انقلاب ایران کے چار منفرد عناصر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انقلاب فرانس کے بعد لفظ انقلاب کو مثبت مفہوم ملا، اس سے قبل انقلاب کو شورش اور بغاوت کے معنی میں منفی حیثیت حاصل تھی۔ دنیا میں رونما ہونے والے چند انقلابات ایسے ہیں جن کو جامع انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ انقلاب فرانس، انقلاب روس اور انقلاب اسلامی ایران ایسے انقلابات ہیں جو اثر کے اعتبار سے بہت زیادہ قوی ثابت ہوئے اور اپنے اندر جامعیت رکھتے ہیں۔ تینوں انقلابات کی ماہیت میں بہت فرق موجود ہے لیکن ایک نکتۂ اشتراک بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تینوں انقلابات کے پیچھے ایک آئیڈیالوجی کار فرما ہے۔ تینوں انقلابات معاشرے کی تمام تہوں پر اثر انداز ہوئے اور معاشرتی بنیادوں کو تبدیل کیا۔

بعض اوقات ایسی اجتماعی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کو مغربی مفکرین سیاسی انقلاب کہتے ہیں، جن میں نظام سیاسی بدل جاتا ہے لیکن معاشرے کی تمام سطحوں میں تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ نظام سیاسی بدلنے سے نظام اجتماعی متاثر ضرور ہوتا ہے لیکن متاثر ہونے اور تبدیل ہونے میں بہت فرق ہے۔ مثلاً روسی انقلاب نے بھی معاشرے کی تمام سطحوں کو تبدیل نہیں کیا لیکن تاثیر کے لحاظ سے روسی انقلاب کو مؤثر ترین انقلاب کہنا غلط نہ ہو گا۔ روسی انقلاب نے بہت وسیع سطح پرنظریاتی میدان کو چھیڑا لیکن اس قدر قوی آئیڈیالوجی ہونے کے باوجود زیادہ اثر حالات کی وجہ سے ہوا، مثلاً جرمنی جس کو انقلاب کے لیے آمادہ ترین سرزمین سمجھا جا رہا تھا ، وہاں آج تک انقلاب نہیں آیا لیکن روس میں انقلاب آ گیا۔

البتہ انقلاب فرانس اور انقلاب اسلامی ایران کے لیے لازمی ہے کہ ان کو الگ نظریے سے سمجھا جائے اور ان کا تجزیہ و تحلیل کیا جائے، جس کے اندر معاشرے کی خصوصیات، عوامل و اسباب، معاشرے کی موجودہ حالت وغیرہ کا علمی بنیادوں پر بغور جائزہ لیا جائے۔ یہ انقلاب کیوں اور کیسے رونما ہوئے؟ کن نظریاتی اصول و قوانین کے تحت یہ اجتماعی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں؟

یہاں یہ نکتہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ دیگر حقائق و واقعات کے برعکس اجتماعی واقعات کی ماہیت یکسر مختلف ہوتی ہے، اجتماعی نظام بہت پیچیدہ ہوتا ہے اس لیے اجتماعی نظام کو سمجھنا اور تجزیہ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ جسمانی طور پر موجود حقائق کو سمجھنا آسان ہے، حتیٰ کہ اخلاقی حقائق کو بھی علامات کی وجہ سے پرکھا جا سکتا ہے لیکن اجتماعی واقعات کے اندر چونکہ انسانی ارادہ و اختیار شامل ہے ، اس لیے اجتماعی نظام بہت پیچیدہ ہے۔

دیگر سائنسی علوم کی طرح یہ ایسا نہیں ہے کہ ہم ایک مصنوعی اجتماعی نظام کو لیبارٹری میں تیار کر کے اس کا تجزیہ و تحلیل کر سکیں۔ اور چونکہ یہ قابل تجربہ نہیں ہے اس لیے پیچیدہ ہے اور ایک ہی مسئلے کے لیے کثیر آراء و نظریات سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں بعض اناڑی لوگ اجتماعی نظام کو سمجھنے کی صلاحیت سے خالی ہوتے ہیں لیکن ان موضوعات کو چھیڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ بعض کے نزدیک انقلاب غیر ارادی عوامل کے تحت وجود میں آتا ہے جبکہ بعض اس کو مکمل طور پر ارادی و اختیاری سمجھتے ہیں۔

انقلاب کی درست تعریف سمجھنا لازمی ہے، تعریف یعنی انقلاب ذات و ماہیت میں ہوتا کیا ہے؟ دوسرا، انقلاب اور مشابہات انقلاب میں کیا فرق ہوتا ہے؟ ان سوالوں کی روشنی میں کسی بھی چیز کی درست تعریف سمجھی جا سکتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے پہلے کہ اس چیز کے علل و اسباب کو بغور سمجھا جائے۔ انقلابی تھیوری کا اصل کام بھی درحقیقت ”کیوں“ کا جواب دینا ہے، مراحل انقلاب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

ہم نے قارئین کی خدمت میں کسی بھی انقلاب کے بنیادی اسباب و عوامل تفصیل میں ذکر کیے تھے جن کے عنوانات دوبارہ پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ ذہن میں یہ بنیادی اسباب تازہ ہو جائیں۔ موجودہ حالت پر عدم اطمینان، نئی اور منظم آئیڈیالوجی، انقلابی جذبہ، رہبری و قیادت، اور عوام کو آمادہ کرنے والے مراکز، وہ بنیادی ارکان ہیں جو کسی بھی انقلاب کے لیے زمین فراہم کرتے ہیں۔ ہم ان عوامل کی ایک ایک کر کے انقلاب اسلامی پر تطبیق کریں گے تاکہ ان بنیادی اسباب و عوامل کی روشنی میں انقلاب اسلامی کو سمجھا جا سکے۔

کسی بھی حکومت کی نسبت عدم اطمینان چند افراد کے اندر ہمیشہ موجود رہتا ہے، لیکن انقلاب کے لیے عدم اطمینان کو تب شمار کیا جا تا ہے جب یہ احساس افراد سے بڑھ کے معاشرے کے تمام طبقات کے اندر مکمل طور پر سرایت کر جائے۔ برطانیہ جب ایران کے اندر رضا شاہ پہلوی کو برسر اقتدار لایا تو حکومتی سطح پر بہت نمایاں تبدیلیاں کی گئیں، چند سالوں کے اندر کئی بار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ ایسی ہی ایک تبدیلی کے نتیجے میں ڈاکٹر مصدق جو نظریاتی طور پر نیشنلسٹ تھے، کو ایران کا پینتیسواں وزیراعظم بنایا گیا۔

ڈاکٹر مصدق، شاہ پرست نہیں تھے بلکہ قوم پرست تھے اور ایران اور ایرانی قوم کی ترقی ان کے پیش نظر تھی۔ اسی سلسلے میں ان کے نمایاں اقدامات میں سے ایک، ایران کے اندر پیدا ہونے والے تیل کو قانونی طور پر قومی ملکیت میں شامل کرنا ہے جو کہ اس سے پہلے ایران کی ملکیت نہیں تھا بلکہ تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں ایرانی حکومت کو ٹیکس کی صورت میں کچھ رقم ادا کیا کرتی تھیں اور تیل خود لے جایا کرتی تھیں۔ ڈاکٹر مصدق کے مذہبی افراد کے ساتھ بھی اچھے تعلقات تھے۔

برطانیہ کو ان تمام اقدامات اور تعلقات کی وجہ سے اپنا اثر و رسوخ کم ہوتا نظر آ رہا تھا اور وہی ہوا کہ ڈاکٹر مصدق کی تحریک کے نتیجے میں شاہ ایران کو ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ نے برطانیہ سے میدان حاصل کر لیا اور ایران کے اندر فوجی بغاوت کروا کر ڈاکٹر مصدق کو قید کروا دیا، شاہ ایران کو اقتدار واپس مل گیا۔

اس مرتبہ شاہ ایران نے اپنے اقتدار کے خلاف ہر طرح کی آواز کو دبانے کے لیے بہت سخت اقدامات کیے، مثلاً خفیہ ادارے ساواک کا قیام عمل میں لایا گیا، لوگوں سے اظہار رائے کی آزادی مکمل طور پر چھین لی گئی۔ جس کے بعد ملک کے اندر اتنا گھٹن زدہ ماحول بن گیا کہ ایک گھر کے اندر رہنے والے افراد بھی ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کر سکتے تھے۔ شاہ ایران نے ایران کو پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دیگر انقلابات کے برعکس، انقلاب اسلامی ایران واحد انقلاب تھا جہاں اٹھانوے فیصد لوگ حکومت سے شدید نالاں تھے۔ حکومت کا اقتصادی، سیاسی، ثقافتی ڈھانچہ نہایت کمزور تھا جس نے عوام کے عدم اطمینان کو مزید تقویت بخشی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات کی نگاہ میں شاہ کی حکومت کے جواز ختم ہونے لگے۔ ایسی صورتحال میں ایک نئی آئیڈیالوجی اور راہ کو میدان ملا جس کے عوام شدت سے منتظر تھے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران کے اندر کمیونسٹ اور نیشنلسٹ تحریکیں بہت پہلے سے اپنے لیے انقلابی میدان ہموار کر رہی تھیں، جب مذہبی لوگوں نے انقلاب کا سوچا بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ کمیونسٹ نظریہ سازی کا بڑا مرکز ایران کو ہی سمجھا جاتا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی ”حزب تودہ“ بہت عرصہ قبل انقلابی سفر کا آغاز کر چکی تھی۔ اسلام بھی موجود تھا لیکن اسلام کو قابل نفاذ آئیڈیالوجی کی صورت میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔ امام خمینی کی طرف سے اسلامی آئیڈیالوجی کو پیش کیا گیا جس کو عوام اور اسلام مخالف نظریات کے سامنے جن افراد نے بہترین انداز میں پیش کیا ، ان میں ڈاکٹر علی شریعتی اور شہید مرتضیٰ مطہری سرفہرست ہیں۔

اسلامی آئیڈیالوجی نے بہت جلد عوام کے اندر مقبولیت حاصل کی اور نیشنلسٹ اور کمیونسٹ نظریات کو جلد ہی میدان سے باہر کر دیا۔ جس کی ایک وجہ اسلامی آئیڈیالوجی کی جامعیت تھی ، جو بعد میں مستقل شعار میں زبان زد عام ہو گئی۔ استقلال، آزادی، جمہوری اسلامی، یہ شعار گلی گلی گونجنے لگا اور دیگر تمام نظریات اور ان کے شعاروں کو معدوم کرتا چلا گیا۔

انقلاب اسلامی کے اندر موجود چار جامع عناصر، دینی و الٰہی حکومت، استقلال، آزادی اور عدالت نے انقلاب اسلامی کو دنیا کے کسی بھی انقلاب سے ممتاز کر دیا کیونکہ کہ کسی بھی اور انقلاب کے اندر یہ تمام عناصر یکجا نہیں ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply