غریب پاکستانی اور شاہی کتورے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے دوستوں کا خیال ہے کہ میری جانوروں سے محبت لازوال ہے ، اس لیے مندرجہ بالا عنوان کو ”شاہی درباریوں“ سے میری محبت کا اظہار سمجھا، پڑھا، لکھا اور دیکھا جائے۔ میری اس وضاحت کے باوجود اگر یہ عنوان کسی کی دل آزاری کا ساماں ٹھہرے تو میں پیشگی معافی چاہتا ہوں اور یہ امید رکھتا ہوں جیسے اس وطن عزیز کے ہر ”معزز شہری“ کو قبل از گرفتاری ضمانت مل جاتی ہے ویسے ہی میری پیشگی معافی بھی قبول ہو گی۔

میری بد بختی سمجھ لیجیے کہ کچھ روز سے نجی ٹی وی چینلز پر شاہی درباریوں کو اپنی حکومت اور حکمران کا دفاع کرتے ہوئے بار بار دیکھنے کا موقع مل رہا تھا تو خیال آیا کہ ایک کھلا خط  شاہی درباریوں کے نام لکھا جائے۔ پھر یہ سوچ کر خیال ترک کر دیا کہ ایسے خط مدتوں سے لکھے جا رہے ہیں مگر شوق حکمرانی رکھنے والوں پر اور اس طرح کے شاہی درباریوں پر ماضی بعید میں کوئی اثر ہوا اور نہ ہی ماضی قریب میں کوئی ایسی مثال دیکھنے کو ملی ، میں مستقبل بارے میں بھی ایسی کوئی امید نہیں رکھتا۔ کیونکہ ایک عام پاکستانی پیدا ہو گا، غربت کی چکی میں پسے گا اور مر جائے گا۔ کہانی ختم شد۔

اس لیے یہ تحریر مجھ ایسوں کے نام جو روز نجی ٹی وی چینلز پر بیٹھے شاہی درباریوں کی بونگیاں سنتے ہیں اور پھر انا للہ۔۔۔ پڑھ کر سو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں کیونکہ شاہی درباری جس پاکستان میں رہ رہے ہیں ، وہ پاکستان اور ہے اور غریب کا پاکستان اور۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے پاکستان کے زمینی حالات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس لیے عام پاکستانی پر لازم ہے کہ وہ درباریوں کی بات سمجھے۔ جب وہ بتائیں کہ تمام سبزیاں 30 روپے فی کلو گرام کے حساب سے دستیاب ہیں تو مان لیں کہ ان کے پاکستان اور ان کی جائز و ناجائز آمدنی کے مطابق تیس روپے سے کم ہی ہیں اور جب کوئی شاہی درباری یہ بتائے کہ حکومت وقت سبسڈی پر آٹا فراہم کر رہی ہے تو خاموش رہیں کیونکہ موصوف کو یقیناً ”سبسڈی“ مل رہی ہے۔

جب کوئی نیک بخت یہ مشورہ دے کہ اپنے اخراجات کم کریں تو خدارا اس کی بات کو صرف سنیں اور احتجاج نہ کریں کیونکہ ان درباریوں کی روزی روٹی ایسے ہی بیانات ہیں۔ جب کوئی شاہی درباری یہ کہتا پایا جائے کہ بجلی کے فی یونٹ نرخ میں اضافے کی سمری تو 2 روپے کچھ پیسے تھی پر جناب وزیراعظم سخت سیخ پا ہوئے اور منظوری دینے سے انکار کرتے ہوئے حکم دیا کہ اضافہ صرف 1 روپیہ 95 پیسے فی یونٹ کریں تو بس سننے والے رو دیا کریں۔

اگر شاہی درباری کہے کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اوگرا کا تجویز کردہ اضافہ تو 11 روپے 95 پیسے تھا مگر جناب وزیراعظم نے سخت برہم ہوتے ہوئے عوام کے وسیع تر مفاد میں فی لیٹر اضافہ صرف 3 روپے 20 پیسے مقرر کروایا، تو ایک زور دار قہقہہ لگا لیا کریں۔ درباری کی روزی روٹی کا سوال ہے اور ویسے بھی شاہی درباری نسل انسانی کی واحد نوع ہے جس نے کبھی اپنے آباء کا سر جھکنے نہیں دیا اور تاریخ شاید ہے کہ ہر دور میں شاہی درباری، کم ظرف ہی رہا کیونکہ ہر درباری جانتا ہے کہ شاہ ہو گا، دربار رہے گا تو ہی اس کی درباری قائم رہنی ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ درباری کتنا بھی وفادار ہو جائے ، اس کی عمر بہت قلیل ہوتی ہے۔ ہر درباری کو تاریخ ”فیضی“ کے نام سے ذلیل کرتی ہے اور وقت کا حق گو تاریخ میں ”شیخ احمد سرہندی“ کے نام سے امر ہو جاتا ہے ۔

ذکر وفاداری کا ہو رہا ہے اس لئے ایک دلچسپ ذاتی تجربہ قارئین کی نذر۔ میری ایک پالتو کتیا نے بچے دیے۔ جب جب میں کتیا سے لاڈ پیار کرتا یا اسے کچھ کھانے پینے کو ڈالنے لگتا تو کتورے (جن کا نام میں نے شاہی کتورے رکھا ہوا ہے) مجھ پہ غرانے لگتے حالانکہ کتیا کا کوئی ایسا ردعمل نہ آتا۔ مجھے اس بات کی سمجھ کبھی نہیں آئی کہ کتورے اپنی کتیا کے دفاع میں مجھ پر غراتے تھے یا ڈر کے مارے یہ حرکت کرتے تھے۔ اب شاہ کے درباری چینلز پر بیٹھ کر جو کچھ فرما رہے ہوتے ہیں ، کچھ ایسے ہی شش و پنج میں ان درباریوں کو سن کر پڑ جاتا ہوں کہ یہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ ان کا ذاتی خوف ہوتا ہے یا شاہ کا دفاع۔

ایک زمانہ تھا جب شاہی دربار لگتا تھا تو شاہی درباری بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور انعام واکرام کا حقدار ٹھہرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزماتے تھے۔ مگر حاکم وقت کے شاہی درباریوں کو دیکھ کر شہنشاہ اکبر کے نامور درباری بھی شرمندہ ہو جائیں اور ان پرلے درجے کے درباریوں کو اپنا وارث کسی صورت تسلیم نہ کریں۔

ویسے بھی ان درباریوں کی فنکاریاں دیکھ کر مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کے دربار کی عکاسی ہونے لگتی ہے جہاں بادشاہ دربار میں سہ پہر کے وقت بازی گروں، نٹوں، شعبدہ بازوں، نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے محظوظ ہوتا تھا۔ اس لیے برائے مہربانی حاکم وقت کے ان درباریوں کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیں۔ یہ وہ بھانڈ ہیں جن کا کام بادشاہ کو محظوظ کرنا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ درباری اپنے فن کا مظاہرہ دربار کی بجائے ٹی وی چینلز پر کرتے ہیں۔ اب وقت شام کا مقرر ہے اور کامیاب فن کاری کا معیار یہ کہ بادشاہ مسکرا دے اور عوام رو دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *