سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے متعلق کیسز کی سماعت سے روک دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم ترقیاتی فنڈز کیس کے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی وزیراعظم سے متعلق کیسز کی سماعت نہ کریں کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم کے خلاف کیس کررکھا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ غیر جانب داری کا تقاضا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق مقدمات نہ سنیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وزیر اعظم کا جواب کافی مدلل ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کے خلاف ایک مقدمہ بھی کررکھا ہے ،اس لئے ان کا اس کیس کی سماعت کرنا مناسب نہیں ہے۔

عدالت وزیراعظم آفس کے ساتھ محاذ آرائی کرنے کیلئے نہیں بیٹھی ہے سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ترقیاتی کام کرانے کے لئے ترقیاتی فنڈز کی مد میں فی رکن اسمبلی 50 کروڑ روپے کی گرانٹ کے حکومتی اعلان کی روشنی میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے ترقیاتی فنڈز کے اجرا کے صوابدیدی اختیارات کی وضاحت سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم اور چاروں صوبائی حکومتوں کے جوابات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے۔

فیصلے کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سماعت کے دوران واٹس ایپ پر ملنے والی کچھ دستاویزات پیش کی ہیں، تاہم انہیں خود بھی ان کے مصدقہ ہونے کا یقین نہیں ہے،اس لئے اٹارنی جنرل نے استدعا کی ہے کہ انہیں ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے، اٹارنی جنرل نے مزید کہا ہے کہ جس معاملے میں کوئی جج خود شکایت گزار ہو اسے اس کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہئے۔

فیصلے کے مطابق چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا ہے کہ چونکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیر اعظم کے خلاف سپریم کورٹ میں ذاتی حیثیت میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے اس لئے ان کے لئے اس کیس کی سماعت کرنا مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جواب میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت نے اراکین اسمبلی کو کسی قسم کے کوئی ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کئے ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا وزیر اعظم اس حوالے سے ذاتی طور پر جوابدہ تھے؟

وزیر اعظم کو تو ایسے معاملات میں آئین کے آرٹیکل 248کا تحفظ حاصل ہے، انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم عدالت کو اس وقت جوابدہ ہوتا ہے جب معاملہ براہ راست ان کی ذات سے متعلق ہو، انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاملے میں عدالت کے سامنے حکومت جوابدہ ہو تو وزیراعظم سے نہیں پوچھا جا سکتا ہے۔

جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ کل مجھے واٹس ایپ پر کسی نے کچھ دستاویزات بھیجی ہیں کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 65 میں حکومت کے ایک اتحادی رکن اسمبلی کو بھاری بھر کم فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سڑکوں کی تعمیر کے لئے مخصوص حلقوں کو ہی فنڈز جاری کئے جا سکتے ہیں، کیا حلقے میں سڑک کی تعمیر کیلئے فنڈز دینا آئین اور قانون کے عین مطابق ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں، لیکن عوام کے پیسے اور آئین کے محافظ ہیں، امید ہے کہ آپ بھی چاہیں گے کہ بدعنوانی پر مبنی اقدامات نہ ہوں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ کارکردگی دکھانے کے لئے پانچ سال کی مدت کم ہوتی ہے، وزیراعظم کو چاہئے کہ ووٹ میں توسیع کے لئے اسمبلی سے رجوع کریں۔ انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں کہ وزیراعظم کو سیاسی اقدامات پر آئینی تحفظ حاصل ہے یا نہیں؟ لیکن ماضی میں بھی سپریم کورٹ وزرائے اعظم کو طلب کرتی رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply