ووٹوں کی خریدوفروخت کیوں ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، ووٹوں کی خریدوفروخت کی بحثیں بھی زور پکڑتی جا رہی ہیں، گزشتہ روز ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں کچھ سابق اور موجودہ اراکین خیبر پختونخوا اسمبلی مبینہ طور پر پیسے وصول کرتے پائے گئے۔ اس ویڈیو میں سابق اور موجودہ اراکین کے سامنے نئے نوٹوں کے انبار لگے پڑے ہیں۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر قانون مستعفی ہوچکے ہیں۔ ایک اہم پہلو اس ویڈیو کے حوالے سے یہ ہے کہ ایک رکن کی جانب سے کہا گیا کہ انھیں یہ پیسے خیبر پختونخوا اسمبلی میں دیے گئے ہیں۔

اس ویڈیو کے ساتھ ہی سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت کی بحث میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ یہاں ہمارے پیش نظر دو سوال ہیں، ایک سوال یہ ہے کہ آخر منتخب نمائندے اپنے ووٹ کو کیوں بیچتے ہیں اور ان کے ووٹ کو خریدنے والے کون ہوتے ہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ منتخب نمائندوں کی وفاداریاں پیسے کی بنیاد پر خریدنے کا کلچر کس نے متعارف کروایا اور کیوں؟ یہاں ہم ان دو سوالوں کی کھوج لگا کر جواب کی طرف نہیں جائیں گے، ہم ان دو سوالات کی جڑوں کی تلاش کی کھوج لگانے کی کوشش کر کے، یہ جاننے کی مقدور بھر مساعی کرتے ہیں کہ آخر ووٹ فروخت کیوں کیے جاتے ہیں اور اس کی راہ کیسے نکلی، یوں اگر درست کھوج لگائی جاتی ہے تو ہم اس برائی کو جڑ سے اکھیڑنے کی طرف بڑھ سکیں گے۔

ورنہ ہر الیکشن میں اسی طرح کا کھیل جاری رہے گا۔ پیسے سے وفاداریاں تبدیل ہوتی رہیں گی اور سیاسی و جمہوری کلچر داغدار ہوتا رہے گا۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے سیاسی نظام میں خلا کہاں ہیں، جس کی وجہ سے نہ تو سیاسی کلچر تقویت پاتا دکھائی دیتا ہے اور نہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ ایک چیز ہوتی ہے Grassroots یعنی کہ نچلی سطح یا اصل بنیاد۔ وہ اصل بنیاد جو مستحکم سیاسی کلچر کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس وقت کہیں موجود ہی نہیں۔

اگر کسی پودے کی جڑیں اپنی زمین میں گہری نہیں ہیں تو وہ زیادہ دیر زمین سے رشتہ قائم نہیں رکھ پائے گا۔ یہ جو بڑے بڑے اور فلک سے باتیں کرتے ہوئے پیڑ ہوتے ہیں، یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں، اس لیے بلندی سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اپنے قد کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ اگر پاؤں کا رشتہ زمین سے کمزور ہے تو بلندی کا تصور بھی ہر صورت معدوم رہے گا۔ اگر میں یہ کہوں کہ ہماری پارلیمنٹ اپنے پاؤں پر نہیں کھڑی تو کہیں مجھ پر توہین کا فتویٰ تو نہیں لگ جائے گا؟

پارلیمنٹ ایک عمارت کا نام نہیں، ایک ادارے کا نام ہے، عمارت کو ادارے میں تبدیل وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس عمارت کو ادارے میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس عمارت کے اندر ہمیں تماشے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس عمارت کے اندر اپنے کولیگز کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں، کردارکشی کی جاتی ہے اور ایسی ایسی فحش باتیں کی جاتی ہیں، جس کی گنجائش قطعی نہیں اور کہیں بھی نہیں۔ ایسا کیوں؟ ایسا اس لیے کہ اس عمارت میں متعلقہ لوگوں کی موجودگی کی کمی ہے۔

اگر انتخابات میں ٹکٹ کی تقسیم پیسے اور مرتبے کی بنیاد پر ہوگی تو سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ تو چلے گا۔ سیاسی جماعتیں جب اپنے دیرینہ کارکنان کو چھوڑ کر پیسہ کو اہلیت کا معیار بنا کر نمائندگان کا انتخاب کریں گی تو وہی نمائندگان اپنی وفاداریاں بھی تبدیل کریں گے۔ جب بھی عام انتخابات آتے ہیں تو بہت سارے نمائندگان اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے دکھائی دیتے ہیں، ایسے نمائندگان میں بعض کو الیکٹ ایبلز کا نام دیا جاتا ہے۔

یہ الیکٹ ایبلز بنیادی طور پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے ہوتے ہیں، سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو نہ تو خود ندامت ہوتی ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی سطح پر ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ بلکہ سیاسی جماعتیں ایسے لوگوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہیں اور پورے اعزاز اور منت ترلے کے ساتھ ٹکٹ دیتی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کا کلچر یہی ہے، حتیٰ کہ سیاست میں پیسے کی مداخلت کا واویلا کرنے والی حکمران جماعت پی ٹی آئی نے دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں ”وفاداریاں“ تبدیل کرنے والوں پر انحصار کیا اور پارلیمنٹ میں پہنچی۔

جب تک سیاسی پارٹیاں ایسے نمائندگان کے بل بوتے پر پارلیمنٹ میں پہنچیں گی تو پارلیمنٹ کا تصور ادھورا رہے گا۔ حالیہ تاریخ میں سینیٹ میں بعض سینیٹرز نے اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کر کے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنایا تھا۔ اس موقع پر اس وقت کی وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ وہ اپنے اعمال کا احاطہ کرے اور نیا پاکستان بنانے میں عمران خان کا ساتھ دے۔

یعنی چودہ ارکان جنھوں نے وفاداریاں تبدیل کیں، ان کا فعل درست تھا۔ دوسری طرف مریم نواز نے ٹویٹ کیا تھا کہ ”چودہ ارکان نے دھوکا دے کر ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ ان کے نام شناخت کر کے سب کے سامنے لائے جائیں“ جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا اور سیاسی جماعتیں وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی کھوج لگا رہی تھی، تو میں نے اپنے بعض دوستوں سے کہا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ کن لوگوں نے وفاداریاں تبدیل کی ہیں؟ مجھے ہی کیا سیاست کا ہر طالب علم یہ جانتا ہے کہ کون لوگ وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں؟

لیکن کیا سیاسی جماعتوں نے مذکورہ واقعہ سے کوئی سبق سیکھا؟ جب تک سیاسی جماعتیں نچلی سطح پر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس نہیں دلاتیں اور عوام کے اندر سے سیاسی و جمہوری کلچر سے محبت کرنے والوں پر اعتماد نہیں کرتیں اس وقت تک ان کی پیٹھ میں چھرے گھونپے جاتے رہیں گے۔ درحقیقت ان چھروں کا وہ خود بندوبست کرتی ہیں، اس لیے جب سیاسی جماعتوں پر کڑا وقت آتا ہے تو نمائندگان ان کے پیٹھ میں چھرے گھونپتے ہیں اور عوام کی طرف سے ہمدردیاں بھی ان کو میسر نہیں آتیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے بنیادی ڈھانچوں میں تبدیلی لانا ہوگی، اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ہر الیکشن کے موقع پر پیسے کا کھیل جاری رہے گا، خریدنے والے خریدتے رہیں گے اور بکنے والے بکتے رہیں گے۔ سامنے پڑے نئے نوٹوں کے انبار، وفاداریوں پر بھاری پڑیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply