مادیت پرستی اور پاکستانی شادیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر چند تصویریں نظر آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ وائرل ہو گئی۔ وہ تصویریں ایک مہم کا حصہ تھی جو جہیز کے خلاف تھی۔ ان تصویروں میں ایک دلہن مہنگا ترین شرارہ زیب تن کر جہیز اٹھائے نظر آئی اور دلہن محترمہ کا شوہر ٹھاٹ اور بے باکی کے انداز میں کھڑا نظرآیا۔ اس تصویری مہم کا مقصد جہیز کے خلاف مہم تھی جو بہرحال ایک اچھی مہم تھی مگر یہ فکر ادھوری یعنی نامکمل تھی۔ ان تصویرو ں میں حقیقت کا صرف ایک رخ دکھایا گیامگر دوسرا رخ چھپا لیا گیا۔

آج کل کے مہنگائی کے دور میں جہیز واقعی ایک بوجھ کی شکل اختیار کر گیا ہے جو بیٹی کے والدین یا بھائی پر پڑتا ہے اورمعاشرے کے دباؤ یا ایک ریت کی وجہ سے یہ بوجھ لڑکی کے گھر والوں کواٹھانا پڑتا ہے۔ مگر لڑکی کے والدین کے لئے جس طرح جہیز ہے اسی طرح لڑکے یعنی دولہا کی فیملی پر بھی بہت قسم کے بوجھ شامل ہیں۔ جیسے بری میں رکھنے کے لئے دلہن کے درجنوں ڈریسز، پھر شادی ولیمہ کا برائیڈ ل ڈریس، پھر طرح طرح کے نیک جو دلہن کے بھائیوں، بہنوں اور کزنز کو دینے ہوتے ہیں، پھر سونے کا زیورات اور نہ جانے کتنے قسم کے مزید خرچے ہیں جو دولہا یا دولہا کے خاندان کو اٹھانے پڑتے ہیں۔

میرے حلقہ احباب میں تو کم سے کم ایسا کوئی لڑکا نہیں ہے جس نے جہیزکی ڈیمانڈ کی ہو بلکہ بہت سوں نے منع بھی کیا اور اس کے باوجود جہیز دیا گیا۔ کیونکہ یہ لڑکی والوں کی بھی خواہش ہوتی ہے یہ خواہش مجبوری بھی ہے اور محبت بھی۔ لیکن اس معاشرے میں مادیت پرستی میں اٹے لڑکے اور خاندان موجود ہیں جو ڈیمانڈز کرتے ہیں اور اس طرح کی لڑکیاں اور ان کے خاندان موجود ہے جن کی بھی بہت سی شرائط ہوتی ہے مثلاً لڑکے کی نوکری پکی ہو یا سرکاری ہو، لڑکے کا اپنا گھر ہو، لڑکے پاس گاڑی ہو، لڑکا جوائنٹ فیملی میں نہ رہتا ہو اور اسی طرح کی کئی شرائط ہوتی ہیں جس کو دیکھ کر لڑکی کا رشتہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اب کوئی نہیں دیکھتا کہ لڑکا شریف ہے؟ حلال کماتا ہے؟ محنت مزدوری کرتا ہے؟ بڑوں کی عزت کرتا ہے؟ مگر دنیاوی چیزوں کی محبت میں گرفتار لوگ یہ اخلاقی معیار بھول جاتے ہیں اور پھر مستقبل میں یہ ہی مادیت پرستی کے سائے میں جڑے رشتے پریشانی کا شکا ر رہتے ہیں۔

لڑکے والوں کی جہیز اور طرح ک طرح کی ڈیماند کا ہونا غلط ہے مگر لڑکی والوں اور لڑکی کی خود کی درجنوں ڈیمانڈز ہوتی ہے جس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ معاشرے کی تباہی میں دونوں جانب سے حصہ ڈالا گیا ہے مگر ایک طرف کو نشانہ بناناسچائی سے منہ چھپانے کی مترادف ہے۔ دونوں جانب سے دنیاوی چیزوں کی فرمائش حقیقی خوشیوں کو بہت آرٹیفیشل سا بنادیتی ہے اورجب مادیت پسندی ہر رشتے پر حاوی ہو جائے تو پھر حقیقی خوشیاں کیسے حاصل ہو سکتی ہے بھلا؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لڑکی والوں کے اگر خرچے ہیں تو لڑکوں والوں کے بھی الگ خرچے ہیں۔ جہیز لینا یا جہیز مانگنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ جہیز کی ڈیمانڈ کرنا اور اپنی مرضی کا جہیز مانگنا یہ انتہائی نامناسب اور غیر اخلاقی سلسلہ ہے جو ہر طرح سے قابل مذمت ہے۔ لیکن دوسری جانب یہ معاشرتی طورپررائج ہو چکا ہے اگر اس کو ختم کرنا ہے تو معاشرے کے ہر طبقے کو بالخصوص دولہا دلہن کے خاندان کو یہ بڑا فیصلہ لینا ہوگا اور معاشرے کو خاطر میں نہیں لانا ہوگا۔ کیونکہ اگر کسی گھر میں آج لڑکے کی شادی ہے تو کل اسی گھر میں کسی لڑکی کی شادی ہوگی تو آج اگر یہ عمل ان کے گھر سے شروع ہوگا تو کل یہ خود بہ خود کسی دوسرے گھر میں منتقل ہوگا اور آہستہ آہستہ معاشرے میں مثبت رواج پروان چڑھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply