اپوزیشن کے لئے سرپرائز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گورنر ہاؤس کے سبزہ زار میں دھوپ بکھری پڑی تھی۔ سامنے دو درخت بہار کے انتظار میں ٹنڈ منڈ شاخوں میں الجھے کھڑے تھے, کوے شور مچا رہے تھے, ہم یہاں گپ شپ کے لئے مدعو تھے, حرارت بدن کو بھلی لگ رہی تھی۔ ایسے میں بات کرنے کی بجائے خاموش رہنا اس درویش کو پسند آتا ہے۔ یہاں بیٹھے دانشوروں کو نام نہ لینے کے وعدے پر حکومتی شخصیت بتا رہی تھی کہ سندھ اور بیرون ملک مقیم ہم خیال کاروباری افراد سے فنڈز لئے جا رہے ہیں۔ ایک سیاستدان ڈھیر سارے روپے جمع کر کے سینٹ میں اپنے حصے سے زیادہ نشستیں خریدنے کی کوشش میں ہیں۔ منگل کے روز ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ،کچھ پرانی ہے مگر یہ تو چند منتخب نمائندوں کا روپے کے ڈھیروں کے عوض اپنا ضمیر فروخت کرنے کا معاملہ ہے، ایسے واقعات کی فہرست چھانگا مانگا اور مری سے بھی پہلے شروع کی جا سکتی ہے, جہاں مرغوں, بکروں اور انواع و اقسام کے مشروبات سے بات تفریح طبع کی رنگین الف لیلیٰ تک پھیلی رہی۔ امریکی ،برطانوی اور یورپی حکام حیران ہوتے ہیں کہ پاکستان کا ہر چوتھا شخص سیاستدان ہے یا سیاستدان بننا چاہتا ہے۔ کیوں؟

اس لئے کہ ہمارے ہاں سیاست خدمت نہیں کاروبار ہے۔ یقین نہ آئے تو صف اول کے رہنماؤں اور پارٹی سربراہوں کے ٹیکس گوشوارے دیکھ لیں۔ بہت سے لوگوں نے اپنا پیشہ “سیاست” لکھا ہے۔ اسد اللہ غالب اپنے آباء کے پیشہ سپاہ گری پر فخر کیا کرتے تھے، اب زمانہ بدل گیا۔ دولت والوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ پیسہ کہاں سے آیا۔ اچانک گول گپے والا اپنی دس نسلوں کی کمائی ایک مشکوک سے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا ہے ،اس اکاؤنٹ سے رقم دوسرے، تیسرے ،چوتھے اکاؤنٹ میں جاتی ہے، اس کی خوب دھلائی ہوتی ہے اور آخر میں بڑے بڑے سیاستدانوں اور پارٹی مالکان کے حساب میں جمع ہو جاتی ہے۔ ہم زمین سے جڑے لوگ ہیں ،دیکھ سکتے ہیں کہ یونین کونسل، صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں ہمارے علاقے سے کون لوگ حصہ لیتے ہیں ،ان لوگوں کی شہرت شرافت ہے یا بدمعاشی کی؟

یہ قبضہ گیر ہیں, جرائم پیشہ افراد کے جھرمٹ میں رہتے ہیں یا شریف اور معزز ووٹروں کی مشکلات دور کرنے میں مصروف۔ ہم ان کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں کیا دل پر ہاتھ رکھ کر اسے جائز اور درست کہہ سکتے ہیں؟ ہمارے ایک دوست نے صحافتی کیریئر کے آغاز پر بھاشن دیا کہ اس شعبے میں ترقی کے کوئی لگے بندھے معیار نہیں ہوتے۔ یہاں دوسروں پر پاؤں رکھ کر اگلی سیڑھی چڑھا جاتا ہے۔ ہم اپنی نالائقی کے باعث اس سنہری اصول پر عمل نہ کر سکے تاہم اللہ نے پھر بھی اپنی رحمت کی۔ دولت مندوں میں نا سہی اچھی ساکھ والوں میں ضرور یاد کیا جاتا ہے۔ یادش بخیر جنرل پرویز مشرف کے ابتدائی زمانے میں رانا ثناء اللہ نے پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہو کر حمود الرحمن کمشن کی رپورٹ کو مدنظر رکھ کر حساس ادارے پر تنقید کی۔ ایک ریٹائرڈ صاحب نے انہیں جواب دیا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ ایک جرنیل کیسے بنتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کہاں چپ بیٹھتے۔ حمود الرحمن کمشن کی رپورٹ میں ایک افسر کے گورنر ہاؤس میں داخلے اور نکلنے کا وقت کچھ ناشائستہ تفصیلات کے ساتھ کھڑے کھڑے بیان کر دیا اور کہا کہ جرنیل ایسے بنتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔
وہ زمانہ جمہوریت کی محبت کا تھا۔ گالم گلوچ مقبول ہو رہی تھی, سیاسی لوگوں نے رانا ثناء اللہ کو داد دی۔ زمانہ بدل رہا ہے۔ اختیارات کی مرکزیت ختم ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ نون ہو، پیپلز پارٹی ہو ،جمعیت علماء اسلام ہو، اے این پی ہو ،ایم کیو ایم ہو یا بلوچستان کی چھوٹی بڑی جماعتیں ہوں۔ سب کی عوامی حمایت کم ہوئی ہے۔ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل رہی ہے۔ اب بھی یہ حمایت موجود ہے، اس میں شک نہیں۔ لیکن اس حقیقت کو تو عمران خان کی دشمنی میں آخری حد تک جانے والے ان کے ایک بہنوئی بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ عمران خان کے جلسے میں جنرل پاشا نے لوگ نہیں بھیجے اور عمران خان موجودہ سیاستدانوں کی پوری کھیپ میں سب سے زیادہ بلکہ خطرناک حد تک دلیر آدمی ہیں۔ ان کی بے خوفی انہیں بچا رہی ہے۔
پی ڈی ایم کہنے کو اتحاد ہے لیکن اصل میں یہ مسلم لیگ نون اور مولانا فضل الرحمن کے مفادات کا یرغمال پلیٹ فارم ہے۔ اپوزیشن کی ایک تعریف موقع کی منتظر حکومت ہے۔ دوسری تعریف ایسی سیاسی قوت جس کو حکومت چلانے کی اہل نہ سمجھ کر ووٹروں نے مسترد کر دیا ہو۔ ووٹر ناراض اور ناخوش ہو تو یہاں عجیب چلن ہے۔ بات چھانگا مانگا اور مری کے بدنما دھبوں سے شروع ہوئی، معلوم ہوا کہ سیاستدان کیسے بنتے ہیں۔ پھر یہ سلسلہ چل سو چل۔ اصول گرم لوہے پر چلتا ہے ،نازو نعم میں پلے لیڈر اس لئے اصول پر نہیں چل پاتے۔ مفاد کا بیج بوتے ہیں اور پھر اسے ہر قیمت پر کاشت کرتے چلے جاتے ہیں چاہے زمینیں زہر آلود ہو جائیں۔
سندھ میں مالداروں کا کنسورشیم بننے کی اطلاعات پنجاب کی بڑی اپوزیشن جماعت تک پہنچ چکی ہیں۔ دروغ بر گردن راوی کہ اپوزیشن نے قبضہ گروپوں اور مفاداتی مافیاز سے مالی تعاون طلب کر لیا ہے، ان گروپوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے کہ اگر انتخابات میں ووٹ خرید کر اپوزیشن نے سینٹ میں اکثریت حاصل کر لی تو تمام قانونی کارروائیاں اور آپریشن رکوا دیے جائیں گے۔ با اثر شخصیات ،حکومتی اراکین، پولیس افسروں اور میڈیا کے بعض لوگوں کو ہمنوا بنانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے خلاف اصولوں پر مبنی صف بندی کرنے کی بجائے اپوزیشن نے سندھ اور پنجاب میں غلط مورچے بنا لیے ہیں۔ ان سے تحریک انصاف کو کرپشن کے خلاف اپنا موقف مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔ رہی سینٹ انتخابات کی بات تو اپوزیشن کو ایک بڑے سرپرائز کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply