لکھا ہے، جس کی وجہ سے انیسویں صدی کے پہلے نصف میں پورے یورپ میں مطلق العنانیت کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ 1880 کی دہائی سے لے کر پہلی جنگ عظیم تک رونما ہونے والے واقعات، نیو سامراج کا ابھار، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے واقعات کا جائزہ بھی لیتی ہیں۔ وہ ان حالات کا تفصیلی تذکرہ کرتی ہے، جن میں نسل پرستی کو سامراج کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ وہ نسل پرستی، سامراجیت، اور استبدادیت کا مختلف پہلووں کا گہرا تجزیہ کرتی ہیں۔

مصنف کی اس تخلیق کا مرکزی نقطہ دنیا کی سیاست میں مطلق العنانیت کی ابتدا کی تاریخ کی وضاحت کرنا اور اسے سمجھنا ہے۔ اس باب میں جن عوامل پر غور کیا گیا ہے، ان میں جدید ٹیکنالوجی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ترقی، بڑی تعداد میں لوگوں کا جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہونا، اور کثیر القومی ایمپائرز کا عروج شامل ہیں۔ یورپ کے اس وقت کے حالات میں بہت سارے عوامل جو پہلے ہی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھے، وہ سب مل جل کر ایسی خوفناک شکل اختیار کر گئے جس کی اس سے پہلے توقع بھی کرنا مشکل تھا۔

1930 کی دہائی تک پورے یورپ میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد سامنے آئی تھی، جو اپنے آپ کو اپنے معاشروں سے مکمل طور پر منقطع اور کٹے ہوئے محسوس کرتے تھے۔ پارلیمانی اور کثیر الجماعتی جیسے سیاسی و جمہوری نظاموں کو عام طور پر بدعنوان تصور کیا جانے لگا تھا۔ ان حالات میں ”ہجوم کی ذہنیت“ کی نشوونما ہوئی۔ اس سے سماج کے اندر ایک ایسا خالی پن اور وسیع خلا پیدا ہوا، جس کو کسی قسم کا خود ساختہ نجات دہندہ ہی بھر سکتا تھا۔ جب معاشرے میں ناراضگی بڑھتی ہے تو وہ کچھ مطلق العنان قوتیں پروپیگنڈا کے ذریعے عوامی رائے کو اپنے ایجنڈے کے لیے ہموار کرتی ہیں۔ ان حالات میں حقیقت اور افسانے کے مابین لائن دھندلا جاتی ہے۔

اس طرح عوام حکومت پر بھروسا نہیں رہتا۔ عوام کا حکمران طبقات سے بھروسا اٹھ جائے تو شک کی فضا جنم لیتی ہے۔ یورپ کی سیاست میں استبدادیت کو شک کی اسی فضا کی وجہ سے تقویت ملی تھی۔ وہ شک جو اس نظام کے جواز اور شفافیت کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوا تھا۔ ایسے ووٹرز جنہیں اب روایتی پارٹیوں سے بھروسا اٹھ گیا تھا، وہ ان نئے رہنماؤں کا چارہ بن گئے، جنھوں نے نئی اور مختلف چیزوں پر مبنی زندگی کے وعدے کیے تھے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ ”نئے اور مختلف“ کی تفصیلات اور سیاق و سباق پر پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ اس سے بے لگام طاقت کا دروازہ کھل گیا۔ یہ وہ دروازہ ہے، جس سے مطلق العنانیت سماج میں داخل ہوتی ہے، اور جس پر مطلق العنانیت پنپتی ہے۔

اس کتاب میں مصنفہ رجائیت پسندی سے ایک ایسی حکومت کی امید کرتی ہیں جو انسانی وقار کا خیال رکھنے کی گارنٹی دے سکے، اور عوام کی عزت نفس کو تحفظ دے۔ جو انسانیت کے حوالے سے سوچ سکے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ دنیا پر یہ سب بیت جانے کے بعد بھی نئی شروعات ممکن ہیں۔ تاریخ کے ہر موڑ پر ایک نئی شروعات ہوتی ہے۔ تلخ واقعات کے اختتام پر ایک نیا آغاز بھی ہوتا ہے۔ یہ آغاز ایک وعدہ ہوتا ہے، ایک نئی امید ہوتی ہے۔ نئے سرے سے آغاز کرنا انسان کی اعلی ترین سیاسی صلاحیت ہے۔ ہر تاریخی واقعے کا انجام ایک نئے آغاز سے ہوتا ہے۔

یہ کتاب شائع ہونے کے کئی عشروں بعد حالیہ چند برسوں کے دوران دنیا کے کئی ممالک اور بالخصوص امریکہ میں پائی جانے والی صورت حال کے پیش نظر کئی دانشوروں نے اس کو آج بھی متعلقہ اور مفید قرار دیا۔ کتاب میں جو حالات بیان کیے گئے اگر ان کا آج کے حالات سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو بہت مماثلت نظر آئے گی۔ عوام کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد اور بھروسا کمزور پڑھ رہا ہے۔ دنیا کی کئی جمہوریتوں میں عوام نے نئے نظام اور تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا، مگر جواب میں ان کے ساتھ صرف دھوکہ ہوا۔

ان کی زندگیوں میں کوئی قابل ذکر یا دکھائی دی جانے والی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے شک اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو رہی ہے، جو نیک شگون نہیں ہے۔ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ ان حالات میں عوام کو نئی سیاسی قوتوں کی ضرورت ہے، جن کا نصب العین روایتی سیاست کے بجائے سچی عوامی جمہوریت اور مساوات پر مبنی غیر طبقاتی نظام کا قیام ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply