’نطق‘: آج کے ترکی کی کامیابی کا منشور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترکی پاکستان کے سیاسی، صحافتی، علمی، ادبی اور عوامی حلقوں میں اب ایک مقبول موضوع بن چکا ہے۔ لیکن ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ اس حوالے سے ہمارے ہاں حال میں لکھی جانے والی تحریریں، کالم، مضامین اور سوشل میڈیا پر وی لاگز، سب تحقیق اور معلومات سے کوسوں دور ہیں۔ کسی قوم، ملک اور سماج کو جاننے کے لیے، تحقیق کے لیے عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔ دعوؤں، خواہشات اور تصورات پر کسی سماج، قوم اور تہذیب کو نہیں جانچا جا سکتا۔

ظہور اسلام سے بھی قبل مشرق وسطیٰ میں دو تہذیبیں ہزاروں سال سے اپنا وجود رکھتی ہیں، ایک عربوں کی تہذیب اور دوسری ایرانیوں کی تہذیب۔ جب ہم مشرق وسطیٰ کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وسطی ایشیا کے گڈریے جو ترک النسل تھے، جب مشرق وسطیٰ میں داخل ہوئے تو پہلے وہ عربوں کے غلام، پھر سپاہی اور پھر عرب حکمران اشرافیہ کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ان خطوں میں اپنی چھوٹی چھوٹی ولایتیں (مقامی حکومتیں) بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔

یہ ترک ولایتیں سلجوقی ترکوں کی ولایتیں تھیں۔ اس کے بعد عثمان غازی پہلا سلطان تھا جس نے مختلف ترک قبائل کو جمع کر کے اور دیگر سلجوق ولایتوں کی جگہ ترکوں کی ایک باقاعدہ سلطنت بنانے میں کامیابی حاصل کرلی اور پھر اسی کے نام سے اس سلطنت کا نام عثمانی سلطنت ہوا۔ سلطنت عثمانیہ نے درحقیقت بازنطینی زوال یافتہ تہذیب کے خلا کو پرکیا اور یوں بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور سلطنت کا ظہور ہوا جس کی سرحدیں، مشرق وسطیٰ سے بڑھتی ہوئی، وسطی ایشیا، اناطولیہ کی وادیوں، کاکیشیا کے پہاڑوں، یورپ اور افریقہ تک پھیل گئیں۔

ہمارے ہاں آج اس تہذیب (عثمانی ترکوں کی تہذیب) کے حوالے سے طلسماتی اور ڈرامائی کہانیاں اور داستانیں سیاسی ادب سے لے کر خالص ادبی صنف میں بھی عام ہیں۔ اس حوالے سے بھی جذباتی اور سطحی معلومات یا تصوراتی خیالوں پر بیانات عام ہے۔ ہمارے ہاں اکثریت نے عثمانی سلطنت کے زوال کے اسباب جاننا پسند نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ تحقیق کی خاطر عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔ اس عظیم الشان سلطنت کا زوال دنیا کی تہذیبوں کے زوال کا اہم ترین موضوع ہے۔

سلطنت عثمانیہ کا کل زمانہ تقریباً پانچ سو سال پر محیط ہے۔ مگر ان پانچ سو سالوں میں زوال کا زمانہ ڈیڑھ سو سال سے کہیں زیادہ ہے کہ جب یہ تین براعظموں کے اندر پھیلی عظیم الشان سلطنت، چھوٹے چھوٹے رقبوں پر موجود یورپی ممالک کے سامنے زیر ہونے لگی۔ اور ایک وقت ایسا آیا کہ بچی کھچی عثمانی سلطنت کو ”یورپ کا مرد بیمار“ کہا جانے لگا۔ عثمانی سلطنت کے اس زوال میں وہاں ڈیڑھ سو سال متعدد سیاسی تحریکوں نے جنم لیا جس کے بعد میں اس کی جنگ آزادی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

ترکی کی جنگ آزادی آج کی تاریخ کی ایک انوکھی جدوجہد ہے کہ جب برطانیہ، فرانس، اٹلی جیسی ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں نے ایک وسیع اتحاد بنا کر بچے کھچے ترکی پر حملہ کر دیا۔ ترکی کے مختلف علاقے، روس، برطانیہ، فرانس، اٹلی، یونان کے قبضے میں چلے گئے، حتیٰ کہ استنبول بھی اور دولما باہچے محل میں بیٹھا عثمانی سلطان برطانوی افواج کے سالاروں کے احکامات ماننے لگا۔ ایسے میں ترک دیہات میں جنم لینے والی آزادی کی تحریک کو عثمانی افواج ہی کے ایک دھڑے نے جنگ آزادی میں بدل ڈالا، جس کی قیادت مصطفی کمال پاشا، فوزی چقماق، عصمت انونو، کاظم کارابیکر جیسے سپہ سالار کر رہے تھے اور انہوں نے مختلف جنگوں میں برطانیہ، فرانس، اٹلی، یونان، روس اور دیگر یورپی حملہ آوروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔

ترکوں کی تاریخ کا یہ باب درحقیقت ترکوں کی اس آٹھ سو سالہ تاریخ سے کہیں کم درخشاں نہیں کہ جب ترکوں نے سلجوق اور عثمانی صورت میں اس خطے میں اپنی شناخت قائم کی اور ایک قوم کی بنیاد رکھی۔ اسی لیے 1923ء کی جنگ آزادی میں بچے کھچے ڈیڑھ کروڑ ترکوں کو یورپی حملہ آور تین میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کہہ رہے تھے۔ بالکل مسلم سپین کی طرح۔

مذہب بدل لو
یا ملک چھوڑ دو
یا مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ

ترکی کے کسانوں نے عثمانی فوج کے باغی قوم پرست ترک جرنیلوں جس کی قیادت مصطفی کمال پاشا اتاترک کر رہے تھے، کی قیادت کو قبول کیا اور مصطفی کمال پاشا نے اس بیان پر عمل پر تیار ہوئے کہ

”ہمارے پاس دو انتخاب ہیں، بحیرۂ مارمرا میں ڈوب کر مر جائیں یا پھر غیر ملکی حملہ آوروں کو اپنی سرزمین سے نکال باہر پھینکیں۔“

اس طرح ترک کسانوں اور ترک قوم پرست فوجی دھڑوں کے اتحاد نے ترکوں کی جنگ آزادی کا اتحاد کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔ اس ہم عصر تاریخ کا یہ باب پچھلی صدی کے اہم ترین انقلابات میں سے ایک انقلاب ہے۔ یہ کہ ایک مٹتی قوم نے تاریخ کے ہاتھوں زوال کے بطن سے اپنے نئے جنم کا فیصلہ کیا۔ اور یوں 29 اکتوبر 1923ء کو اس جنگ آزادی کے بعد ترک تاریخ میں دوبارہ اپنا وجود قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ترکی ایک سیکولر اور قوم پرست ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا۔

تاریخ کے ساتھ اپنا ناتا جوڑ کر جدید ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کی قیادت غازی مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک نے کی جس نے جنگوں کے میدان میں یورپی حملہ آور افواج کو شکست بھی دی اور اپنے وقت کی کمال سفارت کاری بھی کی اور ترکی میں عوامی اور ثقافتی انقلاب بھی برپا کر دیا اور وہ ترکی جسے عثمانی دور کے آخری برسوں میں ”یورپ کا مردبیمار“ کہا جاتا تھا، اس کا ایک جدید ریاست کے طور پر ظہور ہوا۔ آج کی دنیا کے جدید تقاضوں کے مطابق سائنس، تعلیم اور منطق کی بنیاد پر ایک نئے سماج کا قیام اور یوں ہم دیکھتے ہیں کہ 1923ء سے آج تک ترکی مسلم دنیا کی ایک کامیاب ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ معاشی ترقی، سماجی ترقی، جمہوریت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم حتیٰ کہ ادب کے شعبے میں۔

سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہو گیا؟ کیا یہ ایک معجزہ ہے کہ جدوجہد؟ اور وہ کیا اصول تھے جو اس ریاست نے اپنے آغاز میں طے کیے جس کے سبب ترکی 1923ء کے بعد ہر آنے والے سال میں آگے بڑھا، پیچھے نہیں۔

ان سارے سوالوں کا جواب اس کتاب ”نطق“ میں ہے۔

”نطق“ اس ریاست کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک کی کتاب ہے جو پچھلے 94 سالوں میں ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہو چکی ہے۔ ترکی میں اسے ہر آنے والی نسل اس کا لازمی مطالعہ کرتی ہے۔

ہمارے ہاں ”جس قسم کا ترکی“ ایک موضوع ہے لیکن وہاں اس کتاب کا کہیں دیکھنے سننے پڑھنے کو ذکر نہیں ملا کہ یہ کتاب آج تک ترکی میں کروڑوں کی تعداد میں شائع ہو چکی ہے، ہو رہی ہے اور پڑھی جا رہی ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ ایسا کیوں ہے؟

جواب یہ ہے کہ اس کتاب ”نطق“ میں اس ریاست کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک نے ترکوں کی تاریخ، عروج وزوال کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے اور جنگ آزادی کی تفصیل بھی، اور اس کتاب میں اپنی قوم وریاست کا آئندہ منشور بھی بیان کیا ہے۔

”نطق“ ترکی کے تقریباً ہر بک سٹال پر دستیاب ہوتی ہے۔

”نطق“ اتاترک کی 15 سے 20 جون 1927ء یعنی چھے روز اپنی پارٹی جمہوری خلق پارٹی کی دوسری کانگریس میں کی گئی تقریر ہے جہاں انہوں نے 36 گھنٹے خطاب کیا اور ان نکات پر روشنی ڈالی کہ ترکی 1923ء سے آج 1927ء تک چار سالوں میں کیسے کامیابی کی طرف گامزن ہوا اور جنگ آزادی کے واقعات، حالات، مسائل کیا تھے۔ اس میں انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ ہمیں تاریخ میں رہنا ہے کہ مستقبل بنانا ہے، جیسے وہ ”نطق“ میں ایک جگہ کہتے ہیں:

”جنگوں میں فتح عارضی ہوتی ہے۔ حقیقی فتح علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ترقی یافتہ قوم کے طور پر ہی ممکن ہے۔“

”پین اسلام ازم اور پین توران ازم کی سیاست کی کامیابی اور دنیا میں کہیں اس کے نفاذ کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں۔ نسلی امتیاز کو نظرانداز کر کے عالمی حکومت قائم کرنے کے لالچ کے نتائج کا بھی تاریخ میں ذکر ہے۔ ہمیں جو سیاست شفاف اور قابل عمل دکھائی دیتی ہے، وہ ہے قومی سیاست۔ دنیا کے موجودہ عام حالات اور صدیوں سے دماغوں اور کرداروں میں جاگزیں حقائق کے مدنظر یوٹوپیا کے تصور سے بڑھ کر کوئی خطا نہ ہو گی۔ تاریخ بھی یہی کہتی ہے اور علم، عقل اور منطق بھی یہی بتاتی ہے۔

جب میں قومی سیاست کی بات کرتا ہوں تو اس سے مراد ہے: ’’اپنی قومی حدود میں رہ کر سب سے پہلے تو خود اپنی قوت سے اپنے وجود کی بقا اور ملک وقوم کی حقیقی خوشیوں اور فلاح وبہبود کے لیے کام کرنا۔ قوم کو طویل آزادی کے تعاقب میں ڈال کر خستہ خراب نہ کرنا۔ مہذب دنیا سے مہذب انسانی اور باہمی دوستی کی توقع کرنا۔“

دنیا کے معروف ترین موٹیویشنل سپیکر سائمن سینک نے کہا کہ ”لیڈر کی نگاہ اگلے الیکشن نہیں بلکہ اگلی نسل پر ہوتی ہے۔“ اور یہ بات انہوں نے ترکی کے اس عظیم لیڈر کے حوالے سے کہی۔

”نطق“ کو آج بھی ترکی میں جہاں لاتعداد پبلشر اور یونیورسٹیاں اسے شائع کرنے کا اعزاز حاصل کرتی ہیں، وہیں یہ کتاب حکومت کے ایک اہم ادارے ”اتاترک ثقافتی مرکز“ کے تحت شائع ہوتی ہے۔

اس کتاب کو پاکستان کے معروف ادیب اور استاد جناب پروفیسر ڈاکٹر اے بی اشرف اور ایک ترک استاد پروفیسر جلال صوئیدان نے مل کر ترکی سے اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ ایک معیاری اور شان دار ترجمہ ہے۔ یہ اعزاز پاکستان کے معروف پبلشنگ ادارے جمہوری پبلیکیشنز کو ملا ہے، اس نے پاکستان میں اس کی اردو اشاعت کے حقوق انقرہ میں پاکستان کی جانب سے تعینات سفیر جناب سہیل محمود صاحب، جو آج کل سیکریٹری خارجہ ہیں، ازخود چل کر ترک حکومت کے اس ادارے کے ہاں حقوق حاصل کرنے گئے اور انہوں نے یہ فریضہ جمہوری پبلیکیشنز کی خواہش پر انجام دیا۔

”نطق“ کے اردو ایڈیشن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انقرہ میں جہاں اس کتاب کا راقم اور اس کامیاب ریاست کا بانی ابدی نیند سو رہا ہے، ”انت کبیر“ ، وہاں قائم بک شاپ میں یہ بھی موجود ہے۔

”نطق“ ایک نادر دستاویز ہے۔ یہ کوئی خطیبانہ گفتگو نہیں بلکہ نایاب دستاویزات کا شان دار مجموعہ ہے اور سب سے بڑھ کر ایک کامیاب رہبر، کامیاب ریاست کے بانی کا وژن ہے کہ ریاستیں اور قومیں کیسے ترقی کر سکتی ہیں۔

یہ ایک لیڈر کی کتاب ہے کہ جس کے بارے میں بانیٔ  پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی بیٹی کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ”کاش میں اتاترک جیسا ہوتا۔“

”نطق“ ہر اس شخص کو پڑھنی چاہیے جو ترکوں، ترکی اور آج کی اس کامیاب قوم کا جاننا اور سمجھنا چاہتا ہے۔ ایسی کتابیں ہی بعد میں اعلیٰ ادب کو جنم دیتی ہیں۔ ”نطق“ نے ترک ادب پر جس قدر اثرات مرتب کیے ہیں، وہ ایک تفصیلی موضوع ہے۔

میں اپنے مطالعے کی بنیاد پر یہ کہہ رہا ہوں کہ ”نطق“ کا مطالعہ کیے بغیر آج کے ترکی کو جاننا ایک فریب، ایک گمان ہے۔

”نطق“ غازی مصطفی کمال پاشا اتاترک
صفحات 576۔ قیمت 2400۔ جمبو سائز
ملنے کا پتہ : جمہوری پبلیکیشنز 2 ایوان تجارت روڈ، لاہور
0333-4463121

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply