بدنیتی کے منجن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک میں کوئی بھی پروجیکٹ جس نیت سے بھی شروع کیا جاتا ہے وہ نیت چند برس کے بعد ہمیشہ بدنیتی پر تمام ہوتی ہے اور پراجیکٹ ناکام یا بدنیتی چند سالوں بعد کھل کر سامنے اتی ہے جس میں پراجیکٹ محض جھانسا ہے۔ نتیجہ ناکامی ناکامی۔ جو کہہ لیں۔ ہوتا یہی ہے۔

ان پروجیکٹ کو شروع کرنے والے گروپس عموماً وہی مفاد پرست ہوتے ہیں جن کے ناقص طریقہ کار سے، دھوکے بازی سے قوم پہلے ہی کسی نہ کسی طور باخبر ہوچکے ہیں یا بھگت چکے ہیں اور دل برداشتہ کسی اور مصرف میں دھیان بٹاتے ہیں۔ لیکن عوام بیوقوف بننا نہیں چھوڑتے اور مفاد پرست دھوکہ دینا۔

قصہ یہیں تمام نہیں ہوتا پھر چند سالوں بعد وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی پراجیکٹس اسی نیت کے ساتھ مختلف نام سے، نئے پرانے مفاد پرستوں کو ملا جلا کر شروع کیا جاتا ہے۔ جس میں بدنیتی وقتی مدفون ہوتی ہے جو جلد بادیر عوام کو زومبی کی صورت گھیرنی والی ہوتی ہے۔ (زومبی یعنی انسان نہ مرے نہ زندوں میں۔)

پژمردہ سوچ پہلے ہی ذہنوں سے چمٹی ہے اگر مر گئے تو کل دوسرا دن۔ زندہ رہے تو کل کس نے دیکھی ہے۔ سو ان پراجیکٹس کی بھی ناکامی و طوالت پر کلی ردعمل قوم کا یہی رہ گیا ہے۔ پژمردگی پژمردگی۔

قوم سے اک سوال ہے کہ سن ستر سے اب تک، آپ کو حکومتی سطح کے کس پراجیکٹ کس پلان میں کون سی سو فیصدی کامیابی حاصل ہوئی ہے؟ جو ملکی سطح پر منفعت بخش بھی ہو بتائیں۔

( قوم کی کامیابی پوچھ رہی ہوں۔ اگلی پچھلی حکومتوں کی کامیابی نہیں پوچھ رہی جو اسی عرصے میں اقتدار حاصل کرنے یا اجارہ داری قائم کرنے میں سو فیصد کامیاب رہیں۔ ) ۔

پی ایس ایل جو دم توڑتی کرکٹ کو نیا ٹیلنٹ اور پھر اسی سے نکلنے والے قومی کرکٹ ٹیم کے لئے پرعزم، پرجوش، قومی سوچ رکھنے والے نئے کھلاڑی دینے والا تھا۔ محض کھاتہ گیری کے لئے رہ گیا اب نہ ٹیلنٹ نکلتا نظر آ رہا ہے نہ کھیل میں دلچسپی قائم ہے تو اس پی ایس ایل کا مجموعی مصرف اب کیا ہے؟

تھیم سانگ دینا؟

بہتر ہے قوم پی ایس ایل۔ کے ردعمل میں اپنی توانائیاں بجائے تمسخر بازی پہ خرچ کرے یہی توانائیاں کسی مثبت مصرف میں بروئے کار لائیں جیسے اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے والے ادارے و افراد اور ہنرمندوں کو سپورٹ کریں۔ اب تو بہت سا کام آن لائن ہے یہیں روزگار کے مواقع دیں اور ادائی یقینی بنائیں۔

بھرے ہوئے منافع خوروں کے پیٹوں کو بھرنا بند کردیں۔ بدنیتی کے منجن بننے و بکنے بند ہو سکیں۔

ملکی سطح پر کام کرنے والے اداروں کو نہ ملکی تشخص و بدنامی کا خیال ہے نہ یہ ملک کی خیر خواہی ہے۔ ان کی ناقص حکمت عملی اور بدنیتی کھلنے کے لئے یہ عوامی رویے بھی بہت مثبت ثابت ہوں گے تا کہ جو منجن عوام کی ڈیمانڈ کہہ کر ان پر تھوبے جاتے ہیں جو محض کھاتہ گیری ہیں ان سے عوام کو نجات مل سکے۔ یہ منجن بکنے تو بند ہو سکیں۔ اور اگر منجن بننے بند نہ بھی ہوئے پھر بھی لوگ من الحیث القوم بہت بہتر و مستحکم حالت اور سمت میں ایک دوسرے کو سپورٹ کر رہے ہوں گے ۔ اس میں ضروری نہیں کہ صرف مالی سپورٹ ہو اخلاقی سپورٹ بھی ہے جو ہمت مرداں مدد خدا کا کام کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply